بندر درویش جانور ہے

(آج آپ یوم خواتین کے تعلق سے تحریریں پڑھ پڑھ کے پک جائیں اس لیے محض آپ کی تفریح طبع کیلئے یہ تحریر پیش خدمت ہے، ورنہ خواتین کے احترام کے ہم بھی قائل ہیں)

ممبئی سے ریحان خان

بندر ایک مختلف گیئر والا جانور ہے جس میں معصومیت، شرارت، نقالی، ہوس اور تفکر کے مختلف گیئر ہوتے ہیں۔ آن کی آن میں وہ گیئر بدل کے اپنی کیفیتوں کو تبدیل کرلیتا ہے۔ یہ تبدیلی اس کی عمر کے ساتھ بتدریج بھی پروان چڑھتی ہے۔ نوعمر بندر معصوم ہوتا، اس سے تھوڑا ذیادہ عمر والا بندر شریر کے ساتھ نقال بھی ہوتا ہے اور سن بلوغت پار کرنے کے بعد وہ ہوس کا پجاری بن کر رہ جاتا ہے۔ عمر کے آخری پڑاؤ میں وہ مفکر بن جاتا ہے۔ اصل ارتقاء یہی ہے اور ایسا ہر جانور کے ساتھ ہوتا ہے مثلاً نو سو چوہے کھا کر بلی حج کیلئے نکل پڑتی ہے اور جوانی میں سارے کالے کام کرنے والے انسان عبادت گاہوں کی پہلی صف میں نظر آتے ہیں۔
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
پروفیسر چارلس ڈارون کے مطابق انسان بندر کی اولاد ہے لیکن ڈارون نے اپنے اس نظریہ ارتقاء کے حق میں بندروں کی جانب سے اثبات فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ عدل کا تقاضہ تو یہ تھا کہ بندر پر اتنا بڑا الزام عائد کرنے سے قبل اس کی رائے بھی لے جاتی کہ وہ ایٹم بم، بارود اور کشت و خوں والے انسان کو اپنی اولاد تسلیم کرتا بھی ہے یا نہیں،، بندر ان چیزوں اور انہیں بنانے والوں سے نفرت کرتا ہے۔ بندروں کا تو نہیں پتہ البتہ گھوڑوں نے ارتقاء کی راہ پر چلنا شروع کیا تھا اور پچھلی دو ٹانگوں پر کھڑے ہونے کی اچھی خاصی مشق بھی کرلی تھی کہ عین وقت پر سورۃ العادیات نازل ہوگئی اور گھوڑوں نے انسان نہ بننے میں ہی عافیت محسوس کی کہ ناشکرا انسان بن کر بندر کی اولاد کہلانے سے اچھا ہے تمام عمر گھوڑا ہی رہا جائے۔ بے شک انسان ناشکرا ہے کہ خدا نے اسے اشرف المخلوقات بنایا اور وہ کہتا پھر رہا ہےکہ انسان بندر کی اولاد ہے۔ خود کو بندر کی اولاد کہنے والے انسان کی کیفیت علامہ اقبال کے اس خچر کی سی ہوتی ہے جو شیر سے عاجزانہ انداز میں کہتا ہے
میرے ماموں کو نہیں پہچانتے شاید حضور
وہ صبا رفتار شاہی اصطبل کی آبرو
بندر درویش ہوتا ہے اس لئے بارش کے بعد بھی اس کا گھر نہیں بنتا، درحقیقت یہ اس کی کاہلی ہوتی ہے جسے وہ درویشی کے پروپیگنڈے میں چھپاتا ہے۔
بچپن میں ٹوپیوں کے تاجر اور بندروں کے پنگے کی کہانی پڑھی تھی کہ تاجر اپنی ٹوپی اتار کر پھینکتا ہے تو بندر بھی اس کی ٹوپیاں واپس کردیتے ہیں۔ بندروں نے اس عظیم سانحے سے سبق حاصل کیا ہے اور اب وہ کسی سے چھینی ہوئی چیز ہرگز واپس نہیں کرتے۔ کہانیوں کے علاوہ بندر سے محاورے اور کہاوتیں بھی منسوب ہیں جس میں "طویلے کی بلا بندر کے سر” سب سے ذیادہ مستعمل ہے۔ اس محاورے کا بیک گراؤنڈ یہ ہے کہ قدیم زمانے میں توہم پرستی تھی کہ کوئی بلا آتی ہے تو وہ بندھے ہوئے جانوروں بشمول بکریاں، بھینسیں، گھوڑےوغیرہ کو ہلاک کردیتی ہے، اس بلا کو کم ازکم ایک جانور کی قربانی درکار ہوتی ہے۔ طویلے سے مراد ، اصطبل کی قسم کی ایک جگہ ہے جس میں جانور باندھے جاتے ہیں۔ اس جگہ بندر کو باندھ دیا جاتا تھا، کیوں کہ عقیدے کے مطابق بلا کو کسی بھی جانور کی قربانی درکار ہوتی تھی، لوگ چاہتے تھے کہ قیمتی مویشی بچ جائیں، اس لیے بندر کو باندھ دیا جاتا تھا اس طرح طویلے کی بلا بندر کے سر چلی جاتی تھی۔ لیکن فی زمانہ یہ محاورہ الٹ گیا ہے اور بندر کی بلا طویلوں اور گئو شالوں کے سر جانے لگی ہے اور بندر یوگیوں کی گودیوں میں عیش کررہے ہیں۔
انسان کہتے ہیں "بندر کیا جانے ادرک کا سواد” اور اور بندر کہتے ہیں انسان کیا جانے اصلی سلاجیت کا کمال،،، اور دونوں ہی اپنی اپنی جگہ صحیح کہتے ہیں۔
بندر کالے منہ کے اور لال منہ کے ہوتے ہیں جس طرح انسان مختلف رنگوں کے ہوتے ہیں لیکن بندروں میں انسانوں کی نسلی عصبیت نہیں پائی جاتی اور ایشیائی بندر افریقی بندر سے اپنے پرائیویٹ حالات اور افیئرس دوستانہ فضا میں ڈسکس کرلیتا ہے۔
سکندر یونانی جب ہندوستان آیا تو اس کے سپاہیوں نے درختوں پر لٹکے بندروں کو گھات لگائے بیٹھے دشمن سمجھ کر ان پر تیر برسانے شروع کردیے، ایسی مشکل حالات میں ایک سینئر بندر نے سکندر کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کیلئے رضامند کیا اور بڑی مشکل سے سکندر کو باور کرا سکا کہ وہ انسان نہیں ہیں، ورنہ سکندر تو مانتا ہی نہیں تھا۔ پھر سکندر نے تیر اندازی روک کر لاٹھی چارج کا حکم دیا اور اپنی فتوحات کی ڈائری میں ایک فتح کا اضافہ کرلیا۔ ارسطو کا شاگرد بھی جینئس تھا اسے اندازہ رہا ہوگا کہ مستقبل میں چارلس ڈارون نامی مخلوق پیدا ہونے والی ہے۔
ایک چڑیا گھرکے گیٹ پر ایک صاحب اپنے بارہ بچوں کے ساتھ بضد تھے کہ بچے بندر دیکھنا چاہتے ہیں اور گارڈ انہیں سمجھا رہا تھا کہ چڑیا گھر بند ہوگیا ہے اب اندر داخلے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اس کے باوجود وہ صاحب بضد تھے۔ اچانک گارڈ کو طیش آیا اور وہ چڑیا گھر سے بندر ہی باہر لے آیا۔ بچوں نے بندر دیکھا لیا اور بندر نے بارہ بچوں کے والد صاحب کو دیکھ لیا اور سب شاداں و فرحاں اپنے اپنے گھروں کی جانب لوٹ گئے۔ ایسے زبردست سینس آف ہیومر والے انسان کو چڑیا گھر میں گارڈ کی نوکری کرتے دیکھ کر افسوس ہوا۔
بندر کی دو آنکھیں، دو کان، چار پیر اور ایک عدد دم ہوتی ہے۔ اگلے دو پیروں سے بندر ہاتھوں اور دم سے ہینگر کا کام لیتا ہے۔ ہر بندر کی ایک بندریا ہوتی ہے جو اس پر غراتی ہے جواب میں بندر رومانی مکالمے کہتے ہوئے آنکھوں کو گول گول گھماتے ہوئے غلیظ اشارے کرتا ہے۔ بندر کے اسیکنڈلس بھی ہوتے ہیں لیکن بندروں سے حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا اس لئے اس کی سی ڈی نہیں بنتیں۔ الغرض بندر ایک مرنجاں مرنج جانور ہے جس کی موجودگی میں Waqas Ahmad کی کمی نہیں محسوس ہوتی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button