جنگجو حکمرانوں کا انجام

ناقابل تردید/ مصطفےٰ صفدر بیگ

اسپارٹاکس نے ایک صدی قبل مسیح میں اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک گلیڈی ایٹر (غلام جنگجو) کے طور پر کیا،وہ اس کیریر میں ہمیشہ ناقابل شکست رہا، رِنگ کے اندر اس نے اپنے سینکڑوں ”غلام بھائیوں“ کو کھلی لڑائی میں موت کے گھاٹ اتارا، لیکن وہ کھیل جس سے اہل رومہ حظ اٹھاتے تھے، وہ اسپارٹاکس کیلئے انتہائی اذیت ناک ہوتا چلا جارہا تھا، اس اذیت سے اکتا کر اسپارٹاکس نے بغاوت کردی، اسپارٹاکس نے بہت سے غلاموں کو رہائی دلوا کر اپنے ساتھ ملالیا اور رومی فوجی جتھوں، دستوں، لشکر اور شہروں پر حملے شروع کردیے۔ رومیوں پر حملے کرنا، جنگوں میں مخالفین کے حلق میں تلوار گھونپنا اور آنکھوں میں خنجر اُتارکر انہیں تڑپا تڑپا کر مارنا اسپارٹاکس کو بہت محبوب تھا، وہ رومیوں جرنیلوں کے سر کاٹ کر مسلسل روم کو بھیجتا رہا اور یوں تین سال تک اسپارٹکاکس رومیوں کیلئے دہشت کی ایسی علامت بنا رہاکہ رومی نیند سے چیخیں مارتے ہوئے اُٹھ بیٹھتے تھے، اسپارٹاکس کی تیسری بڑی اور آخری لڑائی جولئیس سیزر کے ساتھ ہوئی، تاریخ میں اس جنگ کو ”تیسری جنگ غلاماں “ کہا جاتا ہے ،جس میں وہ سیزر کے ہاتھوں مارا گیا، یہیں سے جولئیس سیزرکا عروج شروع ہوا، سیزر اِس سے پہلے روم کا ایک عام سینیٹر اور جرنیل تھا، لیکن اس اسپارٹاکس کے خلاف جنگ میں فتح سے سیزر نے اپنے تمام ہم عصرسیاستدانوں اور رومی سینیٹ میں مخالفین پر اپنی دھاک بٹھادی،جس کے بعد سیزر پہلے روم کا ڈکٹیٹر بنا اور پھر شہنشاہ بن گیا، جولئیس نے اس کے بعد بھی کئی جنگیں لڑیں اور ہر جنگ میں فاتح رہا، سیزر سمجھتا تھا کہ جنگوں میں یہ فتوحات اسے سیاسی طور پر لافانی بنادیں گی لیکن جولئیس کا انجام انتہائی المناک ہوا،روم کے خائف سینیٹروں سینیٹ کے اندر ہی اُس کا مقتل سجایا ۔ سیزر کی پیٹھ میں آخری خنجر اس کے اپنے منتخب کردہ سینیٹر بروٹس نے گھونپا۔
عسکری مہموں میں فاتح بن کر لوٹنے والوں کا ایسا المناک انجام صرف جولئیس سیزر کا ہی نہیں ہوا، بلکہ تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہے، محمد بن قاسم نے آٹھویں صدی عیسوی کے اوائل میں ہندوستان کی فتح کا دروازہ کھولا، لیکن سندھ کی فتح کے چند سال بعد ہی اسے واپس بلواکر ڈرموں میں بند کرکے تڑپا تڑپا کر مار دیا گیا ، موسی بن نصیر نے یورپ میں فتوحات کے جھنڈے گاڑے تھے، ابن نصیر اسپین فتح کرکے لوٹا تو تمام دولت اور اعزازات چھیننے کے بعد اندھا کرکے اُسے دمشق کی گلیوں میں بھیک مانگنے کیلئے چھوڑ دیا گیا، اِن دونوں نامور جرنیلوں کو مملکت کیلئے خطرہ سمجھ لیا گیا تھا۔
دور کیوں جائیے بیسویں صدی کو ہی لے لیں! سر ونسٹن چرچل کو بیسویں صدی کا سب سے عظیم اور مدبر "وزیراعظم” سمجھا جاتا ہے، سر ونسٹن چرچل کے دور میں برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کی قیادت کی، اس جنگ میں دنیا کی تین بڑی طاقتوں جرمن، اٹلی اور جاپان کو اتحادیوں کے خلاف منہ کی کھانا پڑی تھی اور تاج برطانیہ مکمل محفوظ قائم رہا تھا،لیکن 1945 میں برطانیہ میں انتخابات ہوئے تو عالمی جنگ کا فاتح سرونسٹن چرچل بری طرح انتخابات ہار گیا، دوسری جنگ عظیم میں سلطنت جاپان کی عبرتناک شکست کے معمار امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ 1945 کے انتخابات تو جیت گیا لیکن اندرونی اور ذہنی دباو اتنا زیادہ تھا کہ چند ماہ بعد ہی برین ہیمرج کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلا گیا، یہی حال دوسری جنگ عظیم جیتنے والے تیسرے اتحادی سووین یونین کے مرد آہن اسٹالن کا ہوا، اسٹالن کی بائیوگرافی میں میکملن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسٹالن سے جان چھڑانا مشکل ہوگیا تو نائب وزیراعظم پالووف بیریا کے کہنے پر اسے زہر دیدیا گیا، جو اعصابی ہیمرج کا باعث بنا اور یوں اسٹالن ماضی کا حصہ بن گیا۔
اب پاکستان کو ہی لے لیں! سابق فوجی حکمران ایوب خان آخری دنوں میں بہت کہتے رہے کہ انہوں نے ناصرف ملک میں صنعتی ترقی کا پہیہ رواں دواں کیا بلکہ بھارت کیخلاف 1965کی جنگ بھی جیتی لیکن اس کے باوجود 1965 کی جنگ کے فورا بعد ایوب خان کا اقتدار ڈولنے لگا اور بالآخر انہیں ساٹھ کی دہائی ختم ہونے سے بہت پہلے ہی اقتدار کے ایوانوں سے اپنا بوریا بستر گول کرنا پڑا۔1971 کی جنگ میں جب پاکستان کو شکست سے دوچار ہونا پڑا تو بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی تھیں،اس وقت جنگ کو اپنا سیاسی ہتھیار بنانے والے اٹل بہاری واجپائی لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر تھے، پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے پر جہاں اندرا گاندھی نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبونے کا دعوی کیا وہیں اٹل بہاری واجپائی جیسے کٹر مخالف بھی اندرا گاندھی کو دُرگا دیوی کا خطاب دینے پر مجبور ہوگئے، لیکن اس ”مقبولیت“ کے باوجود کانگریس کو 1972 کے انتخابات جیتنے کیلئے دھاندلی کا سہارہ لینا پڑا، جس کا باقاعدہ مقدمہ چلا اور 1975 میں الہ آباد ہائیکورٹ نے اندرا گاندھی کا انتخاب کالعدم قرار دے دیا۔ اندرا گاندھی اور ذوالفقار علی بھٹو دونوں ہی ”جنگی “ مزاج رکھنے والے سیاسی حکمران تھے، دونوں کی غیر طبعی موت اور ان کے انجام سے بھی ساری دنیا آگاہ ہے، اسی طرح 1990 میں سوویت یونین کے خلاف افغانستان کی جنگ جیتے والے ”مجاہدین“ کی حکومت بنی تو چند ماہ میں ہی دال جوتوں میں بٹنے لگی اور حکومت کا شیرازہ بکھر گیا، جس کے بعد مجاہدین کس طرح دہشت گرد قرار پائے یہ تو اس پر تو آج بھی بہت کچھ لکھا جارہا ہے۔
تاریخ کے سینکڑوں جنگجو حکمرانوں کے برعکس بیسویں صدی نے جو چار بڑے راہنماءپیدا کیے ہیں، وہ چاروں ہی جنگ پر یقین نہیں رکھتے تھے، چاروں ہی عدم تشدد کے پیروکار تھے، یہ چار راہنماءقائداعظم محمد علی جناح، موہن داس کرم چند گاندھی، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور نیلسن رولی ہلالہ منڈیلا ہیں، جناح، گاندھی، لوتھر اور منڈیلا نے اپنی قوموں کیلئے جو بے مثال کامیابیاں حاصل کیں وہ جنگوں میں کشت و خون اور غارت گری سے نہیں بلکہ سیاسی جدوجہد سے حاصل کیں۔
تاریخ کا دامن ایسی مثالوں سے بھرا ہوا ہے کہ جنگ ہارنے والوں کو سکون ملتا ہے نہ جنگ جیتنے والوں کو ابدی خوشی ملتی ہے۔یہ بات جنوبی ایشیا کو جنگ کی بھٹی میں جھونکنے کے خواہش مندوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ جنگی ماحول پیدا کرکے انتخابات تو شاید جیت لیے جائیں لیکن لوگوں کے دل نہیں جیتے جاسکتے۔ جنگی جنونیوں کو سمجھنا چاہیے کہ جنگوں کی جیت پر واہ واہ ہمیشہ عارضی ثابت ہوتی ، لیکن جنگوں کی ٹھاہ ٹھاہ کے منفی اثرات بہت دیرپا اور بھیانک ہوتے ہیں، اس لیے دعا کرنی چاہیے کہ جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے۔


متعلقہ مضامین