نیشنل ایکشن پلان کا مستقبل؟

اعزازسید/ سیاسی افق 

آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ ہوا تو دھشتگردی کے خلاف قومی بیانیہ نیشنل ایکشن پلان کے ۲۰ نکات کی صورت قوم کے سامنے آیا۔ اس وقت کی حکومت نے دھشتگردی کی روک تھام میں کچھ تیز اقدامات بھی کیے اور کچھ ٹھوس نتائج بھی سامنے آئے مگر جوں جوں قوم کے حافظے سے پشاور سکول کا اندوہناک واقعہ دھندلا تا گیا توں توں د ھشتگردی کے خلاف اقدامات اور نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد بھی غیر ضروری اور غیر موثر ہوتا گیا۔

سیاسی مدو جزر اور عام انتخابات کے بعد نئی حکومت وجود میں آئی تو پہلا چیلنج دھشتگردی نہیں بلکہ معیشت ہی تھا۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ٹامک ٹوئیاں ماری جارہی تھیں کہ بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ کے مقام پر نشانہ بنا دیا گیا۔ نتیجے میں دو نیوکلئیر ریاستیں پاکستان اور بھارت آستینیں چڑھائے ایک دوسرے کے سامنے آکھڑی ہوئیں۔ ظاہر ہے پہل بھارت نے کی اور بڑے ہونے کے گھمنڈ میں آکر پاکستان پرفضائی حملہ کردیا۔ خدا کے فضل اور پاک فضائیہ کے جانبازوں کی مدد سے قوم کے سر فخر سے بلند ہوئے ۔ نہ صرف ایک بھارتی طیارہ پاک سرزمین پر گرایا گیا بلکہ اس کا پائیلٹ بھی گرفتار کرلیا گیا۔ 

لیکن مسئلہ پاک بھارت تنازعے تک ہی محدود نہیں تھا بھارت کی طرف سے حملے کے بعد پلوامہ حملے کا ڈوزئیر دیا گیا اور الزام پاکستان کی سرزمین پر موجود کالعدم جیش محمد پر عائد کیا گیا۔ پلوامہ حملے میں شامل خودکش حملہ آور عادل احمد ڈار کےمرنے سے قبل ریکارڈ کرائے گئے بیان کی ویڈیو میں اسی کالعدم جماعت کا جھنڈا بھی واضع طور پر نظر آرہا ہے۔ بھارتی الزامات صرف پاکستان کو ہی ارسال نہیں کیے گئےتھے ان کا واویلا عالمی سطح پر ڈالا  گیا تھآ۔ 

یہ ساری صورتحال اس لیے بڑی ناذک تھی کہ عالمی برادری پہلے ہی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور ایشیا پیسفک گروپ جیسے اداروں کے زریعے دھشتگردی کی روک تھام کے حوالے سے  پاکستانی اقدامات کی نگرانی کررہی تھی۔ ہمارا ماضی کا ریکارڈ بھی اتنا اچھا نہیں تھآ اسی لیے ہمیں بلیک لسٹ میں ڈالے جانے کا خطرہ بھی تھا جو آج بھی موجود ہے ۔ بلیک لسٹ کا مطلب عالمی مالیاتی پابندیاں سمجھا جائے۔

اس تناظر میں پاکستان نے ایک بار پھر دھشتگرد تنظیموں کے خلاف اقدامات کافیصلہ کیا اور اس پرعملدرآمد کا آغاز بھارت کی طرف سے دئیے گئے ڈوزئیر کے زریعے کیا۔ 

بھارتی ڈوزئیر میں پلوامہ حملے میں پاکستان یا کسی پاکستانی کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت تو موجود نہیں تاہم ۲۲ کے قریب افراد کو ممکنہ طور پر اس معاملے سے منسلک قراردیا گیا ہے اور ان کے نام بھی ڈوزئیر میں لکھے گئے ہیں۔ پاکستان نے فوری اقدامات کرتے ہوئے ۴۴ افراد کو مینٹینینس آف پبلک آرڈر قانون کی شق ۳ کے تحت ۳۰ دن کے لیے حراست میں لیا اور اگلے دوروز میں مزید ۱۲۲ افراد کو بھی اسی شق کے تحت حراست میں لے لیا گیا۔ 

دراصل تازہ کاروائیاں اس لیے بھی ضروری ہیں کہ ۲۵ مارچ کو ایشیا پیسفک گروپ کا ایک اہم وفد پاکستان پہنچ رہا ہے ۔ یہ وفد پاکستان کی طرف سے کالعدم تنظیموں اور ان سے منسلک افراد کے خلاف کی جانے والی کاروائیوں کا جائزہ لے گا۔ ظاہر ہے یہ تمام اقدامات ریاست پاکستان کی طرف سے اس وفد کے سامنے پیش کیے جائیں گے ۔ 

حالیہ پاک بھارت تنازعہ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا سب سے مثبت پہلو یہ تھا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے پر حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آئیں۔ پوری پارلیمینٹ نے پاکستان کی مسلع افواج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ پارلیمینٹ میں ہونے والی تقاریر میں دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی ضرورت پرذوردیا گیا ۔

پارلیمینٹ کے سیشنز کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں ہونے والی کورکمانڈرز کانفرنس میں بھی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لیے سویلین حکومت کابھرپورساتھ دینے کا اعلان بھی کردیا گیا۔ 

یہ سب مثبت باتیں ہیں مگر حکومت کی سنجیدگی کا نیشنل ایکشن پلان کے ۲۰ نکات سے موازنہ کرلیجیے تو آپ سر پیٹ کر بیٹھ جائیں گے ۔ اس پلان میں سب سے پہلے نمبر پر دھشتگردی کی روک تھام کے لیے نیشنل کاوںٹرٹیررازم  اتھارٹی یعنی نیکٹا کے ادارے کو موثر بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ حکومت نے اس ادارے کا سربراہ ایسے شخص کو لگا یا جسے دھشتگردی کی روک تھام سے دلچسپی ہے نہ کوئی خاص تجربہ ۔

صورتحال یہ ہے کہ نیکٹا کو گریڈ بائیس میں رئٹائرڈ ہونے والے سینئر پولیس افسر احسان غنی کی سربراہی میں سابق دور میں جتنا موثر اور متحرک بنایا گیا تھا آج یہ ادارہ اتنا ہی غیر موثر اور اپاہج بنا دیا گیا ہے ۔ نیکٹا نے انسداد دھشتگردی اور کالعدم تنظیموں سے متعلق بیماری کی تشخیص کرنا تھی وہ خود بیمار ہوگیا۔ 

اسی نیشنل ایکشن پلان کے ۲۰ میں سے ۱۰ نکات براہ راست کالعدم تنظیموں سے متعلق ہیں ۔ ان پر مکمل اور موثر عملدرآمد تو نہیں ہوا تاہم کچھ نکات پر جزوی عملدرآمد کیا گیا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے نگرانی کا طریقہ کار ہی غائب ہوچکا ہے ۔ 

حکومت نے سابق دور میں نیشنل ایکشن پلان پر نگرانی کا کام وزارت داخلہ سے لیکرنیشنل سیکیورٹی ڈویژن کے سپرد کیا تھا جسے نیشنل سیکیورٹی ایڈواِئزر چلاتا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل رئٹائرڈ ناصر جنجوعہ کی رئٹائرمنٹ کے بعد نئی حکومت نے ابھی تک اس عہدے پر کسی کو تعینات ہی نہیں کیا۔ 

سابق آئی بی چیف اعجاز شاہ عام انتخابات کے بعد پنجاب سے منتخب ہوکر قومی اسمبلی میں آئے تو توقع تھی کہ حکومت انہیں وزارت داخلہ کا قلمدان دے گی کیونکہ وہ آئی ایس آئی اور ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب وغیرہمیں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں مگروزیر اعظم نے یہ قلمدان اپنے پاس ہی رکھا۔ اب اعجاز شاہ کا نام نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کے نا م پرسنا جارہا ہے وزیراعظم نے ایک تقریب میں اسکا اعلان بھی کردیا مگر نوٹیفیکیشن ابھی تک جاری نہیں ہوا۔ 

نیشنل ایکشن پلان پر وزارت داخلہ کوارڈینینش کاکام کررہی ہے مگر وزیر مملکت ایک ایسے شخص کو تعینات کیا گیا ہے جو اس حساس شعبے کی اہلیت رکھتا ہے نہ تجربہ۔ تاہم سیکرٹری داخلہ میجر رئٹائرد اعظم سلیمان معاملات کو خوب سمجھتے ہیں اسی لیے کچھ بہتری کی امید کی جاسکتی ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ وزارت داخلہ عملی طور پر سیکرٹری داخلہ ہی چلا رہے ہیں۔                                           

نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کی تعیناتی اور وزارت داخلہ میں ایک موثراور کل وقتی وزیروقت کی ضرورت ہے ۔ مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ جنوری ۲۰۱۵ میں بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان کا ازسر نو جائزہ لے کر اس میں ترامیم عمل میں لائی جائیں اور ان پر عملدرآمد اور نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔ اس سارے کام کے لیے نیشنل ایکشن پلان ترتیب دینے والے تمام دماغوں کو ایک بار پھر اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے ۔ جتنی جلدی یہ کام کرلیا جائے اتنا ہی اچھا ہے یہ نہ ہو کہ بھارت یا افغانستان میں دھشتگردی کی کوئی اور بھیانک کاروآئی رونما ہو اور پاکستان ایک بار پھرکسی دلدل میں پھنس جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button