ججوں کے خلاف ریفرنسز کے فیصلوں کا مطالبہ

پاکستان میں وکیلوں کو کام کا لائسنس جاری کرنے والی ملک گیر تنظیم پاکستان بار کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اعلی عدلیہ کے تمام ججوں کے خلاف زیرالتوا ریفرنسز کو جلد نمٹائے ۔ بار کونسل نے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے طریقہ کار اور حدود طے کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔

سپریم کورٹ اسلام آباد کی عمارت میں قائم پاکستان بار کونسل کے دفتر میں تنظیم کے وائس چیئرمین امجد شاہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ مطالبات کیے ۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ نے بتایا کہ ملک بھر کی تمام بار کونسل کے نمائندگان کے دو روزہ اجلاس میں اعلی عدلیہ کے ججوں کے احتساب اور سو موٹو نوٹس کی حدود کے تعین کے معاملات پر بحث کی گئی ۔

بار کونسل کے دیگر ارکان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وائس چیئرمین امجد شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کو ازخود نوٹس اختیارات کے حوالے سے پیرامیٹرز طے کرنے چاہئیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان بار کونسل ازخود نوٹس اختیارات کے پیرامیٹرز طے کرنے کا پرزور مطالبہ کرتی ہے۔‘

امجد شاہ کا کہنا تھا کہ اعلی عدلیہ میں ججز تعیناتی کے لیے آئین کے آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ’اس عمل میں بار کونسلز کا کردار بڑھایا جائے۔‘

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے کہا کہ ججز احتساب سے متعلق آرٹیکل 209 میں بھی ترمیم کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ججز فوت ہو جاتے ہیں اور ان کے خلاف ریفرنس زیر التواء رہتے ہیں۔‘

امجد شاہ نے مطالبہ کیا کہ ریفرنس کا فیصلہ ہونے تک جج کو معطل رہنا چاہیے۔

وائس چیئرمین نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ججز کے خلاف دائر تمام ریفرنسز کا فیصلہ کرے، کسی جج کے خلاف شکایت پر فیصلے کیلئے معیاد کا تعین ہونا چاہیے۔

وائس چیئرمین نے کہا کہ نظام عدل کو اصل خطرہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر سے ہے۔ ’قوانین میں ترامیم لاکر ہڑتالوں کو کم کیا جائے۔‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقننہ پروسیجرل لاز میں حالات کو دیکھتے ہوئے ترمیم کرے۔

انہوں نے کہا کہ ’عدلیہ سے مطالبہ ہے ججز کی تقرری بارے طریقہ کار میں شفافیت برتی جائے۔‘ امجد شاہ کا کہنا تھا کہ اعلی عدلیہ میں جج لگانے کے لیے بار اور عدلیہ کا مساوی کردار ہونا چاہیے ۔

امجد شاہ نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن رولز سنہ 2010 میں ترمیم کیلئے تجویز دی ہے، آئین کے آرٹیکل 175 اے میں ترمیم کیلئے حکومت سے بھی رابطہ کریں گے۔

ادھر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کااجلاس 11 مارچ کو اسلام آباد میں طلب کیا ہے ۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی زیر صدارت اجلاس میں تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان شرکت کریں گے ۔
اجلاس کے ایجنڈے میں ہر ضلع کی سطح پر ماڈل کورٹس کے قیام، پولیس ریفامز، ماتحت عدلیہ اور خصوصی عدالتوں می خالی آسامیوں کو پر کرنے کے لیے تجاویز اور سفارشات پر غور شامل ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button