ثاقب نثار کے جانے کے بعد

تقریباً آج سے ایک سال قبل ادویات کی رجسٹریشن کرنے والے ادارے میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کی نشست خالی پڑی تھی ۔ قانونی طور پر مذکورہ ادارہ وزارت صحت کے ماتحت ہے ۔ وقتی طور پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کے سربراہ نہ ہونے کی وجہ سے ایک سفید داڑھی والے ضعیف ونحیف شخص کو سی ای او تعینات کیا جاتا ہے ۔

ڈریپ کے نئے سی ای او صاحب کوالٹی اینڈ انشورنس کے ڈائیریکٹر کے عہدے پر بھی ساتھ ساتھ تعینات رہتے ہیں ۔ مملکت خداد کی ایک بااثر شخصیت سے بہترین تعلقات کی بناء پر حضرت کی وقتی تعیناتی سے باقاعدہ تعیناتی عمران خان اور ان کی کابینہ کر دیتی ہے جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جاتا ہے۔ سی ای او پھر صرف سی ای او نہیں رہتے بلکہ ایپلیٹ بورڈ کے چئیرمین بھی ہوتے ہیں ۔

شیخ اختر کے سی ای او ہونے کا نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہے اور میڈیا روایتی طور پر پرانی خاک چھان کر نیب کی ایک انکوائری رپورٹ تلاش کر لاتا ہے جس میں شیخ اختر کو فوت قرار دیا گیا تھا ۔ وزن وزن کی بات ہے قانون کے ہاتھ لمبے ہونے کے باوجود صرف ایک شخص کے تعلق نے شیخ عثمان کا گریبان محفوظ رکھا، شیخ عثمان سی ای او کے عہدے پر فائز ہوئے ہی تھے کہ سپریم کورٹ میں ایورسٹ فارما کے مالکان کی شامت آئی ۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیس سنا اور عثمان نامی شخص کو عدالت عظمی سے ہتھکڑی لگوا کے جیل رخصت کروایا ۔ شیخ اختر نے صرف ایک کسی کمپنی کو نہیں بلکہ مارکیٹ میں موجود دیگر مخالف کمپنیز پر بھی پابندیوں کا سلسلہ شروع کردیا ۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی دو ادویات ساز کمپنیوں کے مالکان پر بھی پرچہ درج کیا گیا ۔ اور تو اور کئی ایسی فارما فرمز کی ادویات پر پابندیاں لگنا شروع ہوئیں جو برسوں سے کام کر رہی ہیں ۔

بیرونی ملک سے ادوایات کا کاروبار کرنے والے خاص طور ہر لاہور سے تعلق رکھنے والے کمپنی مالکان عدالتوں میں دکھے کھانے پر مجبور ہوگئے ، مگر شیخ صاحب ان بڑی ہستی کے ساتھ لاہور میں ہی خاصے مصروف رہے ۔ اسلام باد ہائی کورٹ میں کیس دائر بھی ہوئے ، ایک سال میں شیخ اختر کے دور میں ادوایات کی قیمت میں تقریباً تیس سے پچاس فیصد اضافہ بھی ہوا ۔ جب یہ اضافہ کیا جارہا تھا تو انسپیکشن کے لئے حضور رشیاء جانے کی تیاری میں مصروف تھے ، جن کے لاڈلے تھے انکے اہل خانہ کے ساتھ ادویہ ساز کمپنی چلانے کی باتیں زبان زد عام ہونے لگیں ۔

سترہ جنوری کو چیف جسٹس ثاقب نثار اپنا وقت پورا کرکے جارہے تھے حضور تقریب میں خصوصی طور پر تشریف لاتے ہیں ، چیف کو اب سابق چیف ہوئے چند روز ہے گزرے تھے کہ شیخ اختر عہدے ہر فائز تھے کہ یہ سارے معاملات جاری تھے کہ ڈریپ کے سینیافسر بغاوت کا الم اٹھاتے ہیں اور سی او کو لیٹر میں واضح لکھتے ہیں کہ یہ اپنے حدود سے تجاوز کررہے ہیں اور افسران کو مخصوص کمپنیز کے خلاف اقدامات کا کہتے ہیں ۔

کرم نوازی کی حد یہ تھی کہ سی ای او ڈریپ ، ایپلیٹ بورڈ کے سربراہ، ایڈیشنل ڈائیریکٹر میڈیکل ڈیوائس کے عہدوں پر فائز شخص، نیب کی تحقیقات میں مردہ ہے جبکہ ایچ ای سی کے مطابق جعلی ڈگری رکھتا ہے ۔

ادوایات ساز کمپنیز کو عدالت عظمی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی دھمکی دینے والے شیخ اختر بھی ثاقب نثار کے جانے کے بعد بے بس ہوگئے۔

شیخ اختر حسین کا تعلق لاہور سے ہے اور اب ان کو ڈریپ کے سی ای او کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ شیخ صاحب دفتر سے نکل رہے تھے اور کلرک ساغر کو یاد کرکے کہہ رہا تھا


وقف کی چند ساعتیں ساغر لوٹ آئیں تو کیا تماشہ ہو

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے