انڈین میڈیا کا ایک اور دعوی

عفت حسن رضوی

انڈیا کے ذرائع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ پلوامہ حملے میں کشمیری الیکٹریشن ملوث تھا ۔ اس دعوے پر کئی لوگوں نے سوال اٹھا کر اس کی سچائی کو چیلنج کیا ہے ۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے بے بنیاد من گھڑت رپورٹنگ کا سلسلہ بند نہ ہوسکا۔ اب کی بار پلوامہ حملے کی ذمہ داری پلوامہ کے رہائشی تئیس سالہ مدثر احمد خان پہ ڈال دی گئی ہے جو کہ بھارتی میڈیا کے مطابق ایک الیکٹریشن تھا اور دوہزار سترہ سے جیش محمد کے ساتھ تھا۔

بھارتی نیوز چینل انڈیا ٹوڈے کی ویب سائٹ پہ شائع خبر میں بتایا گیا ہے کہ مدثر کی عرفیت ’محد بھائی‘ ہے، تاہم جھوٹی خبر کے تانے بانے بنتے ہوئے یہ تصدیق کرنا بھول گئے کہ نام محمد کو مختصر کرکے بعض لوگ محد لکھ دیتے ہیں، قطعی طور پر ’محد‘ لفظ بول چال یا عرفیت میں مستعمل نہیں۔

انڈیا ٹوڈے نے دعویٰ کیا ہے کہ ’محد بھائی‘ نامی دہشت گرد کو جیش محمد تنظیم میں ’ نور محمد تانترے‘ نامی شخص لے کر آیا، دوسری جانب یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ گذشتہ رات مقبوضہ کشمیر کے جنوب میں ہونے والے ایک آپریشن میں “محد بھائی” کو مار دیا گیا جس کی لاش ناقابل شناخت ہے۔ جبکہ محد بھائی کا سینئر دہشتگرد “تانترے” ایک سال قبل ہی مارا جاچکا ہے۔


بھارتی میڈیا نے اس دعویٰ کو سرکاری ذرائع سے منسوب کیا ہے تاہم تواتر سے سامنے آنے والی خبروں میں اب تک بھارتی میڈیا پلوامہ حملے کو براہ راست پاکستان سے جوڑنے میں ناکام رہا۔


یاد رہے کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارتی میڈیا کی جانب سے اسلام آباد کی لال مسجد آپریشن میں دو ہزار سات میں مرنے والے عبدالرشید غازی کے نام اور تصویر کو استعمال کیا گیا اور دعویٰ کیا گیا کہ غازی نامی یہ شخص پلوامہ حملے میں ملوث ہے۔

اس خبر کو بھی ٹوئٹر پر پاکستانی صارفین اور صحافیوں نے جعلی، جھوٹ اور مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button