شاہ مردان شاہ ثانی پیر پگارا ہفتم۔ ۴


تحریر: عارف الحق عارف

80 کی دہائی میں جنرل ضیاء الحق کی مارشل لائی حکومت کے دوران سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عروج پر تھیں لیکن پیر پگارا واحد سیاسی رہنما تھے جو اپنے بظاہر غیر سیاسی مگر ذومعنی بیانات اور مخصوص استعاروں کے ذریعہ اپنا پیغام اور مدعا بیان کر رہے تھے اور جن سے وہ مخاطب ہونا چاہتے تھے وہ اسے بخوبی سمجھ بھی رہے تھے۔ وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں روزانہ کی مجلس شوری اور 22 نومبر کو اپنی سالگرہ کے نام پر کنگری ہاؤس میں ملک بھر کے سیاست دانوں کو ایک جگہ جمع کر کے جاری رکھتے۔ جو غیر اعلانیہ آل پارٹیز کانفرنس میں بدل جاتی۔ سیاسی لیڈروں کے درمیان باہمی خیالات کا تبادلہ ہوتا۔اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر غور بھی ہوتا۔ “ ہم جی ایچ کیو کے ساتھ ہیں،ہم خیال،ہم حال،چوہے بلی کا کھیل، دودھ کا رکھوالا بلا “ اور اس سے ملتے جلتے استعارے پیر صاحب کے سیاسی بیانیہ کے اظہار کے کوڈ ورڈزتھے۔جو مارشل لا کے قوانین و ضوابط کی زد سے باہر تھے۔ پیر صاحب ان استعاروں کو سیاسی رہنماؤں سے صلاح مشوروں اور مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل طے کرنے کے لئے اپنے ہر بیان اور اخبارنویسوں کے سوالوں کے جواب میں استعمال کرتے تھے۔ سیاسی سرگرمیوں پر پاپندی کے اس دور میں پیر صاحب کے دلچسپ بیانات سب سے زیادہ پڑھے جاتے۔

پیر صاحب سے مستقل رابطے میں رہنا میری دفتری ذمہ داری تھی اور اس سلسلے میں تقریباً ہر روز ہی ان کے یہاں حاضری ہوتی ایک دو گھنٹے ان کے یہاں دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرتا اور پھر خبروں کی تلاش میں نکل جاتا۔اس طرح میرے مصروف دن کا آغاز ہو تا اور رات گئے گھر واپسی ہوتی۔ پیر صاحب کی مجلس شوری کے ارکان کی آمد کا کوئی وقت مقرر نہیں تھا ان کو صرف یہ معلوم تھا کہ پیر صاحب 11 اور 2 بجے دوپہر تک دستیاب ہوں گے۔ اس لئے ان اوقات کے دوران وہ کسی بھی وقت آسکتے تھے اور جاری گفتگو میں شریک ہو جاتے۔اس محفل کے بلا ناغہ روزانہ آنے والوں میں پیر صاحب کے چھوٹے بھائی پیر نادر علی شاہ‘ موجودہ وزیر خزانہ اسد عمر اور سابق گورنر سندھ زبیر عمر کے والد میجر جنرل ( ریٹائرڈ ) غلام عمر مرحوم‘ پروفیسر شیخ رشید مرحوم‘ مسلم لیگ کے رہنما بوستان علی ہوتی ، جاوید سنگجی،ڈاکٹر شفیع بوئی خان شامل تھے اس کے علاوہ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما پروفیسر غفور احمد مرحوم،مسلم لیگ کے شیخ لیاقت حسین مرحوم ،ہارون احمد مرحوم،پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر عاصم حسین، آغا خان اسپتال کے فزیوتھراپسٹ ڈاکٹر نصراللہ،ماہر امراض چشم ڈاکٹر انور خان اور جنگ کے کالم نگار اقبال تاجر بھی ان دوستوں کی فہرست میں شامل تھے،جو روزانہ تو نہیں لیکن کچھ دنوں کے وقفے کے بعد شریک محفل ضرور ہوتے، ڈاکٹر شفیع بوئی،ڈاکٹر عاصم، ڈاکٹر نصراللہ اور ڈاکٹر انور پیر صاحب کے ذاتی معالج بھی تھے۔

صاحب تحریر کی یہ تصویر پیر پگارا صاحب نے بنائی

اس محفل کے دوران ہی پیر صاحب سے اندرون سندھ اور ملک بھر اور بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی وقفے وقفے سے جاری رہتا۔انتظار کے کمروں میں ان کی مشروبات سے تواضح کی جاتی۔ وہ بے حد شگفتہ مزاج‘ حاضر جواب اور کرشماتی شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ہر مجلس کی جان ہوتے اور اپنے مخصوص طرز تکلم کی وجہ سے ہر محفل پر چھا جاتے تھے۔ ان کے لاکھوں عقیدت مندوں کے لئے کنگری ہاؤس کی حثیت امریکہ کے وہائٹ ہاؤس سے کم نہیں تھی اور اس کو تقدس کا درجہ دیتے تھے اسی لئے وہ ننگے پیر اس میں داخل ہوتے تھے ۔روزانہ قافلوں کی صورت میں حر پیر صاحب کی ایک جھلک دیکھنے اور اپنے مسائل کے حل اور دعا کے لئے حاضر ہو تے اور دیدار کیلئے انتظار کرتے۔ جب زیادہ تعداد میں مرید جمع ہو جاتے تو خادم اطلاع کرتا کہ دیدار کے لئے مرید جمع ہو گئے ہیں۔ پیر صاحب ان کو اپنا دیدار کرانے ڈرائنگ روم سے باہر تشریف لےجاتے اور ان کو اچھی باتوں کی نصیحت کرتے۔اس موقع پر حر مریدوں کی پیر صاحب سے عقیدت کے مناظر قابل دید ہوتے۔

شاہ مردان ہفتم پیر پگارا

کنگری ہاؤس سندھ بھر کے عوام کے مسائل کے حل کا ایک موثر فورم اور مرکز بھی تھا جس سے ان کے عقیدت مند ہی نہیں بلکہ بد ترین سیاسی مخالفین بھی بلا امتیاز فائدہ اٹھاتےاور اپنے تنازعات ثالثی کے لئے ان کے پاس لاتے۔ میں نے خود اس مقصد کے لئے آنے والوں میں پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں کے بعض رہنماؤں اور کارکنوں کو ہاتھوں میں درخواستیں لئے اور پیر صاحب کو پیش کرتے دیکھا ہے۔عوام کے روزمرہ کے مسائل اور باہمی تنازعات کے حل کیلئے کنگری ہاؤس میں ایک سیکرٹیریٹ قائم تھا جہاں سائلین کے مسائل اور ان کی درخواستوں کا جائزہ لیا جاتا اور ضروری جانچ پڑتال اور کاروائی کے بعد حکم کے لئے پیر صاحب کے سامنے پیش کیا جاتا۔پیر صاحب مزید کاروائی کیلئےاس درخواست کو مسئلہ کی نوعیت کے لحاظ سے حکومت کے ساتھ رابطہ رکھنے والے مرید خاص کے حوالے کرتے ۔اس وقت خان محمد مہر حکومت اور پیر صاحب کے درمیان رابطہ کار تھے۔ خان محمد اس وقت سندھ حکومت کے ڈپٹی سیکٹری تھے۔ خاندان کے باہمی تنازعات کے لئے پیرپگارا جو فیصلہ کرتے اس پر عمل کیا جاتا۔ اس طرح سیاسی اور غیر سیاسی افراد کا آنا جانا لگارہتا اور بیٹھک جاری رہتی۔

جاری ہے

آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے عارف الحق عارف نے 1967 میں روزنامہ جنگ کراچی سے صحافت کا آغاز کیا،جہاں 2002 تک وابستہ رہے،اسی سال جیو ٹی وی سے وابستہ ہوئے جہاں بطور ڈائریکٹر 18 سال سے زائد عرصہ گزارا، عارف الحق عارف کی صحافت سے 52 سالہ وابستگی کا یہ سفر بڑا دلچسپ ہے،پاکستان 24 میں “ بڑے لوگوں کی سنہری یادیں “ کے اس تحریری سلسلے میں آپ کو نامور لوگوں کی متاثر کن کہانیاں پڑھنے کو ملیں گی۔امید ہے قارئین کے لیے یہ سلسلہ دلچسپ ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button