بحریہ ٹاؤن کی عدالت کو نئی پیشکش

پاکستان میں پراپرٹی کے بڑے ڈویلپر بحریہ ٹاون نے اپنے کراچی، راولپنڈی اور مری کے منصوبوں کو قانونی بنانے کے لیے سپریم کورٹ کو نئی پیش کش کی ہے ۔
عدالت عظمی میں جمع کرائی گئی تحریری پیش کش میں بحریہ ٹاون نے کہا ہے کہ وہ تینوں شہروں کے منصوبوں کی اراضی کی مد میں 485 ارب روپے ادا کرنے کے لیے تیار ہے ۔

تحریری پیش کش کی دستاویز کے مطابق بحریہ ٹاون کراچی سپر ہائی وے منصوبہ کیلئے 440 ارب دے گا جبکہ راولپنڈی میں تخت پڑی کی اراضی پر 22 ارب دے گا ۔

پراپرٹی ڈویلپر کی جانب سے جمع کرائی گئی پیش کش میں کہا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن مری منصوبہ کیلئے 23 ارب دینے کو تیار ہیں ۔ وکیل کے مطابق بحریہ ٹاون نے رقوم کی ادائیگی کی مدت میں ایک سال کی کمی کی ہے ۔
نئی پیش کش کے تحت بحریہ ٹاون 485 ارب 8 سال کی مدت میں ادا کرے گا ۔ وکیل نے بتایا ہے کہ چار ارب 70 کروڑ سندھ حکومت کو پہلے ہی ادا کرچکے ہیں ۔

بحریہ کے وکیل نے تحریری پیش کش میں کہا ہے کہ دس ارب 75 کروڑ سپریم کورٹ کے پاس پہلے ہی جمع کرا چکے ہیں ۔ وکیل کے مطابق پہلے پانچ سال 2 ارب روپے ماہانا کی قسط دی جائے گی جبکہ باقی تین سالوں میں 8.33 ارب روپے کی ماہانہ قسط ادا کی جائے گی ۔

وکیل نے کہا ہے کہ پیشکش کی منظوری پر 20 ارب روپے کی پہلی قسط ادا کریں گے تاہم عدالت سے استدعا ہے کہ زیر قبضہ زمین کو فوری طور پر بحریہ ٹاون کے نام پر ٹرانسفر کرنے کا حکم دیا جائے ۔

خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ بحریہ ٹاؤن کے تین شہروں میں بنائے گئے پراجیکٹس کو گذشتہ سال اپریل میں دیے گئے تین فیصلوں کے تحت غیر قانونی قرار دے چکی ہے ۔

عدالتی فیصلوں کے مطابق بحریہ ٹاؤن نے اپنے منصوبوں کے لیے زمین غیر قانونی طریقوں سے حاصل کی اور کئی علاقوں میں سرکاری اور نجی زمینوں پر قبضے کیے ۔

عدالت فیصلوں پر دائر نظرثانی درخواستیں بھی خارج کر چکی ہے اور اس وقت عمل درآمد بنچ مقدمہ سن رہا ہے ۔ تاہم سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے کھلی عدالت میں ایک ہزار ارب اور پھر ۵۰۰ ارب روپے کی مانگ کر کے عدالتی فیصلوں پر عمل کرانے کی بجائے تصفیہ کرانے کی نئی رسم ایجاد کرائی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے