چھوٹو گینگ ارکان کو سزائے موت

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ایک عدالت نے اغوا برائے تاوان اور پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث غلام رسول عرف چھوٹو اور اس کے گینگ کے سترہ دیگر ارکان کو موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی ہیں ۔

ملتان کی سینٹرل جیل میں قائم کی گئی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج ملک خالد محمود نے ٹرائل مکمل کرنے کے بعد فیصلہ سنایا ہے ۔

عدالت نے ۲۰ ملزمان کو اشتہاری بھی قرار دیا ہے ۔

چھوٹو گینگ چند برس قبل تک جنوبی پنجاب کے علاقے مظفر گڑھ، راجن پور سے سندھ کے بالائی اضلاع میں دہشت کی علامت سمجھا جاتا تھا ۔

فوجی آپریشن کے دوران خود کو آرمی حکام کے حوالے کرنے سے قبل سنہ 2016 میں چھوٹو گینگ کے ارکان نے ضلع راجن پور کے علاقے کچہ جمال میں پنجاب پولیس کے چھ اہلکاروں کو ہلاک جبکہ 16 کو یرغمال بنایا تھا ۔

چھوٹو گینگ کے خلاف ملتان انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 1 نے فیصلہ دیتے ہوئے غلام رسول عرف چھوٹو اور اس کے بھائی پیارا سمیت 18 ملزمان کو اٹھارہ مرتبہ سزائے موت کا حکم دیا ہے ۔

عدالت نے اٹھارہ سال سے کم عمر کے دو ملزمان کو انیس مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔

اپریل 2016 میں چھوٹو گینگ کے خلاف شروع ہونے والے کیس میں 56 گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ کی گئیں ۔

عدالت نے تمام مجرموں کی جائیدادیں قرقی کا حکم دیتے ہوئے لاکھوں روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے جو مارے گئے پولیس اہلکاروں کے ورثا کو بطور معاوضہ ادا کیا جائے گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے