بوئنگ 737 کی اڑان پر دنیا بھر میں پابندی

جہاز بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بوئنگ اس وقت خبروں میں ہے اور یہ خبریں اس کی ساکھ کے لیے اچھی نہیں ہیں ۔

ایسا لگتا ہے کہ اتوار کو گرنے والے ایتھوپین ایئر لائنز کے 737 میکس 8 طیارے نے اپنے ساتھ کمپنی کو بھی حادثے کا شکار کر دیا ہے ۔

اس حادثے کے بعد دنیا کی چھ ایئر لائنز نے بوئنگ کے اس ماڈل کے طیاروں کو گراؤنڈ کر دیا ہے جبکہ کئی ممالک نے ان پر اپنی فضائی حدود میں داخلے پر بھی پابندی عائد کی ہے ۔

بوئنگ 737 پر تازہ ترین پابندی برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے عائد کی ہے ۔

بھی دیگر ممالک کی طرح بوئنگ 737 میکس طیاروں کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔

یہ پابندی برطانوی فضائی حدود پر لاگو ہوتی ہے جہاں اس جہاز کو پرواز کی اجازت نہیں ہوگی۔ برطانیہ سمیت سنگاپور، چین، ملائشیا، اور آسٹریلیا نے 737 میکس 8 طیاروں کے استعمال پر اس سے قبل پابندی لگا دی تھی۔

برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے پاس حالیہ حادثے کے حوالے سے مناسب معلومات نہیں اس لیے پابندی کا یہ فیصلہ احتیاط کے طور پر کیا گیا ہے ۔

اتوار کو اڈیس آبابا سے نیروبی جانے والا ایتھوپین ایئر لائنز کا بوئنگ 737 پرواز کے فوری بعد گر کر تباہ ہو گیا تھا جس سے اس میں سوار تمام 157 افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔

گزشتہ پانچ مہینوں میں یہ دوسرا واقعہ ہے کہ اس ماڈل کا طیارہ حادثے کا شکار ہوا ہے ۔

برطانیہ سے قبل سنگاپور کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بوئنگ 737 میکس 8 طیاروں کے تمام ماڈلز کے ہوائی آپریشن اپنے ملک کی فضائی حدود میں معطل کر دیے تھے جبکہ چین کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اندرون ملک پروازوں کے لیے بوئنگ 737 میکس 8 طیاروں کا استعمال معطل کیا ہے ۔

انڈونیشیا پہلے ہی جانچ پڑتال کی غرض سے اس ماڈل کے طیاروں کو گراؤنڈ کر چکا ہے ۔ تاہم امریکا کی فیڈرل ایوی ایشن نے کہا ہے کہ 737 میکس 8 طیارے ہوائی سفر کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہیں ۔

خیال رہے کہ اتوار کے حادثے کے بعد ایتھوپین ائر لائن نے اس طیارے کا استعمال ترک کرنے کا اعلان کیا تو گرودا ائر لائن انڈونیشیا، شینزین ایئر لائنز، چائنا ایسٹرن ایئر لائنز، ایئر چائنا، اوکے ایئر ویز، کُنمنگ ایئر لائنزاور کے مین ایئر ویز نے بھی اس ماڈل کے طیاروں کو فضا میں اڑان بھرنے سے روک دیا ۔

دنیا میں دیگر کئی بڑی ائر لائنز اس ماڈل کے طیارے کے بارے میں بوئنگ سے بات چیت کا آغاز کر چکی ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button