پی ایس ایل نئے پاکستانی بیٹسمین ڈھونڈنے میں ناکام

پاکستان سپر لیگ کا چوتھا سیزن کے کراچی میں میچز جہاں پاکستان میں سیکورٹی کی بہتر ہوتی حالت کی دلیل ہیں وہیں ایک عرصہ سے بہترین کرکٹ سے محروم پاکستانی عوام اور بالخصوص نوجوانوں کے لیے انٹرنیشنل کرکٹرز سے سیکھنے کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔ روایتی طور پر پاکستان باؤلرز کے لحاظ سے ایک ذرخیز ملک ہے چاہے سپن باؤلنگ ہو یا فاسٹ باؤلنگ پاکستان کرکٹ نے ایسے ایسے نامور پلئیرز پیدا کیے ہیں کہ جن کی کارکردگی اور ٹیلنٹ کی دنیا بھی معترف ہے لیکن بیٹنگ کا شعبہ ایک ایسا شعبہ رہا جہاں ہمیشہ پاکستان کی ٹیم مشکلات کا شکار رہی۔ پی ایس ایل کے سیزن فور میں بھی پاکستانی بیٹسمین کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے ٹاپ تھری میں بھی غیرملکی بلے باز چھائے رہے۔ تاہم باؤلنگ کے ٹاپ فائیو میں پاکستانی باؤلرز نے بہترین کارکردگی دکھائی۔ نئے کھلاڑیوں نے بھی باؤلنگ کے شعبے میں بہترین کارکردگی دکھا کر یہ ثابت کر دیا کہ مستقبل میں بھی پاکستانی باؤلرز دنیائے کرکٹ پر راج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔پی ایس ایل فور کے ابتدائی مرحلےمیں بیٹسمینوں کی فہرست میں ابتدائی تین ناموں میں کوئی بھی پاکستانی نام شامل نہیں ہے۔بیٹسمینوں کی فہرست میں آسڑیلیا کے سابق ٹیسٹ بیٹسمین اور کوئٹہ گلیڈیٹر کے سلامی بلے باز شین واٹسن پہلے نمبر پر موجود ہیں اور فی الوقت حنیف محمد کیپ بھی ان کے قبضے میں ہے۔ شین واٹسن نے دس اننگز میں چوالیس کی اوسط سے تین سو باون رنز بنائے ہیں۔ کولن انگرم کراچی کنگز اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑی جنھیں پی ایس ایل میں ایک سو ستائیس رنز کی انفرادی ناقابل شکست اننگز کا اعزاز حاصل ہے دس اننگز میں تین سو اکیس رنز اور پینتیس کی اوسط کیساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔پی ایس ایل سیزن تھری کے بہترین بیٹسمین اسلام آباد یونائیٹیڈ اور نیوزی لینڈ کے لیوک رونچی اس مرتبہ تیسرےنمبر پر ہیں۔ دس میچوں میں دائیں ہاتھ کے بیٹسمین دو سو ستانوے رنز اسکور کر چکے ہیں۔ بیٹسمینوں کی فہرست میں چوتھا نمبر آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلے نمبر پر موجود پاکستانی اور کراچی کینگز کے بلے باز بابر اعظم کا ہے جنھوں نے انتیس کی اوسط سے ٹورنامنٹ کے دس میچوں میں اب تک دو سو اسی رنز بنا رکھے ہیں۔جنوبی افریقہ اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑی کیمرون ڈل پورٹ نے بتیس کی اوسط سے دو سو نواسی رنز بنا رکھے ہیں اور وہ اس فہرست میں چھٹے نمبر پر ہیں۔ فہرست میں پانچواں نمبر بابر اعظم کی ہی ٹیم کراچی کنگز کے لیونگ اسٹون کا ہے جنھوں نے پینتیس کی اوسط سے دو سو پچاسی رنز اسکور کیے ہیں۔پاکستان سپر لیگ کے لیگ مرحلے میں قابل ذکر کارکردگی دکھانے والے دیگر پاکستانی بیٹسمینوں میں فخر زمان (لاہور قلندرز) نے دو سو پچاسی رنز، شعیب ملک (ملتان سلطانز) دو سو چھیاسٹھ رنز، آصف علی (اسلام آباد یونائیٹڈ )دو سوستاون رنز جبکہ پشاور زلمی کے امام الحق نے بھی اتنے ہی رنز اسکور کیے ہیں البتہ انہوں نے آصف علی کے برعکس ایک میچ کم یعنی نو میچ کھیلے ہیں۔آسڑیلیا کے خلاف قومی ون ڈے ٹیم کا حصہ بننے والے عمر اکمل (کوئٹہ گیلڈی ایٹرز) نے دو سو پچپن رنز اسکور کر رکھے ہیں جبکہ پاکستان کیلئے تینوں فارمیٹ میں بین الاقوامی سطح پر سنچری بنانے والے احمد شہزاد (کوئٹہ گیلڈئیڑ) نے صرف 6 میچوں میں دو سو باون رنز بنا رکھے ہیں۔

لاہور قلندر کے کھلاڑی سہیل اختر جن کے حوالے سے یہ کہا کا رہا تھا کہ وہ پاکستان کے اگلے پاور ہٹر ہونگے دس میچوں میں دو سو اکتالیس سکور کر سکے۔ ملتان سلطان کے کھلاڑی عمر صدیق سات میچوں میں ایک سو انہتر رنز ہی بنا سکے۔ بیٹنگ کے شعبے میں مسلسل ناکامیوں کے باوجود بھی ایمرجنگ کیٹگری اور ڈومیسٹک لیول سے بلے بازوں کی بجائے باؤلرز کو ترجیح دی گئی جس کا نتیجہ ہوم کنڈیشن میں بھی نئے بلے باز نہ ملنا ہے تاہم اس سیزن کی بدولت عمر اکمل اور احمد شہزاد کا فارم میں واپس آنا پاکستانی بیٹنگ کی ڈولتی کشتی کو سہارا دے سکتا ہے۔ باؤلنگ کے شعبے میں باولنگ میں پشاور زلمی کے حسن علی نے دس میچوں ریکارڈ اکیس وکٹیں حاصل کی اور وہ فہرست پر پہلے نمبر پر براجمان ہیں۔اسلام آباد یونائیٹڈ کے فہیم اشرف دس میچوں میں انیس وکٹیں حاصل کر کے دوسرے، کوئٹہ کے سہیل تنویر پندرہ وکٹوں کے ساتھ تیسرے، کراچی کینگز کے عمر خان اور پشاور زلمی کے وہاب ریاض تیرہ وکٹوں کیساتھ چوتھے، محمد عامر اور عثمان شنواری بارہ بارہ وکٹوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر موجود ہیں۔ اس سیزن میں کئی نئے باؤلرز نے بھی اپنی کارکردگی سے متاثر کیا جن میں غلام مدثر، سمین گل، محمد موسی، عمر خان،حارث رؤف اور محمد حسنین ایسے نام ہیں جو آئندہ دنیائے کرکٹ پر راج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے