بے نامی جائیدادوں کے لیے نیا قانون

پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے بے نامی جائیدادوں کے مالکان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے ۔

ادارے کے ممبران کا کہنا ہے کہ بے نامی جائیدادوں سے متعلق قانون نافذ کر دیا گیا ہے جس کے مطابق بے نامی جائیدادوں کو 90 روز کے لئے ضبط کیا جائے گا اور 120 روز میں کیس کا چالان اتھارٹی کے سامنے پیش ہوگا ۔

بدھ کو بے نامی جائیدادوں کے بارے میں ایف بی آر ممبرز نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ایسے جائیدادوں کے خلاف کیسز بنائے جائیں گے، مقدمات چلانے کے لیے اتھارٹی قائم کی جائے گی، اتھارٹی کے چیئرمین اور اراکین اس کی منظوری دیں گے۔

ایف بی آر کے مطابق بےنامی کیسز اتھارٹی کےسامنے پیش کئے جائیں گے، اتھارٹی کے فیصلے کو ایپلٹ ٹربیونل میں چیلنج کیا جا سکے گا، بے نامی جائیدادوں کو 90 روز کے لئے ضبط کیا جائے گا،120 روز میں کیس کا چالان اتھارٹی کے سامنے پیش ہوگا۔

ارکان کا کہنا تھا کہ ٹربیونل کے فیصلے سے جائیداد کو بیچا جا سکے گا ۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد کے کمشنرز کو اختیارات دیئے گئے ہیں۔

ایف بی آر کے مطابق قانون کا اطلاق فروری 2017 کے بعد بے نامی جائیدادوں پر ہوگا ۔

یاد رہے کہ 11 مارچ 2019 کو وفاقی حکومت نے بے نامی اکاؤنٹس میں غیر قانونی ٹرانزکشن کی روک تھام کے لئے قانون کی منظوری دی تھی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button