بلاول بھی درباریوں کے نرغے میں

خاور حسین

بلاول بھٹو زرداری جو کہ ابھی نوجوان ہیں اور نئے دور کے سیاستدان ہیں عوام کو ان سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں لیکن گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں ان کی پریس کانفرنس میں اندازہ ہوا کہ خوشامدی ٹولے نے بلاول بھٹو کو بھی شیشے میں اُتار لیا ہے ۔

بدھ کو جب پریس کانفرنس میں سوال و جواب کاسلسلہ شروع ہوا تو بلاول بھٹو نے جمیل سومرو کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ کس کس سے سوال لینا ہے، جس کے بعد جمیل سومرو نے اپنے من پسند صحافیوں کی طرف اشارے کرنا شروع کئے، میں جو بہت دیر سے ہاتھ کھڑا کئے ہوئے تھا جب دیکھا کہ میری باری نہیں آنے والی تو میں نے بلاول سے احتجاجاً کہا کہ اگر آپ نے اپنے من پسند مخصوص لوگوں کو ہی سوال پوچھنے کا موقعہ دینا ہے تو ہم چلے جاتے ہیں جس پر بلاول بھٹو نے فرمایا کہ اگر آپ کو جانا ہے تو جائیں لیکن سوال تو انہیں کے لئے جائیں گے جن کا نام جمیل سومرو لیں گے۔

یہ دیکھ کر ایم کیو ایم کی یاد تازہ ہوگئی جہاں قمر منصور صاحب انگلی کے اشارے سے من پسند صحافیوں کو سوال پوچھنے کی اجازت دیتے تھے، تاکہ رابطہ کمیٹی سے کوئی مشکل یا انکی مرضی کے خلاف سوال نہ پوچھا جاسکے۔

بلاول کی پریس کانفرنس

بدھ ۱۳ مارچ کی اس پریس کانفرنس سے واضح ہے کہ بلاول بھٹو مکمل طور پر خوشامدی ٹولے سے گھرے ہوئے ہیں، یا پھر ان میں اتنا اعتماد نہیں کہ خلاف توقع سوال آیا تو وہ کیسے ہینڈل کریں گے۔ انہوں نے کل کی پریس کانفرنس میں خود بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ وہ اس پریس بریفنگ کے انچارج نہیں۔ بظاہر ایسا محسوس ہوا جیسے پہلے ہی ساز باز کرکے یہ طے کرلیا گیا تھا کہ کونسا صحافی کس معاملے پر سوال کرے گا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ ہر حکمران خواہ وہ سیاست دان ہو یا فوجی جرنیل اُسے مخصوص خوشامدی ٹولے نے اپنی چرب زبانی، جی حضوری اور تعظیم و آداب کے ذریعے ایسے جادوئی حصار میں لے لیا کہ پھر اسے حقیقت سے بہت دور کردیا، بادشاہ سلامت کی شخصیت اور طرز حکومت کے ایسے ایسے قصیدے سُنائے کہ بادشاہ سلامت خود کو تاریخ کا عظیم ترین حکمران سمجھنے لگے، اور عوام کے حقیقی مسائل سے لاعلم، خوشامدی ٹولے کو سب سے بڑا خطرہ ان لوگوں سے ہوتا ہے جو بادشاہ سلامت کو آئینہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اس لئے خوشامدی ہمشہ بادشاہ سلامت کے آس پاس رہتے ہیں کہ کہیں ہماری غیرموجودگی میں کوئی بادشاہ سلامت کو حقیقت نا بتا دے۔

تاریخ گواہ ہے کہ یہ خوشامدی موقع پرست لوگ کسی کے بھی سگے نہیں ہوتے، یہ تو چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں، جب کسی ناؤ کو ڈوبتا دیکھتے ہیں تو فوراً کشتی بدل لیتے ہیں، پھر تاریخ انہیں میر جعفر اور میر صادق کے نام سے یاد رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے