اسد منیر نے خط میں کیا لکھا؟

ترجمہ: عفت حسن رضوی

خودکشی سے قبل، اسد منیر بنام چیف جسٹس

”جناب چیف جسٹس !

۲۰۰۸ میں ایک پلاٹ کے احیاء کے معاملے سے متعلق کیس میں نیب نے میرے خلاف ریفرنس فائل کیا۔ میں نے نہیں بلکہ چئیرمین نے وہ پلاٹ ریسٹور کیا۔میں نے پلاٹ ریسٹوریشن کی تجویز دی تھی کیونکہ مین سمجھتا تھا کہ یہ سی ڈی اے ریسٹوریشن پالیسی ۲۰۰۷ کے مطابق تھا۔
میں سی ڈی اے کا ممبر اسٹیٹ ۲۰۰۶ سے ۲۰۱۰ تک رہا،چھ سال سے زائد عرصے میں میرے خلاف کوئی مقدمہ نہ ہوا، ۲۰۱۷ سے نیب نے میری زندگی اجیرن کردی۔
نومبر ۲۰۱۷ میں میرا وزارت داخلہ کی جانب سے نام تین ماہ کے لیے ای سی ایل ڈالا گیا،یہ ایک ایسی ایف آئی آر کے تحت کیا گیا جس میں میں نامزد ہی نہ تھا۔میں نے وزارت داخلہ کے سیکرٹری کو ایک مراسلے میں اس پر نظرثانی اپیل بھی کی،مگر کوئی جواب نہ ملا۔
ایک سال سے زائد عرصہ ہوگیا میرا نام اب تک ای سی ایل میں شامل ہے۔

گزشتہ ایک سال میں نیب نے میرے خلاف تین تفتیش اور دو انکوائریاں کھولیں،تین میں بحیثیت بورڈ ممبر،دو میں بحیثیت ممبر اسٹیٹ۔میری آپ سے درخواست ہے کہ مہربانی فرما کر ان کیس سے متعلق میرے بیان پڑھ لیں جوکہ اس خط کے ساتھ موجود ہیں۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں بد عنوانی میں ملوث تھا تو اب یہ مقدمہ بند ہوگیا۔ اور اگر نیب غلط قرار پائے تو میں چاہتا ہوں کہ آپ ان الزامات سے میرا نام ہٹا دیجیئے۔

میرے کیس میں سوائے ایک کے باقی تمام نیب تفتیشی حکام انتہائی نااہل،سخت رو، مغرور،غیرتربیت یافتہ تھے جنہیں اس ادارے کے بارے میں بہت کم معلوم تھا جس کی وہ تفتیش کررہے تھے۔ان تفتیشی حکام نے مجھے انے بغیر ہی یہ سمجھ لیا تھا کہ میں بدعنوانی میں ملوث ہوں۔ میرے خلاف تمام مقدمات کی بنیاد آڈٹ پیراز ہیں۔
میں نے ۱۴ جون ۲۰۱۸ کو نیب کے سامنے اپنی مالی تفصیلات پیش کردیئے ہیں۔
میں بے عزتی، ہتھکڑیوں میں گرفتاری اور میڈیا کے سامنے پریڈ کرائے جانے سے بچنے کے لیے خودکشی کررہا ہوں۔
جناب چیف جسٹس میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ نیب حکام کے روئیے کا نوٹس لیں تاکہ تاکہ میری طرح دیگر سرکاری ملازمین کو ان جرائم کی سزا نہ ملے جو انہوں نے کبھی کیے ہی نہیں۔

وہ تفتیشی افسر جو میرے ماتحت کام کرتے تھے جانتے تھے کہ جرم یا خلاف ضابطہ ہونے اور کسی چیز کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے یا اتفاقی نظر انداز کرنے میں فرق ہوتا ہے۔
جناب محترم چیف جسٹس صاحب میں اپنی جان اس امید پر دے رہا ہوں کہ آپ نظام میں موثر تبدیلی لائیں گے،ایسا نظام جہاں نا اہل افراد احتساب کے نام پر معزز شہریوں کے عزت و آبرو سے کھیل رہے ہیں۔

نیک تمنائیں
اسد منیر
۱۵ مارچ ۲۰۱۹

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button