نیوزی لینڈ حملے دہشت گردی نہیں تو کیا؟


نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر دو حملوں میں اب تک 40 مسلمان نمازی شہید ہوچکے ہیں، کئی زخمی ہیں۔

یہ حملے مبینہ طور پر آسٹریلوی نژاد برنٹن ٹیرنٹ نامی شخص نے کیا جس نے اپنی ٹوپی پر لگے کیمرے سے حملے کے وڈیو فیس بک پر لائیو نشر کی۔ حملہ آور نے حملے سے قبل اپنی فیس بک پر اپنا سفید فام سپرامسٹ کا منشور بھی پوسٹ کیا۔


تاہم حملے کے بعد بہت سے ٹوئٹر صارفین نے سوال اٹھایا ہے کہ اس قتل عام کو “دہشتگردی” کے بجائے “پرتشدد” واقعہ کیوں کہا جارہا ہے۔
کارلوس نامی ٹوئٹر صارف جو کارٹونسٹ ہیں نے ٹوئٹ کیا ہے یہ ایک وائٹ سپرامسٹ دہشتگردی ہے۔ اس واقعے کو اسی نام سے پکارا جائے۔
سوشل میڈیا صارفین سوال اٹھارہے ہیں کہ کیا اس دہشتگرد کو بھی ذہنی مریض یا مشکل حالات میں گرفتار شخص کہہ کر معاملہ رفع دفع کردیا جائے گا؟


بعض مغربی صحافی عوام درخواست سے درخواست کررہے ہیں کہ حملہ آور کے نام اور پس منظر بارے میں تبصرہ نہ کیا جائے تاہم سوشل میڈیا صارفین کا سوال ہے کہ یہی مغربی میڈیا مسلمان حملہ آوروں کو مسلمان دہشتگردی سے جوڑتا نظر آتا ہے۔
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاکنڈا آرڈرن نے اپنی پریس کانفرنس میں اس واقعہ کے لیے پرتشدد کا لفظ استعمال کیا جس پر انہیں سوشل میڈیا کے صارفین کی جانب سے مسترد کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب بین القوامی میڈیا بھی مغربی ممالک میں سفید فام افراد کی جانب سے کی جانے والے حملوں کو دہشتگردی قرار دینے سے کتراتا ہے۔
تاہم ایسے وقت میں آسٹریلوی وزیراعظم نے واضح بیان دیتے ہوئے حملہ آور کو دائیں بازو کا انتہا پسند دہشتگرد قرار دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے