نیوزی لینڈ کا دہشتگرد پاکستان آیا تھا؟

معلوم ہوا ہے کہ نیوزی لینڈ کی مساجد پر دہشتگرد حملوں میں ملوث مبینہ حملہ آور گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستان آیا تھا ۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں واقع ڈسٹرکٹ نگر میں سیاحوں کے بنائے گئے ایک ریسٹ ہاوس سے کچھ ایسی تصاویر سامنے آئیں ہیں جن کے مطابق نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کرنے والا مبینہ دہشتگرد پاکستان کا دورہ کر چکا ہے۔
فیس بک پر اسرار اوشو تھان کے نام سے بنی ایک آئی ڈی پر مبینہ دہشتگرد کی تصاویر موجود ہیں۔
پاکستان ٹوئنٹی فور سے خصوصی گفتگو میں ہوٹل کے مالک اسرار احمد نے بتایا کہ برنٹن ٹارنٹ نامی ایک سیاح ۲۴ اکتوبر سال ۲۰۱۸ میں آیا تھا جس نے ان کے گیسٹ ہاوس میں دو روز قیام کیا تھا۔
اسرار احمد کا کہنا ہے کہ ان کے ہوٹل میں غیرملکی سیاح آتے رہتے ہیں ، کسی کا تفصیلی انٹرویو نہیں لیا جاتا تاہم ان کا پاسپورٹ نمبر اور دیگر تفصیلات رجسٹرڈ کی جاتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ برنٹن ٹارنٹ نے استفسار پر بتایا تھا کہ وہ سیاحت پر مختلف بلاگز پڑھ کر دنیا کی سیر کو نکلا ہے، اسی لیے وہ پاکستان بھی آیا، جبکہ ان کے ہوٹل کی معلومات بھی اسے سوشل میڈیا سے ملی تھی۔ وہ اس سفر میں تنہا تھا کسی گروپ کا حصہ نہیں تھا۔
اکتوبر ۲۰۱۸ میں اسرار احمد اپنے فیس بک میں ایک آسٹریلوی سیاح کی فوٹوگرافی کرتے ہوئے تصاویر بھی پوسٹ کر رکھی ہیں۔

ہوٹل مالک اسرار کے مطابق فیس بک پر پوسٹ بھی برنٹن نے کی تھی جس میں حکومت سے سیاحوں کے لیے ویزہ لینا آسان بنانے کی درخواست کی ۔

حیران کن امر یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت نے ایک روز قبل ہی سیاحت کے فروغ کے لیے ویزے کا حصول آسان بنایا ہے ۔

برنٹن ٹیرانٹ کے بارے میں تاحال نیوزی لینڈ حکومت نے باقاعدہ فرد جرم عائد نہیں کی ۔ آسٹریلوی حکومت نے بھی اپنے اس شہری کی شناخت ظاہر نہیں کی جس پر حملوں کا الزام لگایا گیا ہے ۔

تاہم یہ سمجھا جا رہا ہے کہ نیوزی لینڈ پولیس نے جس حملہ آور کو حراست میں لیا وہ برنٹن ہی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے