بڑے لوگوں کی سنہری یادیں ۔ شاہ مردان شاہ ثانی پیر پگارا ہفتم ۔ ۵


پیر پگارا کے ساتھ طویل عرصے کی دوستی اور تعلق کی بنا پر اب میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ نہایت سادہ طبیعت کے مالک لیکن راست گو شخصیت تھے۔وہ اپنی زندگی کے اہم واقعات کو ان کے سیاق و سباق کے ساتھ بالکل اسی طرح ترتیب کے ساتھ بیان کرنے کا سلیقہ جانتے تھے جس طرح وہ پیش آئے تھے۔وہ مختصر ضرور ہوتے تھے لیکن ان میں ذرہ بھر ردوبدل،اضافہ یا مبالغہ نہیں کرتے تھے۔ ان کا حافظہ اور یادداشت کمال کی تھی۔وہ اپنے بچپن، علی گڑھ میں قیام ، والد کی گرفتاری اور حر جماعت پر پاپندی، گرفتاری کے بعد اور لور پول انگلینڈ روانگی سے پہلے ریڈیو پاکستان کی عمارت کے قریب بندر روڈ کے ایک بنگلے میں قید اور انگلینڈ میں قید کے دوران تعلیم کے بعض واقعات اس طرح
‏‎تفصیل سے بیان کرتےجیسے یہ ایک دو دن پہلے ہی پیش آئے ہوں۔

‏‎ان کی ایک اور وجہ شہرت ان کی سیاسی پیش گوئیاں تھیں جو وہ اکثر و بیشتر کرتے رہتے تھے۔جن میں سے اثر درست بھی ثابت ہوتی تھیں۔ وہ علم فلکیات کے ماہر تھے اور ستاروں کی چالوں کو سمجھتے تھے لیکن اس کو پیشہ کے طور پر استعمال کبھی نہیں کیا۔یہ علم ان کا ایک شوق تھا۔ وہ کبھی اس کا عام طور پر اظہار نہیں کرتے تھے پیش گوئیوں کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ تو یہ پیش گوئیاں کامن سینس کی ہی بنیاد حالات کا تجزیہ کرکے کرتے ہیں، جو اس لحاظ سے درست بات تھی کہ ان کی حالات حاضرہ پر گہری نظر رہتی تھی اور روزانہ اپنے دوستوں کی مجلس میں ان امور پر بات ہوتی اور وہ نتائج اخذ کرتے رہتے۔ دراصل وہ اپنے مستقبل کی باتوں کو ستارہ شناسی کے علم کے بجائے اپنے ان احباب کی طرف منسوب کرتے جو مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھتے تھے۔ان کی گفتگو میں معنی آفرینی‘ چاشنی اور فقرہ بازی کا عنصر نمایاں ہوتا ، ان کی باتیں شاعرانہ انداز کی اور ذومعنی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر گہرائی اور گیرائی رکھتی تھیں، ان کی پیش گوئیاں اور سیاسی تبصرے‘ اخبارات نمک مرچ لگاکر بھی شائع کرتے جنہیں بڑی دلچسپی سے پڑھا جاتا ، ان کے بیانات پر دلچسپ کارٹون بھی شائع ہوتے جس کو پیر صاحب بہت پسند کرتے اور ان کا اپنے پاس ریکارڈ بھی رکھتے۔ وہ ایک خوش طبع شخصیت کے مالک اور انتہائی سنجیدہ موضوعات کو دلچسپ پیرائے میں بیان کرنے اور اسے نئے نئے معنی پہنانے میں کمال رکھتے تھے۔۔
‏‎ہمارے درمیان اس دوستی کے رشتے میں گرم و سرد دونوں طرح کے حالات رہے۔ میں نے اپنی بیٹی رابعہ کی شادی میں پگارا صاحب کو مدعو کیا ‘ انہوں نے آنے کا وعدہ کیا۔وہ اپنی دیگر مصروفیات کے باعث اس تقریب میں شرکت نہ کرسکے جبکہ مجھے اپنے دوست کے آنے کی پوری امید تھی جس سے مجھے گہرا صدمہ ہواکیونکہ میں بجا طور پر سمجھتا تھا کہ یہ ہماری باہمی دوستی کا تقاضہ ہے کہ ایک دوسرے کےخوشی اور غمی میں شریک ہوا جائے ۔ میں نے ناراضگی میں ان سے ملنا چھوڑ دیا اور کافی عرصے تک کنگری ہاؤس نہیں گیا جس کا پیر صاحب کو بھی احساس تھا۔ پیر پگارا نے مختلف ذرائع سے مجھے پیغامات بھجوائے اور تعلقات پھر سے بحال کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اسی طرح ایک سال کا عرصہ گزرگیا۔ پھر ایک سال بعد میں ان سے جب ملاقات کے لیے گیا تو وہ بڑی محبت اور گرم جوشی سے ملے نا آنے کی وجہ بتائی جو معقول وجہ تھی۔ اس کے بعد ہماری دوستی کا دوسرا دور شروع ہوا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

جاری ہے۔

متعلقہ مضامین