اسد عمر کا جھوٹ پکڑا گیا؟

پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر کو سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر سخت تنقید کا سامنا ہے اور ہزاروں افراد نے ان کے پیش کیے گئے اعداد وشمار کو مسترد کیا ہے ۔

اسد عمر نے ملکی خزانے اور خسارے کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے تیل کی عالمی قیمتوں پر بھی بات کی ہے ۔

انہوں نے ٹوئٹر پر جاری کیے ایک بیان میں کہا کہ فروری سنہ ۲۰۱۸ میں تیل کی قیمت ۳۵ ڈالر فی بیرل تھی جبکہ اس سال فروری میں یہ قیمت 67 ڈالر فی بیرل تھی ۔

صارفین نے تیل کی قیمتوں کے آن لائن چارٹ پوسٹ کر کے ثابت کیا ہے کہ فروری سنہ ۲۰۱۸ میں تیل 63 ڈالر فی بیرل تھا جبکہ اس سال قیمت 61 ڈالر فی بیرل ہے ۔

صارف اقبال لطیف نے وزیر خزانہ کے ٹویٹ کے جواب میں ان کو لکھا ہے کہ ’اس طرح کی بات کرنے کے بعد ہم آپ پر اعتبار کیونکر کریں جب کہ تیل کی قیمت 63 ڈالر تھی ۔’

ایک اور صارف مرزا جواد مقصود بیگ نے اسد عمر کو لکھا ہے کہ ‘جھوٹا ایک بار پھر رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے ۔؛

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button