اب قانون تبدیل ہوگا، نیوزی لینڈ

دو مساجد پر خود کار ہتھیار سے فائرنگ کے واقعہ میں 49 افراد کی ہلاکت کے بعد نیوزی لینڈ کی حکومت شہریوں کے ہتھیار خریدنے کے قانون کو تبدیل کرے گی ۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے مساجد حملوں کے متاثرین سے ہمدردی کے لیے مسلم کمیونٹی کے لوگوں سے ملاقات کی ہے ۔

وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ ملک کے ہتھیاروں کے قانون کو مزید سخت اور مؤثر بنایا جائے گا ۔ یہ بات یہ معلومات سامنے آنے کے بعد کی گئی کہ حملہ آور نے دو سیمی آٹومیٹک رائفلوں سمیت پانچ ہتھیار استعمال کیے ۔

خیال رہے کہ نیوزی لینڈ کے پڑوسی آسٹریلیا نے 1996 میں اسی طرح کا واقعہ سامنے آنے کے بعد گن خریدنے کے قانون کو زیادہ سخت کر دیا تھا ۔

وزیراعظم جیسنڈا نے بتایا کہ ۲۸ سالہ آسٹریلوی حملہ آور برنٹن ٹیرنٹ نے نومبر سنہ ۲۰۱۷ میں درجہ اول گن کا لائسنس حاصل کیا تھا جس کے تحت اس نے وہ ہتھیار خریدے جو مساجد حملوں میں استعمال ہوئے ۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ حملہ آور نے ہمارے ملک کا انتخاب اس لیے کیا کہ یہاں ۲۰۰ نسل کے افراد آپس میں مل کر رہتے ہیں جو ۱۷۰ زبانیں بولتے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ میں حملہ آور کے سوچ والے لوگوں کی جگہ نہیں، پولیس کو سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھنے کے لیے کہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افراد کو پہلے سے ہی قابو کیا جا سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button