حملہ آور نے کیا نشان بنایا؟

نیوزی لینڈ کی پولیس نے دو مساجد پر حملوں کے الزام میں 28 سالہ حملہ آور برینٹن کو کرائسٹ چرچ کی ایک عدالت میں پیش کیا ہے جہاں اس پر قتل کے الزامات عائد کیے گئے ۔

پولیس کے مطابق برینڈن کے علاوہ ان کی تحویل میں دو اور لوگ بھی موجود ہیں ۔

پولیس نے حملہ آور کو عدالت میں پیش کرنے سے قبل اس کی ایک تصویر بھی جاری کی جس میں اسے ہتھکڑیاں لگے دو اہلکاروں کے درمیان دکھایا گیا ہے ۔

اس تصویر میں حملہ آور نے اپنے ہاتھ کے انگوٹھے اور انگلی کو ملا کر گول دائرہ بنایا ہے ۔

سوشل میڈیا کے بعض صارفین کا دعوی ہے کہ یہ ’سفید فام‘ طاقت کی جانب اشارہ ہے اور ملزم نے اس طرح پیغام دیا ہے کہ اس نے اپنی طاقت منوائی ہے ۔

حملے کے ایک دن بعد کرائسٹ چرچ میں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے بیان دیا ہے کہ ’اسلحہ سے متعلق ہمارا قانون تبدیل کیا جائے گا۔‘ انھوں نے بتایا کہ زیر حراست افراد میں سے کسی کا بھی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ملا۔

اس سے قبل پولیس کمیشنر مائیک بُش نے میڈیا کو بتایا تھا کہ دو اور افراد میں ایک عورت بھی شامل ہے جن کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد ملا اور وہ حراست میں ہیں ۔

پولیس کمشنر نے بتایا حراست میں لیے جانے والے تین افراد میں سے ایک کو رہا کر دیا گیا جبکہ باقی سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔

پولیس کمیشنر مائیک بُش کے مطابق حملے ڈین ایوینیو پر واقع مسجد النور اور لِن ووڈ مسجد میں پیش آئے ۔

حملہ آور بینٹن ٹیرنٹ جس کی عمر ۲۸ برس ہے نے سر پر لگائے گئے کیمرے کی مدد سے النور مسجد میں نمازیوں پر حملے کو فیس بک پر لائیو دکھایا تھا۔

آسٹریلین وزیراعظم نے تصدیق کی تھی کہ برینٹن ٹیرنٹ ان کا شہری ہے ۔ ویڈیو فوٹیج میں اس کو النور مسجد کے اندر مرد، عورتوں اور بچوں پر اندھادھند فائرنگ کرتا دیکھا گیا ۔

متعلقہ مضامین