بڑے لوگوں کی سنہری یادیں۔ شاہ مردان شاہ ثانی پیر پگارا ہفتم۔ ۶

پیر پگارا واحد سیاست دان تھے جن کے بیانات اور بات چیت کے کہی معنی لیے جا سکتے تھے ،کچھ ان کو مزاحیہ رنگ دیتے، ان پر کارٹون بنتے،کچھ ان کا کچھ اور مطلب نکالتے، کچھ کا خیال تھا کہ پیر صاحب ان استعاروں پر مبنی اپنے بیانات کے ذریعہ مارشل لا کی پابندیوں کے باوجود اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور پیر صاحب کو قریب سے جاننے والوں کا ایک موقف یہ تھا کہ پیر پگارا سیاست میں اپنے مخالفین کو نشانہ بناتے ہیں۔جن میں جنرل ضیاالحق سر فہرست ہیں۔اور یہ کہ جنرل صاحب ان کی باتوں کو سنجیدہ اور موثر سمجھتے ہیں۔ بظاہر یہ بات آسانی سے سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ پیر صاحب کی باتوں کو آخر کوئی کیوں سنجیدہ لے گا۔لیکن ایک واقعہ ایسا پیش آیا کہ اس نے یہ گتھی بھی سلجھا دی-ملک میں 1985 کے غیر جماعتی انتخابات ہو چکے تھے اور محمد خان جونیجو کی حکومت کو قائم ہوئے ایک دو سال گزر چکےتھے۔ پیر پگارا کے جنرل ضیا اور جونیجو کی حکومت کے ساتھ واضح اختلافات شروع ہو چکے تھے جس کا اظہار پیر صاحب اپنے بیانات کے ذریعہ کررہے تھے۔ ایسے ماحول میں پروفیسر غفور احمد نے اپنی رہائش گاہ پر سیاستدانوں کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا اس میں پیر پگارا بھی شریک اور میر مجلس تھے۔ کھانے کے بعد اخبار نویسوں نے حسب معمول پیر صاحب کو بات چیت کے لئے گھیر لیا۔ پیر صاحب کے جنرل ضیاالحق اور محمد خان جونیجو کے خلاف طنزیہ لہجے میں بیانات روز کا معمول تھے،جن میں شدید تنقید اور طنز و مزاح کے تیر ہوتےتھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار اقبال جعفری نے پوچھا “ جونیجو آپ کا نامزد وزیر اعظم ہے پھر آپ اس پر کیوں تنقید کرتے ہیں ؟ پیر پگارا نے اس کا برجستہ جواب دیا۔” یہ بات سراسر غلط ہے۔ جونیجو میرا نہیں بلکہ “ہمارے عارف “ کا نامزد کردہ ہے جو بلکل درست بات تھی۔ اس کا تفصیلی احوال آگے آئے گا۔ “ ایک اور اخبانویس کے اس سوال پر کہ جنرل کے ایم عارف کب ریٹائر ہوں گے؟ پیر صاحب نے جواب دیا کہ ہمارا “جنرل عارف “کبھی ریٹائر نہیں ہوگا” یہ خبر معمول کے مطابق دوسرے دن کے تمام اخبارات کے پہلے صفحے پر اس سرخی کے ساتھ شائع ہوئی “میرا جنرل عارف کبھی ریٹائر نہیں ہوگا. پیر پگارا “۔ جنگ کے نمائندے مختار عاقل نے خبر کے ساتھ ساتھ سیاسی ڈائری بھی لکھ دی جو دوسرے ہی دن جنگ کے راولپنڈی سمیت سارے ایڈیشنوں میں نمایاں طور پر شائع ہوئی۔اس کے تیسرے ہی دن اخبارات میں جنرل کے ایم عارف کے ریٹائرمنٹ کی خبر شائع ہوئی۔ جس کو معمول کی کاروائی سمجھا گیا۔لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ایسا نہیں تھا دراصل یہ پیر صاحب کے اس ذو معنی فقرے کے غلط مطلب نکالنے یا سمجھنے کا نتیجہ تھا جو جنرل ضیاالحق نے سمجھ لیا تھا۔

جنرل ضیاء کی عادت تھی کہ وہ ملک بھر کے اخبارات کی اہم سرخیاں اور بڑی خبریں تو صبح ہی پڑھ لیتے تھے لیکن تفصیلی خبریں اور کالم رات کو پڑھتے تھے اسطرح وہ حالات سے براہ راست باخبر رہتے تھے اور انہیں پی آئی ڈی کے روائتی اخباری تراشوں پر انحصار نہیں کرنا پڑتا تھا۔ دو چار دن کے بعد رپورٹ ملی کہ پیرپگارا کا اشارہ اپنے دوست اور روزنامہ جنگ کے چیف رپورٹرعارف الحق عارف کی طرف تھا جس کو وہ “ہمارا جنرل عارف “ کہتے تھے۔ لیکن تیر کمان سے نکل چکا۔ خود مجھے بھی اس کی کوئی خبر نہیں تھی ۔

مجھے اس کی اطلاع این پی پی کے مرکزی رہنما سید ضیاء عباس نے اس کے دو تین ہفتے بعد دی تو میں بھی حیران ہوا اور یقین نہیں آرہا تھا کہ اتنے بڑے بڑے فیصلے ایسی ایک خبر کی بنیاد پر بھی ہو سکتے ہیں اس عشائیہ کے چند دن بعد نیشنل پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید ضیا عباس اسلام آباد گئے اور ان کی وہاں ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اختر عبدالرحمن سے ملاقات ہوئی جن سے ان کے روابط تھے۔ ضیا عباس نے کے ایم عارف کے اس قدر جلد ریٹائر ہونے کی وجہ پوچھی تو جنرل اختر نے اس کی ساری تفصیل بتا ئی۔ وہ کراچی واپس آئے اور جنگ کے دفتر سے مجھے ایمپیز ریسٹورنٹ لے گئے۔ جو ہم سب کے مل بیٹھنے کی بہترین جگہ تھی۔ ضیا عباس نے مجھے یہ سارا واقعہ سنایا۔

عارف الحق عارف،پیر پگارا،جسٹس (ریٹائر) وجیہ الدین اور الحاج شمیم الدین

سچی بات ہے کہ میں نے اس کہانی پر پھر بھی کچھ زیادہ یقین نہیں کیا لیکن اس کی بعد میں ایک اور طرح تصدیق اس وقت ہوئی جب جنرل ضیاء الحق پیر پگارا کی صاحبزادی کی شادی میں کنگری ہاؤس آئے تھے۔ پیرپگارا نے جنرل ضیا سے ملاقات کے لئے جن اہم سیاست دانوں اور دوستوں کا انتخاب کیا تھا ان میں علامہ شاہ احمد نورانی‘ پروفیسر غفور احمد‘ سردار شیر باز خان مزاری‘ غلام مصطفے جتوئی، پروفیسر شاہ فرید الحق‘ جنرل عمر، جنرل بشیر خان، سینیٹر ذوالفقار علی شاہ جاموٹ،وزیراعلی سندھ جسٹس غوث علی شاہ ، بوستان علی ہوتی سمیت تقریباً 20معززین کے ساتھ میں بھی وہاں موجود تھا۔

جنرل ضیا سے مہمانوں کا تعارف کرتے ہوئے جب پیر صاحب میرے پاس پہنچے تو انہوں نے میرا تعارف اس طرح کرایا کہ “ اب آپ میرے ’’جنرل عارف‘‘ سے ملیے۔ اس پر جنرل ضیاء الحق نے مجھ سے پر جوش مصافحہ کیا اور ہاتھوں کو اوپر نیچے ہلاتے ہوئے چھ سات بار کہا ’’اچھا تو آپ ہیں‘ جنرل عارف۔ اچھا تو آپ ہیں جنرل عارف‘‘۔ اس طرح ضیاء عباس کی بتائی ہوئی بات کی تصدیق ہوگئی تھی۔

جاری ہے۔

متعلقہ مضامین