روزنامہ جنگ کی سنہری یادیں۔2 . حافظ محمد اسلام

‎حافظ اسلام اس کہکشان کے پہلے ستارے تھے جو ہم سےالگ ہوئے -اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔ وہ بہت با صلاحیت صحافی، کالم نگار اور نامہ نگار تھے- حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ دین کا علم بھی رکھتے تھے اور اسلامی تہواروں پر ان ہی کے مضامین جنگ کے رنگین ایڈیشنوں میں شائع ہوتے تھے۔ لکھنؤ کی تہذیب میں پرورش پانے والے حافظ اسلام کو اردو زبان پر مثالی عبور حاصل تھا۔ کمال کے سیاسی نامہ نگار تھے اور ان کے سیاسی تجزیے پورےملک کے سیاسی حالات کی عکاسی کرتے تھے۔ ان کی رپورٹنگ کا کمال یہ تھا کہ نشتر پارک میں منعقد ہونے والے بڑے سے بڑے جلسہ عام میں رہنماؤں کی تقاریر اسی وقت براہ راست لکھتے جاتے اور باری باری دفتر کے چند مقرر افراد کے حوالے کرتے جاتے جو دفتر جا جا کر کاتب کو دیدیتے اور جب جلسہ اپنے اختتام کو پہنچتا تو ان کی رپورٹ بھی مکمل ہو چکی ہوتی اور وہ صرف دفتر جا کر سرخیوں کے انتخاب میں نیوز ایڈیٹر کی مدد کرتے۔اس طرح کاپی وقت پر پریس چلی جاتی اور ہمارا اخبار سب سے پہلے شائع ہو کر قارئین تک پہنچ جاتا۔ وہ سیاسی نامہ نگاری کے ساتھ ساتھ تجارتی نامہ نگار بھی تھے اور اس میں ان کی مہارت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر سال جب مئی کے مہینے میں ہفتے کے روز قومی بجٹ کا اعلان ہوتا۔ تو وہ سیگرٹ کے چند پیکٹس کے ساتھ نیوز ایڈیٹر کے کمرے میں بند ہو جاتے اور تن تنہا پورے بجٹ کی خبریں بناتے-شہ سرخی
‎،چار کالمی،تین کالمی،اور دو کالمی خبریں اور اعدادو شمار کے ساتھ بجٹ ایک نظر میں،سمیت بجٹ کی ساری خبریں ان ہی کی لکھی ہوتیں۔رات کی شفٹ کا باقی سارا عملہ اس دن خود کو ہلکا پھلکا اور تفریح موڈ میں محسوس کرتا حافظ اسلام کی اس ساری کارکردگی کا معاوضہ سیگریٹ کے صرف چند پیکٹ ہوتے جو وہ اس دن اس کام کے لئے نیوز ایڈیٹر سےطلب کرتے اور مذاق میں اسے اس دن کی رشوت قرار دیتے۔اس زمانے میں اردو صحافت میں ان سے بڑا ماہر سیاسی اور تجارتی نامہ نگار میں نے نہیں دیکھا۔ ان کے اس دور کے تمام بڑے سیاستدانوں کے ساتھ گہرے ذاتی تعلقات تھے اور ان میں سے ہر بڑا لیڈر ان کی موجودگی کے یقین کے بعد ہی پریس کانفرنس ،استقبالیہ یا جلسہ عام میں تقریر شروع کرتا۔ ایسے متعدد واقعات کا میں خودگواہ ہوں۔اس کا اندازہ آپ صرف اس ایک واقعہ سے لگا سکتے ہیں کہ غالبا” 1968 کی بات ہے،ایک بار جماعت اسلامی کے بانی امیر سید ابوالاعلی مودودی رح کراچی کے دورے پر آئے ہوئے تھے اور ناظم آباد نمبر تین میں پروفیسر عبد الغفور احمد کے گھر قیام پذیر تھے۔ پروفیسر غفور نے مولانا کی اخبار نویسوں سے ملاقات کرانے کیلئے ان کو اپنے گھر ناشتے پر مدعو کیا چونکہ دعوت نامہ اخبار کے دفتر آیا تھا اس لئے مجھے بھی اس کی اطلاع ہو گئی،مولانا مودودی سے ملنے کا یہ بہترین موقع تھا اس لئے میں نے حافظ صاحب سے درخواست کہ وہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے جائیں جس کی انہوں نے اجازت دے دی اور ایک ساتھ جانے کیلئے اپنے گھر بلا لیا جہاں سے ہم دونوں ان کے گھر ذرا تاخیر سے پہنچے۔ جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو ہمیں مولانا کی یہ آواز سنائی دی کہ “جب تک اسلام نہیں آئے گا میں ناشتہ نہیں کروں “ دوسرے مہمان مولانا کی ان کے مزاج کے خلاف اس مشروط بات پربڑے حیران تھے۔ لیکن حافظ اسلام کے داخل ہوتے ہی سب پر یہ عقدہ کھل گیا کہ مولانا کا اشارہ در اصل کس طرف تھا۔ ہوا یہ تھا کہ جب وقت مقررہ پر سارے مہمان آگئے تو میزبان نے ناشتہ شروع کرنے کے لئے دستر خواب بچھایا تو مولانا نے یہ جملہ کہا-ان کا مقصد دراصل یہ تھا کہ وہ جنگ کے حافظ محمد اسلام کی آمد کے بعد ہی ناشتہ شروع کریں گے۔ یہ مولانا کا حافظ صاحب کے لیے احترام کا تعلق تھا جس کا اظہار انہوں نے اتنے عمدہ انداز میں کیا تھا۔ حافظ اسلام کے ایسےہی گہرے اور احترام کے تعلقات چودھری محمد علی، خواجہ ناظم الدین،مفتی محمود، ذوالفقار علی بھٹو،پیر پگارا،چودھدری ظہور الہی،حسین شہید سہروردی، شیخ مجیب الرحمن،فضل القادر چودھدری، پروفیسر غلام اعظم،نورالامین،مولانا شاہ احمد نورانی،مولانا عبدالستار نیازی،شورش کاشمیری،مولوی فرید احمد، مولانا بھاشا نی،نوابزادہ نصراللہ خان، خان عبدالولی خان، اکبر بگٹی،غوث بخش بزنجو،عطااللہ مینگل،ائرمارشل (ریٹائرڈ)اصغر خان، ممتاز محمد خان دولتانہ،خان عبدالقیوم خان،سردار شوکت حیات خان،محمود علی قصوری،غلام مصطفے جتوئی،پیر طالب المولا آف ہالہ،شیر محمد مری،معراج خالد،مخدوم سجاد حسین قریشی، مخدوم حسن محمود،اے کے بروہی،جسٹس ظہیر الحسن لاری،عبدالمجید سندھی، مولا بخش سومرو،میاں طفیل محمد، چودھدری غلام محمد، مولانا احتشام الحق تھانوی،مولانا عبدالحامد بدایونی،علامہ رشید ترابی،علامہ ابن حسن جار چوی،محمود الحق عثمانی،مولانا جان محمد عباسی،عبدالحمید جتوئی سمیت ان سارے سیاستدانوں سے تھے جو اکثر کراچی کے دوروں پر آتے تھے اور سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں خود کو مشغول رکھتے تھے۔ میں اس زمانے میں اپنے دوسرے فرائض کے علاوہ ان سے ایک اچھا سیاسی رپورٹر بننے کی تربیت بھی لے رہا تھا اور اکثر ان کے ساتھ رہنے کی کوشش کرتا تھا اس لئے مجھے ان کے ان قومی رہنماؤں کے ساتھ قریبی تعلقات کو دیکھنے کا بار بار موقع ملا۔

حافظ اسلام 1976 میں کسی دفتری یا نجی کام کے لئے اسلام آباد میں تھے کہ وہیں اچانک ان انتقال ہو گیا،اور جنگ اس بڑے دانشور اور صحافی سے محروم ہو گیا۔ ان کے جسد خاکی کو کراچی لایا گیا اور یہیں ان کو آسودہ خاک کیا گیا۔ مجھے علم ہے کہ حافظ صاحب ناظم آباد نمبر ایک میں 133 مربع گز کے کرائے کے ایک مکان میں رہتے تھے ، انہوں نے کتابوں کے علاوہ ورثے میں کوئی جائیداد نہیں چھوڑی تھی۔ ان کا بیٹا ملازمت کے حصول کے لیے مارا مارا پھرتا رہا۔ جنگ میں چھپنے والے ان کے اسلامی اور سیاسی مضامین کے مجموعے اور ان کی مکہ مکرمہ کی تاریخ پر ایک مسودے کو شائع کرنے کے ارادے کا بھی اظہار کرتا رہا اس میں وہ کامیاب ہوا یا نہیں اس کا مجھے علم نہیں کیوں کہ ایک دو سال کے بعد پھر اس سے میرا رابطہ نہیں ہوا۔ اللہ حافظ اسلام کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے عارف الحق عارف نے 1967 میں روزنامہ جنگ کراچی سے صحافت کا آغاز کیا،جہاں 2002 تک وابستہ رہے،اسی سال جیو ٹی وی سے وابستہ ہوئے جہاں بطور ڈائریکٹر 18 سال سے زائد عرصہ گزارا، عارف الحق عارف کی صحافت سے 52 سالہ وابستگی کا یہ سفر بڑا دلچسپ ہے،پاکستان 24 میں “ بڑے لوگوں کی سنہری یادیں “ کے اس تحریری سلسلے میں آپ کو نامور لوگوں کی متاثر کن کہانیاں پڑھنے کو ملیں گی۔امید ہے قارئین کے لیے یہ سلسلہ دلچسپ ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے