چیف جسٹس نے کہا کہ’ہائی پروفائل نیب کنوکٹ‘

رضوان عارف
منگل کی صبح سپریم کورٹ کے باہر غیرمعمولی سیکورٹی نہیں تھی مگر عدالت کے اندر جانے سے قبل درجن بھر پولیس اہلکاروں کے سامنے سے گزرنا پڑا ۔
اسلام آباد کی صبح ہلکی بارش میں بھیگ رہی تھی اور عدالت کے مرکزی دروازے پر کھڑے اہلکاروں کے لیے چھتریوں کا بندوبست نہ تھا ۔
پاکستان کے سابق وزیرا عظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کے مقدمے کی سماعت کمرہ عدالت نمبر ایک میں پونے گیارہ بجے شروع ہوئی ۔ساڑھے نو بجے لگنے والی عدالت کے تین رکنی بنچ نے اس سے قبل تین مقدمے سنے جو قتل اور اغوا برائے تاوان کے تھے ۔
نواز شریف کی درخواست کی سماعت شروع ہونے تک کمرہ عدالت مسلم لیگ ن کے رہنماؤں سے بھر چکا تھا ۔ پہلی نشستوں پر راجہ ظفرالحق، اقبال ظفر جھگڑا بیٹھے تھے ۔ دائیں جانب والی پہلی رو میں حمزہ شہباز مسلم لیگ ن سے وابستہ دو وکیلوں کے درمیان بیٹھے تھے ۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق،احسن اقبال، پرویز رشید، رانا ثنا اللہ اور امیر مقام کو پچھلی نشستوں پر جگہ ملی ۔
سماعت کے آغاز پر وکیل خواجہ حارث کے دائیں بائیں روسٹرم پر چار مزید وکیلوں نے اپنی جگہ بنائی تو چیف جسٹس آصف کھوسہ نے ان سے کہا کہ آپ اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں خواجہ حارث کو آپ کی مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔
خواجہ حارث نے عدالت میں دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ یہ درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے جس میں نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست مسترد کی گئی ۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہائیکورٹ نے میڈیکل بورڈ کی رپورٹس کو اہمیت نہیںدی ، نواز شریف کی صحت کو دیکھنے کے لیے پانچ میڈیکل بورڈ تشکیل دیے گئے ۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ ان طبی رپورٹس کی تاریخیں بتائیں ۔ خواجہ حارث نے کہا کہ پہلی 15جنوری اور آخری 18 فروری کی ہے ۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ ہائیکورٹ میںپہلے میرٹ پر ضمانت کی درخواست دائر کی گئی وہ بعد میں واپس لی گئی، کیا 15جنوری سے قبل کی کوئی میڈیکل رپورٹ دستیاب ہے جس سے حالیہ رپورٹس کا موازنہ کے کے دیکھا جاسکے کہ صحت میں کیا خرابی ہوئی؟
چیف جسٹس نے کہا کہ بظاہر نظر آتا ہے کہ ان کی بیماری کی ایک میڈیکل ہسٹری ہے ۔
خواجہ حارث نے کہا کہ پرانی میڈیکل رپورٹ اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی حالت ہے جب ان کو جیل سے 29جولائی 2018کو لایا گیا تھا ۔
جسٹس سجادعلی شاہ نے کہا کہ اس کے ساتھ یکم اگست 2018کا ڈسچارج سرٹیفیکیٹ ہے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم وہ خطوط پڑھنے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں جو ان کے معالج ڈاکٹر لارنس نے لکھے ہیں ۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ 25جنوری کی رپورٹس نواز شریف کے ذاتی معالج نے لندن میں ڈاکٹر ڈیوڈ آر لارنس کو بھیجیں تھیں جنہوں نے اس پر اپنی رائے دی ہے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ (نواز شریف) لندن میں زیرعلاج رہے ہیں ۔
وکیل نے کہا کہ نواز شریف کو سنہ 2011سے دل کی تکلیف ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وہ ان تکالیف سے پہلے بھی گزرتے رہے ہیں اور اب بھی ان کی صحت میں کوئی بگاڑ نہیں تو معاملہ مختلف ہوگا اور عدالت کو مداخلت کی ضرورت نہیںہوگی مگر جیسا آپ نے ہائیکورٹ کے سامنے رکھا کہ ان کی صحت بگڑ رہی ہے تو الگ صورتحال ہوگی ۔ اس کو دیکھتے ہیں ۔
خواجہ حارث نے عدالت کی ہدایت پر نواز شریف کی طبی رپورٹس تفصیل سے پڑھنا شروع کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ ان طبی اصطلاحات پر بھی ہماری رہنمائی کیجیے گا ۔
چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ایک رپورٹ میں عمر 65برس درج ہے اور اگلی میڈیکل رپورٹ پر 69سال لکھا ہے ۔
خواجہ حارث نے میڈیکل رپورٹس پڑھیں تو چیف جسٹس نے کہا کہ اب ان رپورٹس کو اس زاویے سے دیکھنا ہوگا کہ صحت میں کیا تبدیلی آئی ۔
وکیل نے کہا کہ ہر ڈاکٹر نے مزید تفصیلی معائنے کی بات کی ہے اوراس کے لیے ان کو ہسپتال میں داخل کرنے کی رائے دی ہے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ازراہ مذاق ایک بات کرتا ہوں کہ پاکستان میں ہر ڈاکٹر جس مریض کا ایک ٹیسٹ بنتا ہے اس کو دس تجویز کرتے ہیں ۔اس میں بھی ڈاکٹرز یہی کہہ رہے ہیں کہ مزید ٹیسٹ کرالیں ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹس کا یہ متعلقہ حصہ دکھائیے جس پر آپ زور دینا چاہتے ہیں، ہر ایک جانتا ہے کہ وہ گذشتہ کئی برسوں سے ان بیماریوں سے گزر رہے تھے، ان کی زندگی بہت مصروف تھی اور وہ جسمانی طور پر بھی کافی اچھے تھے، الیکشن مہم بھی چلائی، بہت متحرک تھے، ٹرائل کا بھی سامنا کیا ۔ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان کی صحت میں خرابی کیا آئی، طبی رپورٹس میں سے وہ حصہ دکھایئے ۔
خواجہ حارث نے کہا کہ یہ ایک جزوی حصہ ہے، مکمل تصویر ابھی سامنے آنی ہے ۔ لیبارٹری رپورٹ میں جو نتائج اخذ کیے گئے ہیں ان کو بھی پڑھ لیا جائے ۔
چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ پر ہاتھ سے بھی کچھ لکھا ہے وہ پڑھ لیا ہے؟
وکیل خواجہ حارث نے بھی مسکرا کر کہا کہ ہائی پروفائل ۔ چیف جسٹس نے دوبارہ پڑھا ‘ہائی پروفائل نیب کنوکٹ۔’
اس پر عدالت میں ہنسی کی آواز سنائی دی ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ طبی رپورٹس میں ڈاکٹروں نے اپنا تخمینہ نہیں لگایا بلکہ یہ کہا ہے کہ مزید تجزیے کے لیے داخل کرایا جائے ۔
خواجہ حارث نے کہاکہ جیل میں یہ طبی تجزیے ممکن نہیں اس لیے یہ درخواست دائر کی ۔
اس دوران عدالت سے باہر گئے مسلم لیگ ن کے رانا ثنا اللہ دوبارہ کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو تقریبا دس کارکنوں نے ایک ساتھ اٹھ کر ان کے لیے نشست خالی کی ۔
نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیراعظم کے علاج کے لیے ضروری ہے کہ ان کی زندگی سڑیس فری (دباؤ سے آزاد) ہو۔ اس کے لیے صرف جیل سے باہر ہونا ہی نہیں بلکہ آزاد
شہری کے طور پر ذہنی آسودگی میسر ہونا بھی ضروری ہے ۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ میڈیکل رپورٹس دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ بظاہر ان کا علاج جیل میں ممکن نہیں، قانون کے مطابق قیدی کوعلاج کے لیے صرف ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے ۔
خواجہ حارث نے کہا کہ سٹریس میں کمی کے لیے ضمانت پر رہائی ضروری ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے پاکستان میں کسی ڈاکٹر سے علاج نہیں کرایا، یہاں ڈاکٹر صرف ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں ۔
وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی دو اوپن ہارٹ سرجریز ہو چکی ہیں اور سات سٹنٹ ڈالے گئے ہیں، ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ہم ان کا عام مریضوں کی طرح علاج نہیں کر سکتے ۔
چیف جسٹس نے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ ‘آپ کا کہنا یہ ہے کہ وہ صرف بیرون ملک علاج کرا سکتے ہیں، کیا وہ ضمانت ملنے پرباہر جا سکتے ہیں، ان کا نام تو ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ہے۔’
چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کوئی ایسی مثال ہے کہ سزا یافتہ شخص علاج کے لیے بیرون ملک جائے؟۔
چیف جسٹس نے مسکرا کر کہا کہ باہر بھیجنے کا تجربہ کچھ اچھا نہیں رہا ۔ کئی ایسے ملزمان ہیں جو ٹرائل کے دوران ملک سے باہر گئے اور واپس نہیں آئے ۔

جسٹس یحی آفریدی نے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ پہلے مرحلے میں حتمی ریلیف نہ مانگیں، اگر ان کے ذہن میں کچھ ڈاکٹروں کے نام ہیں تو نام بتائیں تاکہ وہ دیکھ سکیں ۔
وکیل نے کہا کہ بغیر ضمانت ملے وہ ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے، اس کے لیے فری مائنڈ ہونا چاہیے ۔ نوازشریف کہیں نہیں جا رہے ۔ استدعا یہ ہے کہ سٹریس فری موقع دیں تاکہ وہ فیصلہ کر سکیں ۔
چیف جسٹس آصف کھوسہ نے سماعت کے اختتام پر کہا کہ آئندہ سماعت پر مقدمہ ملتوی نہیں کیا جائے گا، فریقوں کو سن کر فیصلہ کریں گے ۔
عدالت نے نواز شریف کے وکیل کی جانب سے پیش کی گئی پانچ طبی رپوٹس ملاحظہ کرنے کے بعد وفاق اور قومی احتساب بیوروکو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 26مارچ تک ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے