بڑے لوگوں کی سنہری یادیں ۔ شاہ مردان شاہ ثانی پیر پگارا ہفتم ۔ ۷

بحالی جمہوریت کی تحریک (ایم آر ڈی ) ملک بھر اور خاص طور پر سندھ میں زوروشور کے ساتھ چل رہی تھی۔پیپلز پارٹی کی زیادہ تر قیادت روپوش تھی اور سیاسی سرگرمیوں پر پاپندی میں شدت تھی۔ مرتضی بھٹو ملک سے باہر الذوالفقار تنظیم قائم چکے تھے۔ مارشل لا کی مخالف جماعتوں کے لیڈروں کی کڑی نگرانی جاری تھی۔ اخبارات پر سنسر شپ کی پاپندیوں میں کمی کے بجائے اضافہ کر دیا گیا تھا۔سیاسی رہنماؤں کو ایک شہر میں جمع ہونے سے روکنے کے طرح طرح کے خفیہ حربےاختیار کئے جارہے تھے۔ کہ مبادہ حکومت کے خلاف کوئی کل جماعتی کانفرنس منعقد نا ہو یا نئی تحریک وجود میں نا آجائے۔ حکومت نے سیاسی جماعتوں کے بعض سرکردہ رہنماؤں کی وفاداریوں کے سودے کر لئے تھے جس کی وجہ اسے سیاسی سرگرمیوں کی براہ راست خبریں ملتی رہتی تھیں۔ اس سب کے باوجود جنرل ضیاالحق کی حکومت شدید دباؤ میں تھی۔ پیر صاحب واحد بڑے اور متحرک لیڈر تھے۔ جن کے بظائر غیر سیاسی ذو معنی لیکن سیاسی پیغامات والے بیانات اور اخباری نمائندوں سے بات چیت ہر دوسرے تیسرے روز اخبارات کی زینت بنتی تھی۔ ان کے بیانات کا انتظار کیا جاتا تھا اور ملک بھر میں واحد سیاسی سرگرمی سمجھ کر یہ بیانات پڑھے جاتے تھے

‎پیر پگارا ضرورت کے مطابق پریس
‎کانفرنسیں کرتے یا جنگ کے لئے میں ان کی بات چیت کو نمایاں طور پر صفحہ اوّل پر شائع کرتا۔جو جنگ کے کراچی کے علاوہ راولپنڈی،کوئٹہ اور لندن کے ایڈیشنز میں شائع ہوتا۔ اس زمانے میں جنگ اخبار پاکستان کا اثرات کے اعتبار سے سی این این کا سا اثر رکھتا تھا۔ سیاسی تجزیہ نگار مسلسل یہ قیاس آرایاں کر رہے تھے کہ جنرل ضیا الحق عبوری حکومت تشکیل دے کر اپنے اوپر سے سیاسی دباؤ کم کر سکتے ہیں۔سیاسی دباؤ کے اس ماحول میں ایک دن کنگری ہاؤس میں میری پیر پگارا سے معمول کی ملاقات ہوئی۔ یہ غالباً 81ء کی بات ہے۔ پیرپگارا اس وقت متحدہ مسلم لیگ کے سربراہ اور میرے محترم دوست اور ممتاز ماہر قانون ایس ایم ظفر اس کے سیکریٹری جنرل تھے مسلم لیگ ملک کی ایک بڑی جماعت تھی اس میں آج کل کی طرح کوئی گروہ بندی نہیں تھی۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں پیر صاحب کا بڑا احترام کرتی تھیں۔اس کے علاوہ وہ ایک بڑی روحانی خانوادے کے گدی نشین بھی تھے جن کے لاکھوں مرید پاکستان اور بھارت میں پھیلے ہوئے تھے۔ سیاست دان یہ بھی سمجھتے تھے کہ پیر صاحب جنرل ضیا کے قریب ہیں۔اور وہ ان کو کوئی بھی رول دے سکتے ہیں۔ اس کے واضح امکانات بھی تھے۔لیکن پیر صاحب کا رجحان مارشل لا مخالف تھا۔ اس پس منظر میں با ت ہو رہی تھی کہ پیر صاحب سے میں نے پوچھا اگر صدر ضیاء الحق آپ کو آج اور اس وقت دعوت دیں کہ ’’میں ملک میں عبوری سویلین حکومت قائم کر رہا ہوں جو انتخابات کرائے گی۔ آپ وزیر اعظم کا نام دیں‘‘ تو آپ اپنی جماعت سے کس رہنما کو اس منصب کےلئےنامزد کریں گے؟ پیر صاحب سنجیدہ ہو گئے اور مسلم لیگ کے ملک بھر میں اہم رہنماؤں میں سے ایک ایک نام لیتے گئے اور مسترد کرتے گئے،ان میں ان کے سیکرٹری جنرل ایس ایم ظفر ، چوہدری ظہور الٰہی، فدا حسین ، زاہد سرفراز ، خواجہ صفدر ، حامد ناصر چٹھہ اور ظفر اللہ جمالی کے نام مجھے یاد رہ گئے ہیں۔مجھے یاد ہے انہوں نے ان کو رد کرنے کی وجوہ بھی بیان کی تھیں۔

‎جب ان کی پوری فہرست سے نام ختم ہوگئے تو میں نے ان سے عرض کیا پیر صاحب! جو وزیر اعظم بن سکتا
‎ہے اور ملک اور قوم کو ایک اچھی حکومت اور شرافت کی سیاست دے سکتا ہے اس غریب کا تو آپ نے شائد اس لئے نام ہی نہیں لیا صرف اس لئے کہ وہ آپ کا مرید اور عقیدت مند ہے اور آپ کے سامنے جوتے اتار کر قدموں میں بیٹھتا ہے۔ اسی کو کہتے ہیں “ گھر کی مرغی دال برابر “پیر صاحب کھل کھلا کر ہنس پڑے اور پوچھا وہ کون ہے ؟ میں نے بتایاکہ وہ شخص آپ کا مرید محمد خان جونیجو ہے۔ آپ اس کا نام کیوں نہیں لیتے اس پر وہ مسکرائے اور کہا ’’اچھا اگر آپ کہتے ہیں تو میں اس کو ادھار دے دوں گا، کامیاب ہوگیا تو ٹھیک ورنہ نام واپس لے لوں گا‘‘۔ میں یہی چاہتا تھا کہ وہ خود یہ بات کہہ دیں۔اور میں اس کو خبر بنا دوں۔ میں نے ان سے کہا کہ آئندہ یہ دو جملے آپ کے بیان اور اخباری نمائندوں سے بات چیت کا ہمیشہ حصہ رہنے چاہییں۔ یہ ایک بریکنگ نیوز تھی جو میں نے اسی دن جنگ میں بڑی سرخی کے ساتھ اپنے نام کے ساتھ شائع کر دی کہ پیر صاحب نے کہا ہے ’’ ضیاء الحق نے ملک میں سویلین حکومت قائم کرنے کے لئے اگرہم سے وزیر اعظم کے لئے کسی کا نام مانگا تو میں جونیجو کا نام ’’اُدھار وزیر اعظم‘‘ کے طور پر پیش کردوں گا۔ چل گیا تو ٹھیک ورنہ واپس لے لوں گا”یہ خبر جنگ میں نمایاں طور پرشائع ہوئی اور پھر’’ جونیجو ادھار وزیر اعظم‘‘ کا بڑا چرچا ہوا اور روزانہ خبریں شائع ہوتی رہیں اور کالم بھی لکھے گئے ۔پیر صاحب اسلام آباد ، لاہور یا کسی اور شہر جاتے وہ آئند وزیر اعظم کے لئے محمد خان جونیجو ہی کا نام لیتے۔
جاری ہے۔

متعلقہ مضامین