مفتی محمد تقی عثمانی پر حملہ، کب کیا ہوا؟

عبدالجبارناصر
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب پر جمعہ(22 مارچ 2019) کو کراچی میں قاتلانہ حملے بعد ہمیں دار العلوم کراچی میں تقریباً ادھا گھنٹہ تک علماء کے ہمراہ حضرت سے ملاقات کا شرف ملا ، جس میں حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے قاتلانہ حملے کا احوال بیان کرتے ہوکہا کہ حسب معمول بیت المکرم مسجد جمعہ پڑھنانے جار ہے تھے نیپا چورنگی کے قریب راشد منہاس روڈ پر اچانک گاڑی پر چاروں اطراف سے فائرنگ ہوئی اور اس وقت میں تلاوت قرآن پاک کر رہا تھا ، اس لئے پہلے مجھے یہ بھی علم نہیں تھا کہ یہ کس مقام پر حملہ ہوا ہے ، اللہ تعالی نے ہمیں محفوظ رکھا مگر میرے دو ساتھی شہید اور دو شدید زخمی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ سفر کے دوران میرا یہ معول ہے کہ میں تلاوت قران پاک، اذکار، مناجات مقبول یا لکھنے پڑھنے کا کام کرتا ہوں ، جمعہ کی نماز بیت المکرم مسجد میں پڑھتا ہوں۔ آج بھی دارالعلوم سے جاتے ہوئے میں نے قرآن پاک کی تلاوت شروع کی ، میرے ساتھ میری اہلیہ ، پوتا اور پوتی بھی تھے ، اہلیہ بیت المکرم کے قریب بیٹی کی گھر اورمیں نماز جمعہ پڑھانے کے لئے جاتھا ، راستے میں اچانک فائرنگ ہوئی ، اس وقت مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ میں یہ کونسی جگہ ہے کیونکہ میں گاڑی کی پچھلی نشست پر اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ تلاوت میں مصروف تھا۔


مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ پہلے حملے کے بعد ڈرائیور حبیب نے فوری طور پر اوسان بحال رکھتے ہوئے گاڑی بھگانے کی کوشش کی میرا گمان ہے کہ پہلے حملے میں ان کو گولی لگ چکی تھی مگر انہوں نے مجھے نہیں بتایا، میں نے جب سر اٹھاکر باہر دیکھا تو نیپا چورنگی کے قریب راشد منہاس روڈ کی جگہ تھی ۔ گاڑی کی اگلی نشستوں پر ڈرائیور اور گارڈ فاروق ، حملے کے بعد ہم تھوڑا ہی آگے بڑھے تو حملہ آور پلٹ کر آئے اور ایک بار پھر گولیوں کی بارش کی اور چاروں طرف سے حملہ کیا ، گولیاں ہمارے سروں کےاوپر سے گزریں ، اس دوران ڈرائیور حبیب کے دائیں بازوں نے کام کرنا چھوڑ دیا اوروہ مسلسل گاڑی چلاتا رہا، وہ مجھے مسلسل کہتا رہا کہ مفتی صاحب آپ نیچے ہوجائیں ۔ اس فائرنگ میں اللہ تعالیٰ نے میری اہلیہ ، مجھے ، پوتی اور پوتے کو مکمل طور پر محفوظ رکھا ۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں شاید کچھ دور جانے کے بعد خیال آیا کہ ٹارگٹ ہے محفوظ ہے، اس لئے دوبارہ حملہ کیا ۔ دوسرے حملے میں شدید فائرنگ جس پولیس گارڈ فاروق شدید زخمی ہوگیااور ڈرائیور کا ایک ہاتھ شدید زخمی ہونے سے کام کرنا چھوڑ گیا اور ڈرائیور نے ایک ہاتھ سے گاڑی کو چلاتا رہا ۔ ایک جگہ میں کہا کہ آپ سائیڈ پر آجائیں میں گاڑی چلاتا ہوں ۔ جس پر حبیب نے جواب دیا حضرت آپ بس خود کوسنبھالیں اور تھوڑا نیچے ہوکر بیٹھیں گاڑی میں خود چلاتا ہوں اور ایک ہاتھ سے وہ گاڑی چلا کر ہسپتال تک لے آیا ۔اس دوران میں نے اپنے داماد سے فون پر رابطہ کیا جن کی رہائش بیت المکرم مسجد کے قریب ہے اور اس وقت ہمیں اندازہ ہوا تھا کہ دوسری گاڑی پر بھی حملہ ہوا ہے میں نے داماد کو ہدایت دی کہ ان زخمیوں کو فوری ہسپتال پہنچا دو ہمیں ہسپتا ل پہنچ رہے ہیں ۔

مفتی محمد تقی عثمانی نے بتایا کہ ہسپتال پہنچ کر ڈرائیور حبیب نڈہال ہوگیا اور میں نے فوری طور دونوں کو ایمرجنسی میں پہنچایا جہاں پر ڈاکٹروں نے بتایا کہ ڈرائیور قابل علاج ہےاور اس کی حالت بھی خطرے سے باہر ہے لیکن پولیس گارڈ شہید ہو گیا ہے اور وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا ہے ۔

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ ہماری جو پچھلی گاڑی تھی اس میں ایک آگے ایک گارڈ صنوبر خان موجود تھا جو در العلوم کراچی کا تھا اور ایک عامر شہاب ڈرائیور تھا ۔ فائرنگ کے دوران آگے بیٹھا گارڈ شہید ہوگیا اور ڈرائیور شدید زخمی ہے جس کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے اور بتایا جارہا ہے کہ اس کا آپریشن بھی کیا جائے گا۔اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ کامعجزہ ہے کہ میں محفوظ رہا ہوں اور سب کے سامنے ہوں۔ ہم سب شہداءکے لئے دعا کرتے ہیں اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے۔اور زخمیوں جلد صحت یاب کرے۔

انہوں نے کہا ہم اس حملے میں معجزانہ طور پر بچ گئے ہیں ، کیو نکہ بعد میں مجھے بتایا گیا کہ جس گاڑی میں ہم سوار تھے اس پر گولیوں کے 16 نشان ہیں ۔ مفتی محمدتقی عثمانی نے عوام سے کہا کہ وہ امن و امان اور سب سلامتی کے لئے دعا کریں ۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کی اس نے محفوظ رکھا مگر اپنے ساتھیوں کی شہادت اور زخمی ہونے کا افسوس ہے ۔ ایک سوال پر کہا کہ دار العلوم کراچی سے نکلنے کے بعد ہمیں کہیں بھی کوئی احساس نہیں ہوا کہ کوئی ہماری ریکی کر رہا ہے ۔ مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ حملہ بہت شدید تھا ۔


شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم قاتلانہ حملے کے حوالے سے جو واقعہ بیان کیا ہے ، وہ ماضی کے واقعات سے کافی مختلف ہے اور بہت ہی بڑی منصوبہ بندی اور بڑے تعاون سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ سب اہم بات یہ ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد نصف درجن سے زائد تھی اور ایک بار حملہ کرکے گئے مگر پھر واپس آکر دوبارہ حملہ کیا اور دونوں گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔حضرت کے مطابق تقریباً 2 سے 3 منٹ تک یہ کارروائی ہوئی۔اس کا واضح مطلب ہے کہ کراچی میں دہشت گروں کا کوئی منظم نیٹ ورک ایک بار پھر قائم ہوچکا ہے۔جس کو کہیں نہ کہیں سے سپورٹ حاصل ہے۔ جس علاقے میں حضرت کو نشانہ بنایا گیا وہ علاقہ گنجان آبادی اور رش والا علاقہ ہے۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل نے دعویٰ کیا ہے کہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور ہم نے سیکیورٹی سخت کردی۔دارالعلوم کراچی کے منتظمین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کوئی اضافی سیکیورٹی نہیں ملی ہے۔ 10دن قبل تک مفتی محمد تقی عثمانی کو بطور گارڈ دو پولیس اہلکار دئے گئے تھے اور حالیہ دنوں دیگر علماء کے ساتھ مفتی صاحب کا ایک پولیس گارڈ واپس لیا گیا ۔ وقتی طور پر وجہ پی ایس ایل کی سیکیورٹی بتائی گئی مگر پی ایس ایل ختم ہونے ایک ہفتہ بعد بھی پولیس اہلکار واپس نہیں آیا اور اس وقت ایک ہی پولیس اہل کار محمد فاروق تھا جو قاتلانہ حملے میں شہید ہوا۔

بخاری شریف کی آخری حدیث کے سبق کے دوران حضرت کی گفتگو بھی غیر معمولی رہی اور مریدین کی آخری مجلس میں بھی صورتحال تقریباً ایسی رہی، ایسا لگ رہا تھاکہ جیسے حضرت وصیت فرما رہے ہیں ، اس پر جامعہ کے اساتذہ و طلبا اور مریدین سب حیران اور فکر مند تھے ۔ یہ حالات اور قاتلانہ حملہ قابل غور ہے۔

متعلقہ مضامین