بڑےلوگوں کی سنہری یادیں۔ یوسف صدیقی۔۲

یوسف صدیقی نے قیام پاکستان سے پہلے اور بعد کے طویل صحافتی تجربات سے کچھ ایسے اصول وضع کئے تھے،جن پر وہ ہمیشہ خود بھی کار بند رہے اور دوسروں سے بھی عمل کرایا۔وہ پوری توجہ کے ساتھ اپنا کام کرتے،اس کےلیے انہوں نے اوقات کار مقرر کر رکھے تھے-ان اوقات میں وہ کسی کو کمرے میں آنے کی اجازت دیتے اور نا کسی کا فون سنتے۔ان کے اس ڈسپلن کا دفتر کے سب افراد کو علم تھا،جن میں میر خلیل الرحمن خود بھی شامل تھے بلکہ میر صاحب تو خود اس بات کے بڑے قدردان تھے اور اس طرح توجہ کے ساتھ کام کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔اس لیے وہ خود بھی کبھی ان کے ان اوقات کے دوران ان کے کمرے میں آنے یا فون پر بات کرنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔

یوسف صدیقی خبر کو قارئین کی امانت سمجھتے تھے، ان کے خیال میں قارئین کا یہ حق ہے کہ ان تک ساری خبریں سچائی کے ساتھ پہنچیں ان سے کسی بھی خبر کو چھپانا ان کے ساتھ بددیانتی تھی وہ معاشرے کے ہر طبقے (سیاسی و غیر سیاسی ) کی خبریں ان کے موقف کے عین مطابق چھاپنے کے حامی تھے۔ وہ اس بات کے مخالف تھے کہ اخبار کو کسی ایجنڈے کے تحت حکومت یا اس کی مخالف جماعتوں کے خلاف یا حق میں استعمال کیا جائے ہاں اخبار اپنی کسی بھی پالیسی کا اظہار اداریہ میں کر سکتا ہے۔ ان کے نزدیک اخبار سے اس کے قارئین کو فائدہ پہنچنا چاہئے۔وہ اس امر کا خیال رکھتے تھے کہ اخبار اپنی خبروں کے ذریعہ حکومتی یا دوسری جماعت کا آلہ کار نا بنے۔وہ صحافت کو مقدس پیشہ قرار دیتے اور اس کے ذریعہ اعتدال پسندی،بھائی چارے،شرافت اور قانون کی عملداری کا فروغ چاہتے تھے۔ انہوں نے اس کے لیے مسلسل جدوجہد بھی کی۔ وہ سنسر اور اخبارات پر پاپندیوں کے سخت خلاف تھے۔ ایوب خان،یحی خان،پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت اور پھر ضیاالحق کے مارشل لا کے دور میں اظہار رائے پر سنسر کی پاپندیوں کے سخت خلاف تھے۔وہ کہا کرتے تھے کہ اچھے اخبار نویس کا کمال یہ ہو نا چاہئے کہ وہ سخت سے سخت بات کو بھی اس طرح پیش کرے کہ اپنی بات بھی کہ جائے اور کسی کالے قانون کی زد میں بھی نا آئے۔ ان کے خیال میں ضروری نہیں کہ اخبار کی خبری اور ادارتی پالیسی ایک ہو۔وہ خبر کو کسی مصلحت کے تحت دبانے،اس کی اہمیت کم کرنے یا اس میں کسی کی حمائت یا مخالفت میں ردو بدل کرنے کو گناہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ خبر جیسی ہو اسے ویسا ہی پیش کیا جاناچاہئے۔

ایڈیٹر کی حثیت سے جنگ کا پورا خبری کنٹرول ان ہی کے پاس تھا۔ ان کا فیصلہ آخری ہوتا۔انہیں یہ اختیار خود میر صاحب نے دیا ہوا تھا۔ انہوں نے اس اختیار کا بھر پور استعمال اردو کی تحریک کے زمانے میں اس وقت کیا،جب سندھ اسمبلی میں ذوالفقار بھٹو کے ٹیلنٹڈ کزن ممتاز علی بھٹو کی وزارت اعلی کے دور میں سندھی زبان کو لازمی قرار دینے کا بل پیش ہوا۔ قائد حزب اختلاف جی اے مدنی،پروفیسر شاہ فرید الحق اور نواب مظفر علی خان کی قیادت میں اپوزیشن نے اس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور اسمبلی کا با ئیکاٹ کر کے ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی سربراہی میں اردو کے حق میں ایک بڑی تحریک شروع کردی۔ میں اس وقت سیاسی رپورٹر تھا اور سندھ اسمبلی کی کوریج میری ذمہ داری تھی۔میں نے اس دن اسمبلی کی کاروائی کی تفصیلی خبر فائل کی اور رئیس امروہوی نے “اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے” کے عنوان سے ایک زبردست نظم لکھ دی جو بہت مشہور ہوئی۔اس کا یہ مصرع اردو تحریک کا مقبول نعرہ بن گیا۔اسی مصرع کو شہ سرخی کے ساتھ اخبار کے چاروں طرف سیاہ حاشئے کے چوکٹھے میں شائع کیا گیا۔ اس کا فیصلہ بھی یوسف صدیقی نے کیا تھا۔ وہ اس دن اپنا کام ختم کر کے ناظم آباد نمبر تین اپنے گھر جاچکے تھے کہ رات کو اس واقعہ اور شہر بھر میں اس کے خلاف احتجاج، ہنگامہ آرائی اور گھیراؤ جلاؤ کا پتا چلا۔ فوری طور پر دفتر آئے اور کنٹرول سنبھال لیا۔اس دن کے اخبار کی لیڈ یعنی شہ سرخی “اردو کا جنازہ ہئے ذرا دھوم سے نکلے “کا انتخاب بھی خود کیا۔صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر جنگ کے مینیجنگ ڈائریکٹر میر حبیب الرحمن بھی دفتر پہنچ گئے۔ ان کی رائے تھی کہ خبر تو شائع کی جائے لیکن اس کو اتنا نمایاں نا کیا جائے، اس سرخی اور سیاہ حاشئے کے ساتھ شائع کیا گیا تو صوبے میں لسانی کشیدگی میں اضافہ ہو گا لیکن یوسف صدیقی نے بڑا جاندار موقف اختیار کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے اور پاکستان میں اردو کے سب سے بڑے اخبار کی حثیت سے اس کا فرض ہئے کہ اردو کی اس تحریک میں ہراول دستے کا کردار اور وکیل بن کر ترجمانی کا حق ادا کرے۔ اگر جنگ یہ کردار ادا نہیں کرے گا تو اور کون کرے گا۔ چنانچہ وہ اس رات اخبار کی آخری کاپی پریس جانے تک دفتر میں موجود رہے۔اور اخبار کو اسی سرخی اور سیاہ حاشیئےکے ساتھ شائع ہونے کو یقینی بنانے کے بعد گھرگئے۔ اس دن کے اخبار کی سیل نے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دئیے تھے۔

یوسف صدیقی

انہوں نے 1978 میں جنگ کی ادارت سے استعفی دے دیا تھا اور نوائے وقت میں مشیر بن گئے تھے ، استعفی کی بظاہر وجہ یہ بیان کی گئی کہ مسلسل کام کرتے کرتے وہ تھک چکے ہیں لیکن اصل وجہ کچھ اور تھی۔اس کا اظہار انہوں نے اسی زمانے میں خود کیا تھا۔ہوا یہ تھا کہ میر صاحب نے میر شکیل الرحمن کو اپنے جانشین کے طو پر تربیت دینے کا فیصلہ کیا اور انہیں یہ اختیار بھی دیا کہ وہ اخبار کے تمام شعبوں کے کام کو دیکھیں، لے آؤٹ بھی سیکھیں۔ نیوز روم کے کام سے بھی وقفیت حاصل کریں، چاہیں تو کالم بھی لکھیں۔ شکیل صاحب نے یہ سارے کام شروع کر دیئے جسے یوسف صاحب نے اپنے اختیارات میں مداخلت تصور کیا اور کہا کہ جس اخبار کو اولاد کی طرح پروان چڑھایا اور کٹھن مراحل طے کرتے ہوئے بہترین اور مثالی بنایا ۔ اس میں من مانی تبدیلیوں کو وہ برداشت نہیں کر سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میر صاحب نے جو کچھ کیا، ایک باپ کی حثیت سے انہیں ایسا ہی کرنا چاہیے تھا۔اور اگر میں اس کا مالک ہوتا اور میرا بیٹا ہوتا تو میں بھی شائدایسا ہی کرتا۔ لیکن اخبار کا یہ حلیہ ایڈیٹر رہتے ہوئے میں نہیں دیکھ سکتا ۔ سوچنے کی بات ہے کہ اگر انہوں نے محض تھک جانے کی وجہ سے ہی استعفی دیا ہوتا تو وہ استعفی کے چند دن بعد نوائے وقت میں کیوں شمولیت اختیار کرتے۔اس وقت جنگ میں ان کے شاگردوں میں محمود احمد مدنی ہی وہ فرد تھے جو ان کے جانے کے بعد ایگزیکٹو ایڈیٹر کے حق دار تھے اس لئے انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ مدنی صاحب کو ان کی جگہ اس منصب پر فائز کیا جائے۔ چنانچہ محمود حمد مدنی کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کا نام پرنٹ لائن میں شائع ہونے کے دوسرے دن انہوں اپنا منصب چھوڑ دیا۔

آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے عارف الحق عارف نے 1967 میں روزنامہ جنگ کراچی سے صحافت کا آغاز کیا،جہاں 2002 تک وابستہ رہے،اسی سال جیو ٹی وی سے وابستہ ہوئے جہاں بطور ڈائریکٹر 18 سال سے زائد عرصہ گزارا، عارف الحق عارف کی صحافت سے 52 سالہ وابستگی کا یہ سفر بڑا دلچسپ ہے،پاکستان 24 میں “ بڑے لوگوں کی سنہری یادیں “ کے اس تحریری سلسلے میں آپ کو نامور لوگوں کی متاثر کن کہانیاں پڑھنے کو ملیں گی۔امید ہے قارئین کے لیے یہ سلسلہ دلچسپ ہوگا۔

متعلقہ مضامین