قومی اعزازات کی بے توقیری

عبدالجبارناصر
صدر مملکت کی جانب سے 23 مارچ 2019 کو پونے 200کے قریب افراد کو مختلف شعبوں میں ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازات دئے گئے ہیں ۔ نہ صرف کسی فرد کے لئے قومی اعزاز کا ملنا باعث افتخار ہوتا ہے، بلکہ جن کو اعزاز ملا ان پر قومیں فخر بھی کرتی ہیں اور اس اعزاز کے ذکر ساتھ کے قومی خدمات کا بھی ذکر ہوتا ہے ۔20ویں صدی کے آخر تک قومی اعزاز کے لئے افراد کے انتخاب میں باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا تھا کیونکہ ان کا انتخاب عملاً پوری قوم سے کیا جاتا ہے اور سن 2000ء تک میرٹ اور معیار کا کسی حدتک خیال رکھاگیا، مگر سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں کچھ ایسے افراد کا انتخاب کیا گیا، جو میرٹ پر نہیں تھے، مگر پھربھی آج کے دور کے مقابلے مشرف دور کا انتخاب ہزار درجے بہتر تھا۔
قومی اعزازات کے ساتھ ’’جبر‘‘محترم آصف علی زرداری کے دور میں ہوا اور قومی اعزازات کو ریوڑھیوں کی طرح بانٹا گیا، ہر پسند کے فرد کو نوازا گیا، مثلاً کوئی پوچھے کہ پورے پاکستان میں شرمیلا فاروقی کا انتخاب کس معیار، کار کردگی یا میرٹ پر ہوا؟ آج تک خود پیپلزپارٹی والے پریشان ہیں ۔ زرداری صاحب نے بلاول ہائوس کے ملازمین سمیت ہر دوست کو نوازنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی ۔
امکان تھا کہ نئے پاکستان میں ایسے نہیں ہوگا اور بہت اعلیٰ معیار کے مطابق نہیں تو کم سے کم سن2000سے قبل والی پوزیشن میں ہی کام ہوگا ،مگر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے قومی اعزازات میں افراد کے انتخاب میں زرداری صاحب کے ’’جبر‘‘ کو بھی شرما دیا اور اس کو ’’بالجبر‘‘ سے بھی آگے پہنچادیا!
مثلاً کوئی صدر صاحب، وزیر اعظم صاحب اور ان کی حکومت و جماعت سے پوچھے کہ مہوش حیات ، ریما خان ، ارشد شریف اور دیگر کچھ افراد کی کونسی قومی خدمات ہیں؟ جن کا اعتراف قوم پر واجب تھا اور جن کی وجہ سے قوم کا سر فخر سے بلند ہوا ہے ۔ یقیناً کوئی جواب نہیں ہوگا سوائے آئیں بائیں شائیں کے ۔ زرداری صاحب کے آخری دو سالوں اور خان صاحب کے پہلے سال کی فہرستوں کا جائزہ لیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ قومی اعزاز کی توہین، تضحیک اور تذلیل کرکے دانستہ طور پر قومی اعزازات کو بے توقیر کیا گیا ہے ۔
دونوں ادوار میں جن افراد کو اعزازات سے نوازا گیا ان میں سہولت کاروں ، دوستوں اور زاتی پسند و نا پسند کی بنیاد پر ایک بڑی تعداد کو نوازا گیا ہے ، اور ذرا غور کیا جائے تو قومی خدمات سرانجام اور قربانیاں دینے والوں کی ایک طویل فہرست ہے مگر وہ کسی کی ’’پسند ‘‘ نہیں ہیں۔ حکومت نے قومی اعزازت کے ساتھ جو کچھ کیا اس سے ان لوگوں کا استحقاق بھی مجروح ہوا جن کو میرٹ پر قومی اعزاز ملا ، ہمیں حکومتوں کے اس رویہ اور عمل کی مذمت اور قومی اعزازات کو بے توقیری سے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔

متعلقہ مضامین