دو ہندو بچیوں کا معاملہ، دبائو یا سماجی مسئلہ؟

عبدالجبارناصر
کئی روز سے سندھ میں دو ہندو بچیوں کے مسلمان ہوکر شادی کرنے کا معاملہ اہم ایشو بنا ہوا ہے اور ایک بڑے طبقے کا دعویٰ ہے کہ مسلمان کرکے شادی کرنے کا عمل جبری ہے ،جبکہ دوسری جانب ایک بڑے طبقے کا دعویٰ ہے کہ یہ سب کچھ رضامندی سے ہوا ہے ۔ ان دو بچیوں کے عمل میں دبائو کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ، مگر کیایہ ضروری ہے کہ معاملہ ایسا ہی ہے ،کہیں اس کے کچھ سماجی مسائل تو نہیں ؟؟ اس حوالے سے چند گزارشات ہیں ۔
(1)اگر ان بچیوں کو گھر سے اغواہ کرکے جبری مسلمان بناکر شادیاں کی گئی ہیں تو پھر مجرم کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں کو نشان عبرت بنانا ضروری ہے،کیونکہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے ۔
(2)اگر بچیوں نے گھر سے خود فرار ہوکر پہلے مسلمان اور پھر شادی کا فیصلہ کیا ہے تو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپینگنڈا کرنے والوں کو نشان عبرت بنایا جائے۔
(3)بچیاں فرار ہوکر پہلے مسلمان اور شادیاں کرتی ہیں تو اس کے اسباب کیا ہیں ؟ ان کو تلاش کرنا ضروری ہے ۔
(4)مختلف دوستوں کا کہنا ہے کہ بچیوں کے گھروں سے فرار ہونے کا ایک سماجی مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ ہندوں برادری میں نوجوان بچیوں اور بچوں کو با لخصوص بچیوں کو کئی سماجی مسائل کا سامنا ہوتاہے مثلاً
(ا)ان کی شادیوں میں کئی طرح کی مشکلات پیدا ہوتی ہیں کیونکہ ان میں ایک تو طبقاتی تقسیم(اونچی اور نچلی ذات) اور ایک دوسربے میں شادیاں نہ کرنے کا رواج عام ہے ۔
(ب)اپنی ذات (برادری )یا خاندان میں بھی قریبی رشتہ داروں میں شادیاں نہیں کی جاتی ہیں ،حال ہی میں رکن سندھ اسمبلی رانا ہمیر سنگھ کا ایک انٹرویو سنا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے قبیلے میں رشتہ دیتے اور نہ ہی لیتے ہیں ، اس لئے ہماری خواتین مسلمانوں کی طرح شادی کے بعد اپنے نام کے ساتھ شوہر یا اس کے خاندان کے نام کوحصہ نہیں بناتی ہیں ۔
(ت )مسلمان اور ہندو اکثر مقامات پر ایک ساتھ رہتے ہیں اور شادی کے معاملے مسلمانوں کے مقابلے میں ہندو برادری میں مشکلات زیادہ ہیں نظر آتے ہیں ۔
(ث)شادی کے بعد بھی مسلمانوں کے مقابلے میں ہندو برادری کی خواتین کو سخت روایات اور عقائد کی وجہ سے بظاہر مسائل ہوتے ہیں اور ایسے میں مسلمانوں سے متاثر ہونا لازمی بات ہے۔
(ج)اب تک جو واقعات رپورٹ ہوئے یا منظر عام پر آئے ہیں ، ان میں سے بیشتر کا تعلق غریب طبقے سے اور بعید نہیں کہ اس کے اثرات بھی ہوں ۔
(ح)مسلمان ہوں یا دیگر مذاہب خواتین کی آزادی کی تحریک کے نام پر جو مہم شروع کی گئی ہے نوجوان نسل پر اس کے منفی اثرات کافی زیادہ محسوس کئے جا رہے ہیں۔
(خ)ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس طرح کے واقعات میں میرا جسم میری مرضی کا کتنا کردار ہے ؟
(د)اس طرح کے دیگر سماجی مسائل کو پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔
(5)یہ بات درست ہے کہ بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد اب سنجیدہ قانون سازی کی ضرورت ہے مگر اس قانون سازی کا مطلب قبول اسلام پر پابندی نہیں ہونا چاہئے۔
(6)سندھ اسمبلی میں ایک بل تقریباً ایک سال قبل منظور ہو ا جس پر غور کیا جائے تو عملاً یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ کوئی شخص آزادانہ اسلام قبول نہ کرے ۔اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک میں اس طرح کی قانون سازی کسی صورت قبول نہیں کی جاسکتی ہے ۔
(7)مسلمانوں اور اقلیتوں کے مذہبی اور قانونی ماہرین ملکر ایسی قانون سازی کریں کہ کوئی کسی دوسرے کا استحصال نہ کرسکے۔
(8)مسلمانوں کو اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کہیں واقعی کوئی فرد یا افراد یا جماعت اقلیتوں پر جبر تو نہیں کر رہی ہے اور اگر ایسا ہے تو پھر تدارک ضروری ہے۔
(9)اقلیتوں کو بھی اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی فرد اپنی رضا سے مسلمان ہوتا ہے تو پھر اس پر پروپیگنڈا کرنا مناسب نہیں ہے۔
(10)حکومتیں، عدالتیں اور ادارے بیرونی ، اندرونی ،سیاسی ، سماجی یا مذہبی دبائو پر کام کرنے کی بجائے آئین و قانون کے مطابق سب کے ساتھ یکساں سلوک کریں تو کئی مسائل از خود حل ہونگے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے