گرلز کالج میں شیخ رشید کا خطاب

تبصرہ : طاہر ملک
. ‏‎‎‎‎شیخ رشید نے گورنمنٹ کالج برائے طالبات میں بتقریب 23 مارچ یوم پاکستان کے حوالے سے اپنے خطاب میں زرداری نواز شریف شاھد خاقان عباسی پر شدید تنقید کی قومی خزانہ لوٹنے کا مرتکب قرار دیا بلاول بھٹو کےبارے میں طنزیہ گفتگو کی وغیرہ وغیرہ انہوں نے طالبات کو تعلیم پر مکمل توجہ دینے کی ہدایت دیتے ہوئے موبائل فون کا استعمال بھی کم کرنے اور رات جلدی سونے کا مشورہ دیا۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ رات کو سب جلدی سویا کریں، موبائل فون استعمال نا کیا کریں، میرا بس چلے تو میں اسمارٹ فون ہی بند کروا دوں۔
آج کے روزنامہ جنگ میں وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کا علم افروز بصیرت دانش سے لبریز خطاب کی خبر جنگ اخبار میں پڑھ کر ھماری سیاست میں تبدیلی کے علمبردار نام نہاد نئےچہرے اور پرانے بوسیدہ تعفن زدہ سیاسی نظام سے وحشت محسوس ھونے لگی۔

میرا تعلق درس و تدریس سے ھے اور میں راولپنڈی کا رھائشی ھوں. نوے کی دھائی میں جب سیاسی محاز آرائی اپنے جوبن پر تھی. ان دنوں شیخ رشید احمد مقتدر حلقوں اور مسلم لیگ کی آنکھ کا تارا تھے. محترمہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی نے جنرل ضیا الحق کی آمریت پر ایک خوف طاری کیا ھوا تھا ان دنوں نوجوانوں میں حبیب جالب کی نظم ڈرتے ھیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے بہت مقبول تھی. اور نہتی لڑکی بے نظیر بھٹو ڈاکٹر خالد جاوید جان کی نظم میں باغی ھوں میں باغی ھوں جلسوں میں سنایا کرتی تھیں. ایک روز سرسید کالج سے واپسی پر مری روڈ پر شیخ رشید احمد کو گھن گرجھ کے ساتھ تقریر کرتے دیکھا. تجسس کے مارے ان کی تقریر سننے رک گئے موصوف محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں اخلاق سے عاری تہذیب سے گری ھوئی گفتگو فرما رھے تھے ۔

کالج میں علمی لیکچر کے بعد مری روڈ راولپنڈی میں بکھری غلاظت کو دیکھنے اور سننے کا اتفاق ھوا. میرے لئے حیرت کی بات یہ تھی کہ ھزاروں کا مجمع اس بازاری گفتگو پر زیر لب مسکراتے ھوئے محظوظ ھورھا تھا شیخ رشید احمد ان دنوں مسلم لیگ سے تو وابستہ تھے ھی لیکن وہ آئ جے آئی میں بھی شامل تھے جس میں اقامت دین کی داعی جماعت اسلامی سے لیکر ایم کیو ایم اور دیگر مزھبی سیاسی جماعتیں بھی شامل تھیں. جماعت اسلامی کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار ڈاکٹر افضل اعزاز شیخ رشید احمد کے پینل سے پنڈی سے امیدوار ھوتے تھے. وقت نے ثابت کیا کہ آئی جے آئی بھان متی کا کنبہ اور مفاد پرستوں کا ٹولہ تھی.
مسلم لیگ ن کے دور میں شیخ رشید جہاں نواز شریف کا پسینہ گرے گا وھاں میرا خون گرے گا کی تقاریر دھراتے.
پھر وقت کا دھارا پلٹا اور 12 اکتوبر 99 کو جنرل مشرف نے عنان اقتدار سنبھال لی نواز شریف جیل جا پہنچے محترمہ کلثوم نواز شیخ رشید سے ملنے راولپنڈی تشریف لائیں تو لال حویلی کے مکین نے دروازہ ھی نہ کھولا. شیخ رشید جنرل مشرف کی کابینہ میں وزیر ریلوے مقرر ھوئے جنرل مشرف کی والدہ کے نام پر ٹرینوں کا افتتاح کیا. معروف صحافی حامد میر کے پروگرام میں عمران خان پر ذاتی حملے کرنے لگے تو عمران خان نے ھاتھ جوڑ کر قوم سے وعدہ کیا کہ اللہ مجھے شیخ رشید احمد جیسا کامیاب سیاستدان نہ بنائے. اور عمران خان نے کہا کہ اگر میں اقتدار میں آ گیا تو شیخ رشید جیسے بندے کو چپراسی بھی نہ رکھوں گا. چشم فلک نے دیکھا کہ واقعی عمران خان اقتدار میں آگیا اور اس نے شیخ رشید احمد کو چپراسی کے بجائے وفاقی وزیر بنا دیا. گزشتہ کئی دھائیوں سے فیصلہ کن قوتیں سیاست میں نئے چہرے متعارف کرانے کی مہم میں برسر پیکار ھیں. بالااخر بڑی مشکل سے ھوتا ھے چمن میں دیدہ ور پیدا کے مصداق شیخ رشید احمد ڈاکٹر بابر اعوان شاہ محمود قریشی چوھدری پرویز الہی عامر لیاقت وغیرہ کو تبدیلی کا لبادہ اوڑھے کے بعد قوم کے سامنے نمودار کروانے میں کامیاب ھوسکی ھے.
ان نئے لوگوں کی گفتگو سن کر یہ محسوس ھوتا ھے کہ جب معیار اتنا گر جائے تو پھر راجہ بھوج تو ملنے سے رھا اب گنگو تیلی سے ھی گزرا کرنا پڑے گا. مجھے گورنمنٹ کالج برائے خواتین سٹلایٹ ٹاون کی پرنسپل پر بھی حیرت ھوئی جنہوں نے خوشامد پرستی اور اپنی نوکری پکی کرنے کے لئے علمی درسگاہ میں طالبات کو جہالت اور بازاری گفتگو سننے کا موقع فراھم کیا. طلبہ کو کرئیر کونسلنگ کی ضرورت ھے علم کی نئی راہیں کھل رہی ہیں نئے علوم اور ایجادات وجود میں ارھی ھیں. اس جہان حیرت و تجسس میں طلبہ سے خطاب کا حقدار کوئ علمی شخصیت سائینسدان تو ھوسکتا ھے شیخ رشید نہیں اور ھاں جناب شیخ رشید صاحب بصد احترام عرض ھے کہ آپ طالبات کے فون کے استعمال پر پابندی لگانے کی بات کرتے ہیں ھمارا بس چلے تو شام ساتھ سے گیارہ بجے تک آپ جیسے سیاست کے مکروہ چہروں کے ٹاک شوز پر پابندی لگا دیں جو ھمارے گھروں کے ماحول میں آلودگی پھیلا رھے ہیں.

متعلقہ مضامین