نااہل

کیا وزیراعظم عمران خان پر نااہلی کا خطرہ منڈلانے لگا ہے؟
کیوں سوچ میں پڑ گئے؟ دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے یہ بندہ سٹپٹا گیا ہے ورنہ ایسے بے تکے سوال کی تک نہیں بنتی۔ بھلا وزیراعظم کیسے نااہل ہوسکتے ہیں۔ کسی عدالت میں کوئی کیس نہیں، نہ ہی کوئی اثاثے چھپانے کا الزام ہے، تب بھی یقن کرلیتے اگر خان صاحب کے کسے بیٹے کی کوئی کمپنی ہوتی اور وہ کبھی چئیرمین کے عہدے پر تعینات رہے ہوتے اور تنخواہ کاغذات نامزدگی میں ٖظاہر نہ کی ہوتی۔نہ ہی پانامہ لیکس میں کوئی انکشاف سامنے آیا، حتی ٰ کہ حنیف عباسی کی درخواست بھی مسترد ہوچکی بلکہ عدالت نے توعمران خان کو صادق اور امین بھی قرار دے رکھا ہے۔ اچھا چلیں میں سمجھاتا ہوں۔ یہ سوال میرے ذہن کے کسی کونے کھدرے سے نکل کر قرطاس پر کیوں آن بیٹھا۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے ایک واقع سنا دوں پھر اپنا مدعا بیان کرنے میں آسانی ہوگی۔
یہ اس دن کی بات ہے جب عدالت عظمیٰ میاں نواز شریف کے گلےمیں نااہلی کی گھنٹی باندھ چکی تھی۔ گھنٹی کا شور اس طرح گونج رہا تھا جیسے رات کے سناٹے میں مینڈنک کی آواز ہر کان بآسانی سن سکتا ہے۔

میں ان دنوں سما ٹی وی کے ساتھ وابستہ تھا۔ سپریم کورٹ سے دفتر واپس پہنچا تو دوست سہیل رشید کو مائیک تھامے اور کیمرہ ٹیم کے ہمراہ باہر جاتے دیکھا۔ یہ جاننے کے لیے آگے بڑھا کہ بھائی صاحب کدھر بھاگے جارہے ہیں مگر وہ وہاں سے نکل گئے۔ میں اپنے کام میں مصروف ہوگیا ، عدالتی فیصلے پر خوب بحث مباحثہ بھی ہوا۔ کسی کا موقف کہ اس سے اچھا فیصلہ ہوہی نہیں سکتا تو کسی نے زبردستی کی نااہلی قرار دے دی۔ ایسے میں سہیل رشید بھی واپس پہنچ گئے۔ معلوم ہوا فیصلے پر عوامی رد عمل جان کر آرہے ہیں۔ فوری ان کے پاس جاپہنچا بھئی عوام کیا کہتی ہے۔ اس نے ایک بزرگ شہری سے ہونے والی گفتگو کا ایک جملہ یوں بیان کیا۔
‘‘ہن نواز شریف اینا وہی نااہل نئیں آخر او تن واری وزیراعظم ریا اے’’
مطلب اب نواز شریف اتنا بھی نااہل نہیں آخر وہ تین بار وزیراعظم عہدے پر رہ چکا ہے۔
ہماری معصوم اور بھولی بھالی عوام اس نااہلی کو کارکردگی کے ساتھ منسوب کررہی تھی۔ یقینا عوام نے نااہلی کے حق میں بھی رائے دی ہوگی۔ یہ درست ہے حکمران کی اصل اہلیت اس کی کارکردگی سے ہی پہچانی جاتی ہے۔عمران خان پر نااہلی کی تلوار کیوں لٹک رہی ہے یہ جاننے سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے ایک ووٹر سے مل لیجیے جس سے میری صرف ایک ہی ملاقات ہے۔ اس دن بارش برس رہی تھی۔ اسلام آباد کا موسم انتہائی خوشگوار تھا۔ میں باضد تھا سوپ نہیں بلکہ فریش جوس پیتےہیں۔ میں اور میرا دوست برستی مگر ہلکی بارش میں بائیک پر جی ٹین میں جوس کارنر پر جا پہنچے۔ دوست نے کسی خبر پر اپنے چینل پر بیپر دینا شروع کردیا۔ ان کی آواز ایک عمر رسیدہ شخص کے کانوں سے ٹکرائی تو دوقدم ہماری جانب چل دیے۔ صاف ستھرے کپڑے، ویسٹ کوٹ زیب تن کئے، اچھے سے بال اور شیو بنائی ہوئی، پالش سے چمکتی جوتی اس شخص کی سفید پوشی کا پتا دیتی تھی۔ قریب پہنچ کر بتایا کہ وہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں، اسلام آباد میں کرائے کے گھر میں مقیم ہیں ، بیٹے کی شادی کی شاپنگ کے لیے یہاں آنا ہوا، ہمیں دیکھ کررک گئے۔ ہم نے پوچھا بتائیے ہم کیا خدمت کرسکتے ہیں۔ کہنے لگے بس میرایک پیغام وزیراعظم تک پہنچا دیں یہی میری خدمت ہوگی۔ اب میں نے اس شخص کی باتوں میں دلچسپی لینا شروع کردی۔ وہ بولتے بولتے خاموش ہوگئے اور اپنی جیب کو ٹٹولنے لگے، شلوار قمیض کی جیبوں کو اچھی طرح ٹٹول چکے تو بے چینی ان کے چہرے پر عیاں ہونے لگی۔ مجھے سے رہا نہ گیا میں نے پوچھ لیا آپ کچھ بتانے والے تھے کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟ غور سے میری طرف یکھ کر بس اتنا کہا ‘‘ایک منٹ’’۔ اگلے ہی لمحے اپنے ویسٹ کوٹ کے اندورنی جیب سے ایک کاغذ نکال کر پرسکون نظروں سے ایسے دیکھا جیسے انہیں وہ مل گیا جس کی انہیں تلا ش تھی۔ کاغذ پڑھنے کے لیے میری طرف بڑھا دیا۔ میں نے جھٹ سے دو تین تہوں میں بند کاغذ کھولا تو وہ وزیراعظم پاکستان کے نام درخواست تھی۔ اس پر لکھا تھا کہ جناب وزیراعظم ، میں نے اور میری فیملی نے آپ کو اس امید سے ووٹ دیا کہ کرپشن کا خاتمہ ہوگا، مہنگائی کا جن بوتل میں قید ہوگا، بجلی گیس کی قیمتیں کم ہونگی او زندگی سکون سے گزرے گی۔ مزید لکھتے ہیں یہاں گنگا ہی الٹ بہہ نکلی ہے۔ میرا گیس کا بل جو 3 ہزار آتا تھا۔ وہ اس دفعہ 31 ہزار آیا ہے۔ مجھ میں اتنی سکت نہیں کہ اتنا بھاری بھرکم بل اٹھا بھی سکوں۔ سرکار سےملنے والی پینشن اتنی زیادہ نہیں کہ ہزاروں میں آنے والا بل ادا کرسکوں۔ برائے مہربانی بل کم کرنے کے احکامات دیے جائیں اور یقینی بنایا جایا کہ آئندہ بل پرانے پاکستان جتنا آئے گا۔ چلتے چلتے کہنے لگے بیٹا عام آدمی کو کرپشن کے خاتمے سے کیا لینا دینا اگر حکومت مہنگائی کے گرم تھپیڑوں سے نہ بچا سکے۔ یہ ایک ووٹر کی کہانی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ مہنگائی کا سونامی تباہی مچا رہا ہے ۔ اشیا خوردنوش کی ہوش ربا قیمتیں منہ چڑھا رہی ہیں۔ اس وقت مہنگائی کی شرح کتنی ہے یہ جاننے کے لیے مرکزی بنک کی رپورٹ میں دیے گئے اعدادوشمار دیکھ کر سانس گھٹ رہا ہے۔ اسٹیٹ بنک کے مطابق ‘‘رواں مالی سال میں جولائی سے فروری تک مہنگائی 6 اعشاریہ 5 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ برس اسی مدت میں صرف 3 اعشاریہ 8 فیصد تھی، جبکہ رواں سال جنوری میں 7 اعشاریہ 2 فیصد اور فروری میں 8 اعشاریہ 2 فیصد تک جا پہنچی ہے جو 2014 سے اب تک کی بلند ترین اضافہ ہے’’
بات یہی ختم ہوجاتی تو دل بے چین کو قرار مل جاتا مگر حکومتی ادارے یعنی وفاقی ادارہ شماریات نے حکومتی کارکردگی کی قلعی کھول دی۔ تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں 11.90 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔دال چاول چینی کوکنگ آئل سمیت بیس اشیاٗ مزید مہنگی ہوگئیں۔
سمت درست ہوتی تو میں کہتا کوئی بات نہیں ناتجربہ کار ٹیم ہے آگے چل کر بہتری کی امید پیدا ہوگی ۔ شاید اس لیے مرزا غالب نے کہا تھا
کوئی امید برنہیں آتی
کوئی صورت نظر نہیں آتی
بجلی گیس کی قیمتیں کم ہونے کی بجائے مزید بڑھانے کی سفارشیں کی جارہی ہیں۔ ابھی بھی گیس کی قیمتیں مزید بڑھانے کے لیے درخواست منظوری کے لیے پڑی ہے۔ اگر اجازت مل گئی تو پنجاب اور خیبرپختوانخواہ میں گیس کا بل دگنا ہوجائے گا۔ تقیسم کار کمپنیوں نے نیپرا سے 201 ارب روپے اضافی وصولیوں کی مد میں مانگ لیے ہیں۔ منظوری کی صورت میں اس کا بوجھ بھی عوام کے کندھوں لادا جائے گا۔ ڈالر مسلسل بے قابو ہوئے جارہا ہے۔ روپیہ اس کے سامنے بے بس دکھائی دے رہا ہے ۔ ان ساری باتوں کا براہ راست عوام سے تعلق ہے اور وہ ہی سب سے زیادہ اثر انداز ہونگے۔ آئے روز وزراٗ کے اسکینڈل اور اختیارات کی جنگ بھی حکومتی کارکردگی کو متاثر کررہی ہے۔ نیب کی کارروائیوں کا بہانہ بنا کربیوروکریسی غیراعلانیہ قلم چھوڑ ہڑتال پر ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو کہنا پڑا کہ نیب بڑے چوروں کو پکڑے چھوٹے خود ہی ٹھیک ہوجائیں گے، بیوروکریسی کے خلاف نیب کی کارروائیوں سے حکومتی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ایک سال مکمل کرنے والی ہے۔ وقت تیز گھوڑے کی طرح بھاگ رہا ہے۔ نئے پاکستان کے خدوخال تک واضح نہ ہوسکے بلکہ اس جانب جانے والی شاہراہ دور دور تک نظر نہیں آرہی۔ اسی ٹیم اور اسی طرز سے میچ جاری رہا تو نتیجہ بھی موجودہ حالات سے مختلف نہیں نکلنے والا۔ انتخابات میں وزرا سے نہیں کپتان سے سوال پوچھا جائے گا کیونکہ عوام نے حکومت عمران خان کو دی ہے، اسے اپنا کپتان مقرر کیا ہے۔ ٹیم ناکام ہوئی تو گریبان بھی انہی کا پکڑا جائے گا۔ میاں نواز شریف عدالت سے نااہل ہونے کے بعد گھر جاچکے مگر وہ اپنے دور حکومت میں کئے گئے کاموں یا منصوبوں کی بنیاد پر مسلسل ایک ہی بات کہہ رہے کہ اگر عدالت انہیں نااہل قرار نہ دیتی تو وہ ملک کے لیے بہت کچھ کرگزرنے والے تھے۔ عمران خان قسمت کے دھنی رہے ہیں اور بلا شک و شبہ کھیل سمیت مختلف میدانوں میں کامیاب بھی گنے جاتے ہیں۔ مجھے خوف ہے کل کو حکومتی مدت کے بعد کوئی یہ نہ کہہ رہا ہو ‘‘ عمران خان تو تھا ہی نااہل’’۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے