بادشاہ اور رس گلے

مُلکِ فارس کے شمال میں واقع ایک چھوٹے سے ملک پر ایک نیک دل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ عوام اپنے بادشاہ سے بہت محبت کرتے تھے ۔ ملک میں ہر طرف امن و امان کا دور دورہ تھا۔ کوئی شخص بے روزگار نہیں تھا۔ جسے کام نہ ملتا اسے روزانہ شاہی محل کے لنگر سے کھانا مل جاتا تھا۔ کہیں تو شاہی محل اس دور کا داتا دربار تھا۔ بادشاہ سلامت یوں تو کھانے پینے کے بہت شوقین تھے لیکن میٹھا انہیں خاص طور پر پسند تھا۔ ہرشام شاہی اہلکار پورے ملک میں بادشاہ سلامت کی طرف سےجھنگ بازار کے بنگالی رس گُلّے تقسیم کرتے ۔ بالغ افراد کو فی کس دو اور بچوں کو ایک رس گُلّا ملتا ۔

رعایا ڈنر کے بعد یہ رس گُلّے تناول کرتی اور بادشاہ کی سلامتی کی دعا کرکے سو جاتی ۔رعایا میں کچھ کرپٹ لوگ بھی تھے۔ یہ اپنے بچوں کے رس گُلّے بھی ہڑپ کر جاتے ۔ زیادہ رس گُلّوں کی لالچ میں یہ زیادہ بچے بھی پیدا کرنے لگے تاکہ انہیں فی بچہ زیادہ رس گُلّے ملیں۔ جو بچہ اس کے خلاف احتجاج کرتا اس کو اپنے ابّا سے پھینٹی پڑتی ۔ بے چارے بچے چپ چاپ بغیر رس گُلّہ کھائے روتے روتے سو جاتے۔چند متاثرہ بچوں نے فیصلہ کیا کہ وہ شاہی محل جاکر بادشاہ کو اس ظلم بارے آگاہ کریں گے۔متاثرہ بچے اکٹھے ہو کر شاہی محل کے باہر پہنچ گئے۔ محل کا سیکورٹی انچارج اتنے بچوں کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ وہ بچوں کے پاس گیا اور پوچھا کہ بیٹا کیا بات ہے، آپ یہاں کیا کرنے آئے ہیں؟ ایک لیڈر قسم کے بچے نے آگے بڑھ کر ماجرا بیان کیا کہ ہمارے ابّے ہمارے رس گُلّےبھی کھا جاتے ہیں اور ہمیں دوسرے بچے بتاتے ہیں کہ یہ بہت مزے دار ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے رس گُلّوں پر تصّرف چاہیئے۔

یہ سن کر سیکورٹی انچارج کی سٹّی گم ہوگئی۔ جو اس نے بڑی مشکل سے تلاش کی۔ یہ بھی اپنے 23 بچوں کے رس گُلّے روزانہ کھا جاتا تھا۔ اگرچہ اسے ذیابیطس بھی تھی لیکن یہ دل میں خود سے کہتا تھا کہ جو رات قبر میں آنی ہے وہ پلنگ پر نہیں آ سکتی اور قبر میں بغیر رس گُلّے کھائے چلے جانا بہت بدقسمتی کی بات ہے۔ اب معاملہ گھمبیر ہوچکا تھا۔ اتنے بچوں کا شاہی محل کے باہر اجتماع چھپنے والی بات نہیں تھی۔ اگر وہ بادشاہ سلامت تک یہ ماجرا نہ پہنچاتا تو خفیہ والے پہنچادیتے اوربادشاہ سلامت بدظن ہو کر اسے ملازمت اور زندگی سے نکال سکتے تھے۔ سیکورٹی انچارج لشٹم پشٹم شاہی دربار تک پہنچا تو بادشاہ سلامت ڈنر کرر ہےتھے۔ ماش کی بھنی ہوئی دال، کڑک تندوری روٹی، پیاز، ٹماٹر، ہری مرچ، لیموں کا سلاد، آم کا اچار، پودینے اناردانے کی چٹنی اور کچّی لسّی کا جگ دستر خوان پر سجے تھے۔ بادشاہ سلامت نے سیکورٹی انچارج کو بے وقت آتے دیکھ کر کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا اور خادم کو اشارہ کیا۔ وہ فورا ایک ڈھکی ہوئی رکابی لے آیا۔ بادشاہ سلامت نے رکابی سے رومال اٹھایا تو اس میں 6 رس گُلّے سجے تھے۔ بادشاہ سلامت نے رغبت سے رکابی خالی کی۔ سیکورٹی انچارج حیرانی سے سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے بادشاہ سلامت سے جان کی امان چاہنے کے بعد کچھ عرض کرنے کی درخواست کی۔ بادشاہ سلامت نے طویل ڈکار لے کر اجازت دے دی۔ وہ بولا، آپ کے حصّے میں 2 رس گُلّے آتے ہیں لیکن آپ نے 6 کھا لیے؟ باقی رس گُلّے کس کے تھے؟

بادشاہ سلامت نے زیرِ لب تبسم فرمایا، شیرے والے انگلیاں چاٹیں اور یوں گویا ہوئے، "دو میرے اور چار میرے بچوں کے۔ میں ان کے رس گُلّےبھی چھین کر کھا جاتا ہوں۔ "

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے