چین میں میرے کھانے

"مائی فُوڈ اِن چائنہ” خرم حسین کا ہلکا پھلکا سا چینی سفر نامہ ہے) ۔ یہ تازہ ترین سفر کی روداد ہے جو چین سے براہ راست آ رہی ہے ۔

انڈین ریسٹورانٹ کا پورا نام ‘چک دے انڈین کرکٹ ریسٹورانٹ’ تھا، ریسٹورانٹ کے مالک انیل صاحب پہلے تو ہمارے ساتھ رکھ رکھاؤ سے پیش آئے۔ بعد از طعام جب کھل کر باتیں ہوئیں تو انھوں نے باقاعدہ وقت دیا اور پاک بھارت تناظر میں وہ کچھ بھی ڈسکس ہوا جس کا ہم نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ یہ ریسٹورانٹ ہمارے لیے ہانگژو شہر میں سب سے خوشگوار تجربہ ثابت ہوا۔ ایک تو سرٹیفائیڈ حلال فوڈ، پھر کھانے کی لاجواب صفائی اور پیشکش نے پہلے ہی دن ہمارا دل جیت لیا۔ ذائقہ ایسا تھا کہ ہمیں اپنا آپ لاہور کے لکشمی چوک میں محسوس ہونے لگا اور بے اختیار ہم انگلیاں چاٹنے پر مجبور ہو گئے۔

اگلے دن ہم اپنے آسٹریلوی باس ڈینی کو بھی ساتھ لے گئے, اور پھر ایک دن اپنے چینی باس ایلن کو بھی ساتھ لے گئے۔ حیرت انگیز طور پر ان دونوں کو بھی انڈین فوڈ بہت پسند آیا اورانھوں نے بھی خوب رَج کے کھایا۔ اب تک ہم اس ریسٹورانٹ سے تندوری چکن، بٹر چکن، مٹن دو پیازہ، تڑکا دال، شاہی چنے، بریانی، پالک پنیر، مٹر پلاؤ، گارلک نان اور پاپڑ تناول کر چکے ہیں اور ہر شے ذائقے اور پریزنٹیشن میں ایک سے بڑھ کر ایک۔ ان چند دنوں میں انیل بھائی کیساتھ راہ و رسم اسقدر بڑھ گئی کہ اب کھانا براہ راست ہمارے ہوٹل کے کمرے ہی میں ڈیلیور ہونے لگا۔


انیل کا تعلق کانپور (اترپردیش) سے ہے، بارہ برس سے ہانگژو میں ہے۔ جاب کیلئے آیا تھا۔ کرکٹ کا بیحد شیدائی ہے، یہاں بیشمار پاکستانی اور انڈین اسکے دوست ہیں جنکے ساتھ ملکر ایک کرکٹ ایسوسی ایشن بنا رکھی ہے، جس میں سات مختلف ٹیمیں ہیں جو آپس میں ٹورنامنٹ کھیلتی رہتی ہیں۔

بہت سال پہلے وہ سب دوست ایک انڈین ریسٹورانٹ میں کھانا کھایا کرتے تھے، کسی وجہ سے وہ ریسٹورانٹ بند ہوا تو سبھی کو کھانے کا مسئلہ درپیش ہوا، بالخصوص مسلمان لڑکوں کو حلال والی مشکل کا بھی سامنا تھا، تب انیل نے اپنے ریسٹورانٹ کے بزنس کا تجربہ کیا۔ وہ سبھی دوست اور ان کی فیملیاں اس کے ابتدائی کسٹمر بن گئے۔

ہانگژو ٹورسٹ سٹی ہے یہاں پاکستان اور بھارت سے آنے والوں کی کمی نہیں۔ کچھ انگریزوں میں بھی انڈین فوڈ کا ذوق ڈیویلوپ ہو چکا ہوتا ہے، ایسے تمام لوگوں کیلئے ہانگژو سٹی میں ‘چک دے’ بہترین آپشن ہے۔ پاکستان انڈیا کے کرکٹ میچ کے موقع پر ریسٹورانٹ کے دالان میں بڑی سکرین پر میچ چلتا ہے اور سبھی انڈین و پاکستانی اسے انجوائے کرتے ہیں اور اس دوران کھانے کا دور چلتا رہتا ہے۔ ریسٹورانٹ کا بہترین باورچی بذات خود پاکستانی ہے۔ ان سب نے نفرت کرنے والے دیشوں سے باہر یہاں پردیس میں اپنی الگ محبت کی دنیا بسا رکھی ہے۔

انیل بھائی کے ‘گن پتی’ بھگوان کی مورتی


کچھ رستوں گلیوں سے شناسائی کے بعد اگلے کچھ دنوں میں مزید ایکسپلور کرنے سے ہم پر کھلا کہ ناں ہانگژو شہر میں مسلمانوں کی کمی ہے اور ناں ہی حلال ریسٹورانٹس کی، ہرگلی اور مارکیٹ میں ہمیں حلال ریسٹورانٹ ملنے لگے۔ مگر ان میں زیادہ تر چائنیز سٹائل بے ذائقہ سا فوڈ ہی پیش کرتے ہیں۔ جن میں زیادہ تر نوڈلز شاپس ہی ہوتی ہیں۔ مگر ان نوڈلز شاپ کو آخری آپشن سمجھتے ہیں اور ان کی بجائے اکثر گروسری سٹورز سے خریدے سویٹ کارن، چپس اور بسکٹس وغیرہ سے پیٹ بھر لیتے ہیں۔


دو بار "دبئی” نامی ایک عریبک ریسٹورانٹ میں جانے کا بھی موقع ملا جو کافی شاندار مگر مہنگا تجربہ رہا ۔

دبئی عریبک ریستوران کا پلیٹر

ایک دن ہانگژو سے شنگھائی جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک بہت اچھے درجے کے مسلم ریسٹورانٹ سے کھانے کا اتفاق ہوا، کھانے سبھی چائنیز سٹائل کے تھے، انکے پاس کھانوں کی ورائٹی بہت تھی، پریزنٹیشن بھی متاثر کُن تھی مگر باربی کیو کے سوا کسی شے سے کچھ خاص ذائقہ برآمد نہ کر سکے۔ کل پھر شنگھائی جارہے ہیں اورکچھ اچھی فیڈبیک پر اس بار وہاں سے لبنانی کباب کھانے کا پلان ہے۔ امید ہے اچھا تجربہ رہے گا۔

چین میں دبئی عریبک ریستوران

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے