"چلیے پھر چین ہی چلتے ہیں”

میٹرک کی کتاب میں ابن انشا کا سفرنامہ "چلتے ہو تو چین کو چلیے” صحیح معنوں میں چین کیساتھ میرا پہلا تعارف تھا اور میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ واقعی کبھی چین جا پاؤں گا یا پاکستان کے بعد پہلا ملک جو گھومنے کا موقع ملے گا وہ چین ہو گا۔ دنیا گھومنے کی خواہش تو ہمیشہ سے تھی لیکن ملک سے باہر جانے کا اگر کبھی تصور کیا تو ممکنات کی حد تک سعودیہ، دبئی سے آگے کبھی سوچ جا نہیں سکی۔ اور اب اچانک ہماری کمپنی نے کام کے سلسلے میں مجھے وقتا فوقتا اپنے چائنہ آفس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

25 مارچ کی صبح اتحاد ائیر لائن سے بذریعہ ابوظہبی شنگھائی تک کی فلائٹ ہے۔ اس دوران چین کے جن شہروں میں ہم جائیں گے ان میں فی الحال شنگھائی اور ہینگزو ہی سرفہرست ہیں۔ شاید کوئی اور شہر بھی گھومنے کا موقع مل جائے۔ اس سفر میں زبیر محمد جو میرے کولیگ بھی ہیں شریکِ سفر ہوں گے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ آنے والے کچھ ہفتوں میں اس بندے کو میں کس قدر تنگ کرنے والا ہوں۔

چین میں نہ گوگل چلتا ہے، نہ مائیکروسافٹ، یعنی نہ یوٹیوب، نہ فیس بک، نہ ٹویٹر، نہ سکائپ، اور نہ ہی واٹس ایپ ۔۔۔ ابھی تک چین سے پاکستان میں سوشل رابطے کو لے کر بہت سے سوالات ہیں۔ چین ان سب جدید رابطے کی سہولتوں کے بغیر کیونکر ترقی کر رہا ہے؟
اس کے علاوہ بھی بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات میں پتہ کرنا ضروری ہیں مثلا:
بطور بَٹ چینیوں کی خوراک کا مفصل تجزیہ کرنا چاہوں گا۔ بطور آرٹسٹ وہاں کے آرٹ، پینٹنگز، کلچر، طور طریقے، باقی دنیا کو دیکھنے کا انکا نظریہ اور سوچ کیا ہے؟ چائنہ میں بیٹھا عام چائنیز پاکستان اور پاکستانیوں کے بارے میں کیا سوچ رکھتا ہے؟ اُن سب کی شکلیں ساری دنیا سے وکھری کیوں ہیں؟ کیا اپنی چھوٹی اَدھ کُھلی آنکھوں کیساتھ بھی انہیں دنیا ویسی ہی دِکھتی ہے جیسی کہ پوری آنکھوں کیساتھ ہمیں؟ چائنہ اکانومی کی دنیا میں کیسے سپرپاور بن گیا؟ کیا چائنیز بھی کرپٹ ہیں، اگر نہیں تو چین ہمارا بڑا بھائی کیسے بن گیا؟ میں چائنہ کیوں جا رہا ہوں؟ اور جو کام کرنے جا رہا ہوں کیا میں وہ کر پاؤں گا؟ ۔۔ وغیرہ وغیرہ
ان سب سوالوں کے جوابات جاننے کیلئے، نیز چائنہ کی اصلی تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے کیلئے فالو کرتے رہیں میری اِس قسط وار سیریز کو ۔

خرم امتیاز فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ ہیں جو سوشل میڈیا پر اپنے متوازن نکتہ نظر کے حوالے سے پہچان رکھتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین