جدید چین کا سفرنامہ ۔ شنگھائی سے

’اِنفراسٹرکچر اِن چائنہ‘ کے عنوان سے جدید چین کے سفرنامہ کی اس قسط میں خرم امیتاز دلچسپ تجزیہ اور معلومات سامنے لا رہے ہیں ۔

شنگھائی ائیرپورٹ سے نکل کر سڑک پر آتے ہی جس پہلی شے نے توجہ جکڑ لی وہ شہر کی بے مثال صفائی اور اسکا انفراسٹرکچرتھا۔ دیوقامت عمارتوں کی بہتات، کشادہ سڑکیں، اَن گنت فلائی اوور اور انڈرپاسز، جنکے ساتھ ٹریفک کا بہاؤ ایسا خودکار کہ ہمیں کہیں بھی رکنا نہیں پڑرہا تھا۔ ہمارا ڈرائیور ہمیں ائیرپورٹ سے سیدھا ہانگژو سٹی ہمارے دفتر لیجانے کے لیے گامزن تھا، ہم سڑک کے دونوں جانب نہ ختم ہونے والے رنگ برنگے سٹرکچرز دیکھ کر بت بنے بیٹھے تھے۔ زیرتعمیر عمارتوں اور پُلوں کا تناسب دیکھتے ہوئے گزشتہ سالوں میں بکثرت سنی بات پر آج یقین ہو رہا تھا کہ چائنہ واقعی دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ قومیں سڑک اورانفراسٹرکچر بنانے سے نہیں بنتیں، اسلئے آنے والے دِنوں میں ہمیں اُن دوسرے فیکٹرز کی تلاش بھی کرنا تھی جن کی بدولت چین بے تحاشہ ترقی کر رہا ہے۔ البتہ میرا ہمسفر انصافی کولیگ جسطرح انفراسٹرکچر کے نمونوں پر فریفتہ دکھائی دے رہا تھا، مجھے تو اس کے حلقہءِ پٹوار میں شمولیت کے خدشات بڑھتے دکھائی دینے لگے ہیں ۔


بہت جلد ہم ایک موٹر وے پر رواں دواں ہو چکے تھے۔ اس کا ڈیزائن، سائن بورڈز کے رنگ و ترتیب بالکل ہی پاکستانی لاہور-اسلام آباد موٹروے جیسے لگے۔ یہ سوچ کر مُسرت ہوئی کہ چلو یہاں کچھ تو پاکستان جیسا بھی ہے ۔

اس موٹروے کی بدولت ہانگژو اور شنگھائی کے درمیان فاصلہ تین گھنٹے میں طے ہو جاتا ہے۔
چین چونکہ بہت زیادہ آبادی کا حامل ملک ہے اور اب تک کے فہم کے مطابق میرا گمان تھا کہ ہمیں ہر سمت انسانوں اور گھروں کی بہتات دکھائی دے گی۔ مگر یہاں دو شہروں کی زندگی کے مشاہدے پر گھروں کی بجائے بلندوبالا عمارتوں کا تصور رائج دیکھنے کو ملا۔ دفاتر کے علاوہ عوامی رہائش کیلئے بھی اونچی عمارتوں اور اپارٹمنٹس میں رہنے کا ٹرینڈ دکھائی دیا۔ یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ اپنی بہت زیادہ آبادی کو کسطرح مینیج کرنا ہے۔ یہ اب کسی ایک ڈیزائن کی واحد عمارت تو بناتے ہی نہیں، بلکہ ایک جیسی اکٹھی پندرہ بیس عمارتوں کا بلاک کھڑا کرکے اُسے ٹاؤن یا سوسائٹی کا نام دے دیتے ہیں۔ یعنی لاہور کے جوہر ٹاؤن یا ڈی ایچ کا کوئی ایک بلاک (جو ایک کلومیٹر مربع فٹ جگہ گھیرتا ہو) اسقدر ہی آبادی کو یہ ایک متوسط پارک یا پلے گراؤنڈ سائز کے رقبے میں طویل القامت عمارتیں بنا کر فِٹ کر لیتے ہیں۔ اسلیے آپ شہر میں ہوں یا شہر سے باہر آپکو رہائشی سہولیات کے حامل اپارٹمنٹس والی ہائی رائز عمارتوں کے نہ ختم ہونے والے سلسلے دکھائی دیتے ہیں۔ انہی میں لگژری اپارٹمنٹس والی عمارتوں کے ایلیٹ ٹاؤن بھی ہیں جو ظاہر ہے کہ مہنگے ہیں۔ بہت سی عمارتیں زیر تعمیر دکھائی دیں جن پر دھڑا دھڑ کام جاری تھا۔ 
بعدازاں ہمارے چینی کولیگ ایلن سے جب پوچھا گیا کہ اتنا زیادہ انفراسٹرکچر ڈیویلوپمنٹ کیا واقعی زیادہ آبادی والے چین کی مجبوری ہے؟ کیونکہ ہمیں تو بہت سی نئی عمارتیں تیار مگر خالی بھی دکھائی دیں۔ ایلن کے مطابق اگر ضرورت نہ بھی ہو لیکن جب ایک سہولت فعال کر دی جائے تو مستقبل قریب میں وہ خودبخود ایک ضرورت بن جاتی ہے، نیز یہ سب ڈیویلوپمنٹ چین کو اپنا ہائی جی ڈی پی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ایک نیا ٹاؤن بننے سے کتنی ہی نئی نوکریاں بھی تو پیدا ہوتی ہیں۔


ہانگژو شہر پہنچے تو شنگھائی سے قدرے مختلف احساس ہوا۔ یہاں کمرشل اِزم شنگھائی جیسے بین الاقوامی شہرت کے حامل شہر کی نسبت کچھ کم لگا، مگر گزشتہ پندرہ برسوں میں ہانگژو شہر میں ہوئی ڈیویلوپمنٹ کی بدولت یہ چین کے ایڈوانس ترین شہروں میں شمار ہونے لگا ہے۔ یہ ٹوراِزم سِٹی بھی ہے اور اسے گرین سٹی کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ یہاں آلودگی نام کو بھی نہیں۔ صفائی بے مثال۔ سب سے دلچسپ بات یہ لگی کہ اس شہر میں بڑی بڑی مشینوں کی ذریعے زور و شور سے ڈیویلوپمنٹ جاری ہے مگر انکا کنسٹرکشن میتھڈ کچھ ایسا ہے کہ کہیں دُھول اور مٹی اُڑتی دکھائی دیتی ہے ناں ہی شور شرابے کا احساس ہوتا ہے، مقامِ حیرت تو یہ ہے کہ ہم دو ہفتے سے اس شہر میں ہیں لیکن ابھی تک ایک مکھی یا مچھر تک دریافت نہیں کرسکے۔
‘جی 20’ ممالک کی چین میں ہونے والی پہلی کانفرنس 2016 میں ہانگزو شہر میں منعقد ہوئی تھی اور اب 2022 کے ایشین اولمپیکس کا انعقاد بھی اسی شہر میں ہونے جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہاں بہت سے نئے دیوقامت سٹیڈیم اور مختلف کھیلوں کے میدان بھی زیر تعمیر ہیں۔


چائنیز اور ہانگژو گورنمنٹ کا زیادہ فوکس اب دفاتر کیلئے پروفیشنل ہائی ٹیک ٹاؤنز کی جانب ہے۔ نت نئے بزنس آئیڈیاز کو لے کرجدید سہولتوں سے لیس پورے پورے ٹاؤن بنائے جا رہے ہیں۔ ہر ایک ٹاؤں پندرہ بیس بلند عمارتوں پر مشتعمل ہوتا ہے، جو آپس میں کونیکٹیڈ بھی ہوتی ہیں۔ مثلا ہمارا آٖفس یوہان سٹریٹ پر "آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹاؤن” میں واقع ہے۔ جو کمپنی بھی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے آئیڈیاز اور پراڈکٹس کیساتھ منظرعام پر آتی ہے، اسے حکومت کی جانب سے اس ٹاؤن میں آفس اور تمام سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔ ہمارے ٹاؤن کے بالکل ساتھ ہی "فائیو جی” ٹاؤن ہے۔ اور اس کے آگے "علی بابا ہیڈکواٹرز” کی عمارات اور ایسی ہی بہت سے ٹاؤنز اور عمارتوں کا سلسلہ صرف اس ایک بڑی سڑک کے کنارے واقع ہے۔
یہاں کنسٹرکشن کا بزنس اس لیول پر پہنچ چکا ہے کہ اب نئی عمارت کھڑی کرنا کوئی ایشو نہیں رہا، بلکہ انوکھی اورمنفرد ڈیزائن کی ہائی ٹیک عمارتیں کھڑی کرنے کی دوڑ جاری ہے۔ اپنے دورے کے ابتدائی دنوں میں ہم چوکس ہوکر ہر دوسری عمارت کی تصویر بنانے لگتے تھے، اب مگر تصویریں بنانا بوریت کا کام لگنے لگا ہے کہ اتنی زیادہ تصاویرکا آخر کریں گے کیا؟
ہمارا مستقل قیام ہانگژو میں ہی رہا لیکن اس دوران ہمیں دو بار شنگھائی جانا پڑا۔ شنگھائی میں تاریخی ‘بند بیل ٹاور’ کے سامنے بہتے ‘دریائے ہانگپو’ کے کنارے کھڑے ہو کرجدید ‘شنگھائی فنانشل سینٹر’ (نیو شنگھائی) کا نظارہ دیکھنے والوں کو محبوط کر دیتا ہے۔ اِس فناشل سینٹر میں سینکڑوں بڑی عمارتوں میں دنیا کی دوسری بڑی عمارت ‘شنگھائی ٹاور’ اور دسویں نمبر کی بڑی بلڈنگ "ورلڈ فنانشل سینٹر” بھی شامل ہیں۔ ٹاپ ٹین بلند ترین عمارتوں کی فہرست میں سے پانچ عمارتیں اسوقت چائنہ میں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مزید کئی دیوقامت عمارتیں چائنہ میں زیرتعمیر ہیں جنکی تکمیل پر اگلے برس کے اختتام تک شنگھائی ٹاور دوسرے سے چھٹے نمبر پر چلا جائے گا۔
ہمارے میزبانوں کی مہربانی سے ہمیں شنگھائی ٹاور کے ٹاپ پر جا کر شہر کا طائرانہ جائزہ لینے اور انتظامیہ کی جانب سے عمارت کا فورڈی ٹوور دیکھنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ جسکے بعد احساس ہوا کہ اس عمارت کا ڈیزائن اور سٹرکچر کسی عجوبے سے کم نہیں۔ اب سوچوں تو خواب لگتا ہے مگر کل شام شنگھائی ٹاور کی جس منزل پرمیں کھڑا تھا وہ مقام اسوقت دنیا کا سب سے بلند ترین آبزرویٹری مقام ہے۔ کیونکہ دنیا کی سب سے بلند عمارت برج الخلیفہ کا آبزرویٹری مقام اس سے کم اُونچا ہے۔

متعلقہ مضامین