جسٹس فائز کے خلاف مہم؟

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے فیض آباد میں مذہبی جماعت کے دھرنے پر دیے گئے فیصلے کے خلاف دو ماہ بعد برسراقتدار تحریک انصاف سمیت تین سیاسی پارٹیوں نے نظر ثانی درخواستیں دائر کی ہیں ۔

 متحدہ قومی موومنٹ اور شیخ رشید کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے مختلف پیراگراف ان کے خلاف ہیں اس لیے حذف کیے جائیں ۔ 


تحریک انصاف نے اپنی درخواست میں فیصلہ لکھنے والے جسٹس قاضی فائز عیسی کو بھی نشانہ بنایا ہے اور پوچھا ہے کہ جب دھرنا ختم ہوگیا تھا تو اس کے ایک سال بعد تک کیس چلانا کیسے درست ہے؟


تحریک انصاف کی درخواست وکیل علی ظفر نے دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ‘سیاسی معاملات پر بات کرنے سے ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی ہوتی ہے’ اور اس طرح مذکورہ جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے حلف سے روگردانی کی ۔ 


تحریک انصاف کی درخواست کے مطابق ان کے سنہ 2014 کے دھرنے کو فیض آباد دھرنا سے ملا کر نتائج اخذ کرنا غلط ہے اور عدالت اس پیرا گراف کو حذف کرے ۔

 
ایم کیو ایم کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس فیصلے میں 12مئی سنہ 2007کے قتل عام کا ذکر کیوں کیا گیا؟۔ درخواست میں فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذکورہ پیراگراف کو حذف کیا جائے ۔ 


شیخ رشید نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ان کے بارے میں عدالتی فیصلے میں آبزرویشن غیر ضروری طور پر دی گئی اس لیے حذف کی جائے ۔ عدالت نے آئی ایس آئی کی رپورٹ کی روشنی میں شیخ رشید کے فیض آباد ھرنے والوں کے اسٹیج سے تقریر کا ذکر کیا تھا ۔ 


خیال رہے کہ چھ فروری کو سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں پاکستان کے خفیہ اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے گئے تھے کہ کس طرح مذہبی جماعت کے کارکنوں نے دونوں شہروں کو کئی روز تک بند کرکے ملک میں نفرت پھیلائی ۔

متعلقہ مضامین