چاند نے اسرائیل کو ماموں بنا دیا

اسرائیل کا بریشیٹ نامی خلائی جہاز چاند پر اترتے ہوئے تکنیکی مسائل سے دوچار ہونے کے بعد تباہ ہو گیا ہے ۔

چاند پر اس مشن کا مقصد تصویریں لینا اور تجربات کرنا تھا اور اسرائیل کو امید تھی کہ وہ چاند پر خلائی جہاز لینڈ کرنے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔

چاند پر اس سے قبل صرف تین سرکاری خلائی اداروں نے کامیاب مشن سرانجام دیا ہے جن میں امریکہ، چین اور سابق سوویت یونین شامل ہیں ۔

چاند زمین سے زیادہ فاصلے پر نہیں اور اکثر مشن کو وہاں تک رسائی کے لیے صرف چند دن لگتے ہیں۔

البتہ بریشیٹ مشن جس کو 22 فروری کو فلوریڈا کے کیپ کینیویرال سے لانچ کیا گیا تھا، اپنی منزل تک پہنچنے میں ہفتے لگ گئے۔

اس سفر میں بریشیٹ کو زمین کے بڑے سے بڑے مدار میں چکر لگا کر آگے بڑھانا پڑا جس کے بعد چاند کی کشش ثقل نے اسے اپنی طرف کھینچا اور وہ چاند کے مدار میں 4 اپریل کو داخل ہوگیا۔

اسرائیلی خلائی جہاز کے لیے چاند کی سطح پر ایک محفوظ اور متوازن لینڈنگ کرنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔

انجن کو برطانیہ میں تعمیر کیا گیا تھا جسے نامو نامی خلائی طیارہ ساز کمپنی نے ویسٹکوٹ بکنگھم شائر میں بنایا۔ اس انجن کی بدولت خلائی جہاز چاند پر تو پہنچ گیا مگر بریشیٹ کے لیے اترنے کی یہ آخری کوشش ثابت ہوئی۔

1.5 میٹر اونچے اس خلائی جہاز کو بہت تیزی سے اپنی رفتار کم کرنی پڑی تاکہ انجن کی آخری فائرنگ سے بریک لگائی جاسکے اور خلائی جہاز ایک محفوظ لینڈنگ عمل میں لا سکے۔

نامو میں سینئر پروپلژن انجینئر روب ویسٹکوٹ نے لینڈنگ سے قبل کہا کہ ’ہم نے کبھی ایک انجن کو اس طرح استعمال نہیں کیا۔‘

چاند گاڑی کا پہلا کام تھا کہ وہ ہائی ریزولوشن کیمرا سے تصویریں لیں جس میں ایک سیلفی بھی شامل ہو اور گرنے سے قبل وہ سیلفی لینے میں تو کامیاب ہوگیا۔

اس کے بعد اس جگہ کے مقناطیسی میدان کی پیمائش کی جانی تھی جہاں یہ لینڈ ہوا، اس مقام کو ’میر سیرینٹیٹس‘ کے طور پر جانا جاتا ہے.

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے