نیب غائب، نیب حاضر

پاکستان میں احتساب کا قومی ادارہ نیب ایک ایسی بندوق ہے جو حکمران اور طاقتور حلقوں کو حفاظت جبکہ مخالفین کو ”حفاظتی ضمانت“ فراہم کرتی ہے۔ پاکستان میں نیب کی اہمیت اسی وقت ہوتی ہے جب اسٹیبلشمنٹ کو مشکل درپیش ہو۔

ایسی زبردست ترکیب اور ترتیب سے چلنے والا ادارہ نہ کسی نے دیکھا اور نہ کوئی دیکھے گا۔ لندن میں مٹرگشت کرتے ہوئے ساؤتھ ہال کی ایک شاہراہ پر نیب ٹیلرنگ کا بورڈ دیکھا، اس خوف سے اندر جاکر پوچھنا مناسب نہ سمجھا کہ بھائی کیا کرتے ہو کہ کہیں زندگی بھر کے لیے باہر آنا ہی مشکل نہ ہو جائے۔ معلوم نہیں کس کم بخت نے قومی احتساب بیورو کے قانون میں ایلفی شقیں شامل کر دیں کیونکہ اب یہ سیاسی جوڑ توڑ کے کام بھی آتا ہے۔

اس ادارے میں سب سے بڑی چیئر کو جو مین دیا جاتا ہے اس میں بے شمار خوبیوں کے ساتھ ساتھ مشرقی وومین کی خوبی نمایاں ہوتی ہے، یعنی ہر وہ کام کرے گی جو سرتاج کہیں گے۔ بعض سیاسی جماعتوں پر مسلح ونگ رکھنے کے الزامات ہیں مگر نیب کے ہوتے ہوئے حکومت پر ایسا الزام عائد کرنے کی جرات کوئی نہیں کر سکتا۔

ماضی قریب میں ایک سیاسی جماعت کی خاتون رہنما پر عدالت میں جعلی دستاویزات جمع کروانے پر سزائے موت تک دیے جانے کے مطالبات سامنے آئے، مگر نیب کی جانب سے بے شمار سیاسی مقدمات میں اس کارگزاری پر خاموشی یوں چھائی رہتی ہے جیسے یہ نیب قوانین کہ عین مطابق اور حاملِ ہذا کو مطالبہ پر ادا کرتا ہے۔

میرے دوست کہتے ہیں کہ نیب میں کام کرنے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ پر ساری زندگی کرپشن کا الزام نہیں لگتا اور نیب میں رہتے ہوئے آپ جتنا بھی مال بنائیں اس کی رسیدیں بھی نہیں دینا پڑتیں ۔ نیب کے خدوخال کسی حد تک "کوئی حد نہ رکھنے والوں” سے مماثلت رکھتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ اس ادارے کی پہلی اینٹ ایک فوجی ڈکٹیٹر نے ہی رکھی تھی۔

پاکستان میں نیب کو آپ کسی بھی "چوہدری” کو”دری” تک لانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں اور اس کا الٹ بھی ہو سکتا ہے۔ چوہدری سے یاد آیا کہ حکومت کے ایک چوہدری جو وفاقی وزیر بھی ہیں، انہیں نیب نے اپنی شک والی خوردبین کے نیچے ایک بار پھر پرکھنے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے خلاف رواں برس کے آغاز میں 16 جنوری کو نیب نے بڑا سخت اعلامیہ جاری کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ان کی خواہش پر آصف زرداری، فریال تالپور اور مراد علی شاہ سمیت کسی کو بھی گرفتار نہیں کرسکتے۔ کیونکہ معاملہ حکومت مخالف تھا اس لیے نیب کے ترجمان کے پر جلنے لگے اور بعد ازاں ذرائع سے ٹکر میڈیا کو جاری کرتے ہوئے کہا کہ نیب کیسز پر بیانات کا ریکارڈ منگوایا جا رہا ہے۔ بیانات سے مقدمات میں کسی قسم کی مداخلت ثابت ہوئی تو قانونی کارروائی کریں گے۔ نیب کی جانب سے دی جانے والی دھمکی کی ایک خوراک کھانے کے بعد فواد چوہدری کچھ عرصے کے لیے تو خاموش ہوگئے مگر جانے ان کا نشہ کب اترا اور وہ دوبارہ علیم خان کا نام لے کر نیب پر چڑھ دوڑے ۔

اب خبر یہ ہے کہ نیب نے دوبارہ تقریبا تین ماہ بعد 13 اپریل کو پھر اعلان فرمایا ہے کہ فواد چوہدری کے بیانات کا ریکارڈ منگوا کر جائزہ لیا جائے گا۔ نیب کے موجودہ اور سابقہ اعلامیہ کو دیکھ کر شبہ ہوتا ہے کہ جیسے نیب کو یقین تھا فواد چوہدری مستقبل میں دوبارہ یہ حرکت کریں گے، اس لیے موجودہ اور سابقہ اعلامیہ کی زیر زبر میں بھی فرق نہیں۔

نیب کو پہلے یہ تو بتانا چاہیے کہ انہوں نے جنوری میں لیے جانے والے نوٹس کو ردی کی کس ٹوکری میں پھینکا اور موجودہ کو کس نہر میں بہائیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے