”قتل ہو کر بھی گونجتا ہوں میں“

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں میں مقتول طالب علم مشال خان کی دوسری برسی پر ان کی یاد میں ریلیاں نکالی گئیں ۔

خیبر پختونخوا کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو دو برس قبل توہین مذہب کے الزام میں ساتھی طالب علموں نے تشدد کر کے قتل کر دیا تھا ۔

مشال خان کی دوسری برسی  پراسلام آباد اور راولپنڈی کے طالب علموں نے احتجاجی مظاہرے میں تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں کی بحالی کا مطالبہ کیا ۔

سنیچر کو اسلام آباد پریس کلب کے سامنے جڑواں شہروں کی یونیورسٹیوں کے طلبہ پر مشتمل پروگریسو اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے ’مشال مارچ‘ کے نام سے ایک ریلی نکالی اور مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز بحال کی جائیں۔

اسلام آباد میں طلبہ ریلی سے پرویز ہود بھائی اور دیگر اہم شخصیات نے خطاب کیا ۔ ریلی میں شریک طا لب علموں کا کہنا تھا کہ اگر یونینز ہوتیں تو وہ مشال خان کے لیے آواز بلند کرتیں۔

ریلی میں شریک ترقی پسند اساتذہ کے مطابق تقریباً35 برسوں سے پاکستان میں طلبہ یونینز پر پابندی لگی ہوئی ہے اور آج تک کسی بھی حکومت نے ان کو بحال کرنے کی کوشش نہیں کی۔

پرویز ہود بھائی کا خطاب

ریلی سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ ملک میں پھیلی انتہا پسندی کو ختم کرنے کے  لئے نظام تعلیم تبدیل کرنا ہوگا اور یکساں، جدیدسائنسی تحقیق پر مبنی مفت اور لازم تعلیم ہی معاشرے سے انتہا پسندی کا خاتمہ کر سکتی ہے۔

حیدر آباد، لاڑکانہ اور دیگر شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے