بے بس ہزارہ

رضا شاہ جیلانی
یہ کوئی نئی بات نہیں کہ نشیمن اس سے پہلے نہ جلا ہو یا پھر اس سے قبل کبھی آگ نہ لگی ہو یا ہزارہ کمیونٹی نے اس قبل سو لاشیں رکھ کر کبھی دھرنا نہ دیا ہو ؟
یہ سب کچھ پہلے بھی ہوتا رہا ہے مگر آج کیوں ہوا اور آج کیوں انکے مجرم آزاد ہیں سوال یہ ہے۔
ہمیں اس سوال کو اٹھانے میں جو ہمت آج کے حکمرانوں نے دی ہے یہ ہمت پہلے بہت کم تھی اور خوش قسمتی سے آج انکی حکومت بھی ہے تو سوال کیساتھ ہمیں مضبوط قسم کے جواب کی بھی ضرورت ہے اور آخری بات یہاں پہلے لکھ دوں کہ اس سوال کے جواب کے لیے ہم 83 دن کا انتظا نہیں کر سکتے۔۔
ہزارہ کمیونٹی کی شناخت کبھی کسی دور میں انکا مسلک ہوا کرتا تھا، کسی دور میں انکی شناخت انکی تعلیم انکے علاقے میں بےتحاشہ صفائی ستھرائی ہوا کرتی تھی۔
یہ وہ دور تھا جب بلوچستان کسی بھی شورش افرا تفری سے پاک ہوا کرتا تھا۔
ہم اپنے بچپن میں گرمیوں کی چھٹیاں کوئٹہ کے پرسکون ماحول میں گزارا کرتے تھے۔ سبی سوراب خضدار سے ہوتے ہوئے کوئٹہ کے حسین پرفضا پرسکون ماحول میں پہنچتے ہی ایک الگ دنیا کا نظارہ دیکھنے کو ملتا تھا۔
شام کے وقت گھومنے کی بہترین جگہ ہزارہ ٹاؤن ہوا کرتا تھا۔ صفائی ستھرائی اور تعلیم کے معاملے میں ہزارہ کمیونٹی پورے بلوچستان میں ایک الگ مقام رکھتی ہے۔
کیا وکیل کیا جج کیا ڈاکٹرز سب ہی اس کمیونٹی کا حصہ ہوا کرتے تھے۔
پھر وقت نے کروٹ لی اور ایسی آندھی چلی کہ بلوچستان میں قریب سب ہی جل گیا سب ہی خاکستر ہوتا گیا سب کے پر امن گھروں کے دروازے تک مسلک، قوم پرستی کی آگ نے دستک دے ڈالی۔
بلوچستان کی وہ سڑکیں جہاں امن کے گیت گائے جاتے تھے وہ مارکیٹس جہاں دکانوں کی بڑی تعداد پنجابی ہزارہ اور پختونوں کی ہوا کرتیں تھیں آج وہاں صرف خاموشی بولا کرتی ہے۔
وہ اسپتال، کالجز وہ یونیورسٹیز جہاں پروفیسرز ڈاکٹرز کی بڑی تعداد پنجابی اردو بولنے والے بلوچوں کی تھیں آج انکے دفاتر میں رکھی خالی کرسیاں اور ان پر جمی گرد مٹی ان پر بیٹھنے والوں کی تاریخ بتاتی ملتی ہیں۔۔
محبت کے گیت بلوچستان کے جن بلند و بالا پہاڑوں پر خوب گائے جاتے تھے آج ان ہی پہاڑوں کی چٹانوں سے آگ برستی ہے۔
بلوچستان میں کبھی مسلکی جھگڑوں کا زکر تک تاریخ میں کہیں نہیں ملتا یا کم سے کم میرے علم میں یہ بات نہیں کہ تاریخ کے کسی باب میں بلوچستان میں رہنے والوں نے مسلک یا مذھب کو بنیاد بنا کر کوئی شورش کی ہو۔
مگر آج وہ ہی خاموش طبع ہزارہ برادری ہے جسے خدا جانے کس ظالم کی نظر کھا بیٹھی۔
آج اس ہی ہزارہ کمیونٹی کا ہر گھر متاثرین کی فہرست میں شامل ہوتا جا رہا ہے۔ کئی گھرانے یہاں سے چپ چاپ ہجرت کر گئے اور کئی تیار ہیں، کئی گھرانے اس لیے بھی اب وہاں سے نہیں جا سکتے کہ ان کے وسائل اتنے نہیں اور اس لیے بھی کہ ان کے گھرانے نے صرف ہزارہ ہونے کی خاطر ایک نہیں دو نہیں بلکہ کئی کئی جوانوں کی لاشیں اٹھائے بیٹھے ہیں۔ انکے قبرستان انکے زندہ مردوں سے زیادہ آباد ہیں۔
آج کئی ہزارہ گھرانے ایسے بھی ہیں جن کے گھروں میں اب زندہ افراد اتنے نہیں رہے مگر قبریں انکے زندہ افراد سے کہیں زیادہ ہیں۔۔۔۔
موت بھی شرمندہ ہوتی ہوگی اپنی بےحسی بےبسی پر کہ وہ کن جوانوں کو کھا رہی ہے۔ دھشتگردی اس سے بڑھ کر اور بھلا کیا ہو کہ ان معصوموں ان خاموش طبع لوگوں کو مسلک کی بھینٹ چڑھانے والوں کا نام پتہ سب حکام بالا کو معلوم ہی ہوگا اور اگر معلومات رکھنے والوں کی معلومات کسی وجہ سے کمزور ہیں تو وہ اپنی ٹانگوں کو ہلا کر زرا تکلیف دے لیں اور ہزارہ ٹاؤن چلے جائیں اور جا کر کسی بچے سے بھی پوچھ لیں کہ اس کے باپ بھائی چچا کے قتل کے پیچھے کون ہے۔۔۔
ہزارہ بہادر قوم ہے اور بہت بے باک بھی ہے، وہ کسی حجت کے بغیر قاتلوں کا نام بھی بتا دے گی اور ہاتھ پکڑ کر قاتلوں کے سیف ھاؤسز تک بھی لے جائے گی مگر کارروائی کرنے کا اختیار اس نے صرف حکام کو دے رکھا ہے اور لاشیں اٹھانے کا کام اس نے خود اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھا رکھا ہے۔۔
گر آپ کے گھٹنوں میں گودا ہے گر آپ کی ٹانگوں میں جان باقی ہے اگر آپ کے بازؤں میں زرا ہمت جوانی مردانگی باقی ہے تو اٹھیے ہزارہ ٹاؤن جائیے، یتیموں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھئے، بیواؤں کو امید دلائیے، بزرگوں کو سینے سے لگائیے جوانوں کے صبر انکے گرتے نہ تھمتے آنسوؤں کو پوچھئے ماؤں بہنوں کی سکتہ لاچار خاموش زندہ لاشوں کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر انہیں ہوش میں لائیے انہیں یقین دلائیے کہ اب بس بہت ہوگیا۔۔
اب مزید کوئی شھادت برداشت نہیں ہوگی اور اس کام لیے بجٹ کا مسئلہ آڑے آرہا ہو یا پیسے کم پڑ رہے ہیں تو اگلے چند ماہ یہ قوم بھاری گئس بجلی کے بل دینے کی مزید کچھ طاقت رکھتی ہے مگر خداراہ اب یہ کھیل تماشہ ختم ہونا چاہیے۔۔
ختم تو مطلب ختم۔

متعلقہ مضامین