”پاک ترک اسکولز دہشت گرد ہیں“

پاکستان کی سپریم کورٹ کے دو ججوں نے کہا ہے کہ پاک ترک اسکولز چلانے والے ترک النسل افراد دہشت گرد ہیں ۔

سپریم کورٹ نے پاک ترک اسکولز اصل مالکان کو حوالے کرنے کے لیے نظرثانی درخواست ناقابل سماعت ہونے کی بنا پر خارج کردی ہے۔

تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس شیخ عظمت سعید نے وکیل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نام بدل کر لوگوں کو دوبارہ بیوقوف بنانا چاہتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کے ذریعے منی لانڈرنگ اور دہشت گرد تنظیموں کی فنڈنگ کی گئی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا ہم یہاں دہشتگردوں کی پشت پناہی کے لیے بیٹھے ہیں؟ آپ عدالت میں ایک دہشت گرد تنظیم کا دفاع نہیں کرسکتے۔

بینچ کے رکن جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ترک حکومت اور ترک سپریم کورٹ بھی اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے چکے ہیں، دیگر چالیس ممالک بھی ان سکولوں کو بند کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ترک حکومت کے ساتھ ہے، پاکستان کی وزارت داخلہ اور وزارت خارجہ نے بھی اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان اسکولوں کی انتظامیہ کے خلاف دائر ایک درخواست کو متنازع طریقے سماعت کے لیے مقرر کر کے فیصلہ جاری کیا تھا ۔

سابق چیف جسٹس نے اسکول انتظامیہ کو سنے بغیر ان کو دہشت گرد قرار دیا تھا ۔ فیصلے کے چند دن بعد سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ترکی کے دورے میں صدر رجب طیب اردوآن سے ملاقات بھی کی تھی ۔

خیال رہے کہ پاک ترک اسکولز صدر رجب طیب اردوآن کے مخالف گولن تنظیم کے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button