سپریم کورٹ میں قتل کا مجرم گرفتار

رضوان عارف

پاکستان کی سپریم کورٹ نے قتل کے ایک ایسے مجرم کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرنے کا حکم دیا جس کو پشاور ہائیکورٹ نے بری کر دیا تھا ۔

مجرم اختر سلیم کو اس کے والد فضل ربی کے ساتھ مانسہرہ میں ٹرائل کورٹ نے دہرے قتل کا الزام ثابت ہونے پر عمر قید سنائی تھی ۔

اختر سلیم نے مانسہرہ کے گاؤں چوتار بفہ میرا میں اپنے دو برادر نسبتی قتل کیے تھے ۔

سپریم کورٹ نے گھریلو تنازع پر قتل کیس میں اپیل سنتے ہوئے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے مجرم اختر سلیم کو فی الفور گرفتار کرنے کا حکم دیا جس کے بعد اسے کمرہ عدالت سے حراست میں لے کر تھانہ منتقل کر دیا گیا ۔


اسی مقدمے میں چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اختر سلیم کے والد فضل ربی کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے ملزموں کی جانب سے کیس میں التواء کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ آپ کو اس حوالے سے دو ماہ قبل نوٹسز جاری کیئے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے آپ کو دو ماہ کا وقت دیا تھا جو اپنے ضائع کر دیا۔ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا کہ آج کا کام آج ہی ہوگا۔

ضلع مانسہرہ میں اختر سلیم نے اپنے دو برادران نسبتی کو گھریلو تنازع پر قتل کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے مجرم اختر سلیم اور والد فضل ربی کو عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔ ہائی کورٹ نے دونوں ملزموں کو بری کرنے کا حکم دیا تھا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے