’فیصلے کے خلاف کون کون آیا؟‘

پاکستان کی سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کی جانب سے فیض آباد دھرنے کے خلاف دیے گئے فیصلے پر تاحال عمل نہیں ہوا مگر اس پر نظرثانی کے لیے فوج اور حکمران جماعت تحریک انصاف نے درخواستیں دائر کی ہیں ۔

سپریم کورٹ کے فیض آباد میں مذہبی جماعت کے دھرنے پر دیے گئے فیصلے پر نئی نظرثانی درخواست دائر کرتے ہوئے عمران خان کی جماعت نے استدعا کی ہے کہ اس فیصلے کو ختم کیا جائے کیونکہ ان کا دھرنا اور مطالبات غیر قانونی نہیں تھے ۔

اس سے قبل تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر کی دائر کردہ نظرثانی درخواست میں فیصلہ لکھنے والے جج جسٹس قاضی فائز عیسی پر تنقید کی گئی تھی ۔ اس درخواست کو سپریم کورٹ کے رجسٹرار دفتر نے اعتراضات لگا کر واپس کر دیا تھا ۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے لکھے گئے اس فیصلے پر متحدہ قومی موومنٹ ، شیخ رشید احمد، اعجاز الحق، انٹیلی جنس بیورو، الیکشن کمیشن آف پاکستان اور آئی ایس آئی نے بھی نظر ثانی درخواستیں دائر کی ہیں ۔  

آئی ایس آئی اور فوج کی جانب سے وزارت دفاع کی دائر کردہ درخواست میں فیصلے کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔ درخواست کے مطابق فیصلے سے جنگ لڑنے والے فوج کے سپاہیوں کے مورال پر اثر پڑ سکتا ہے ۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے فیض آباد دھرنا کیس فیصلے میں کہا تھا کہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان اپنی کمانڈ کے نیچے کام کرنے والے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں جنہوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ۔

فوج کی نظرثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کے کسی افسر یا اہلکار نے سیاست میں مداخلت نہیں کی اس لیے فیصلے اور آبزرویشن کو واپس لیا جائے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے