امجد آفریدی دہشت گرد کیسے بنا؟

عظمت گل / نمائندہ خصوصی پشاور

پاکستان کے شہر پشاور کے علاقے حیات آباد کے ایک گھر کا محاصرہ کرنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے آپریشن میں پانچ افراد کو ہلاک کیا اور بعد ازاں مکان کو دھماکے سے اڑا دیا ۔

سیکورٹی فوسز نے دعوی کیا کہ مارے جانے والے پانچوں افراد دہشت گرد تھے اور ان کی نعشیں تحویل میں لی گئیں ۔

سیکورٹی ذرائع کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر اور معلومات کے مطابق اس آپریشن میں مارے گئے ایک دہشت گرد کا نام امجد آفریدی تھا ۔

فراہم کی گئی معلومات کے مطابق پشاور کے حیات آباد حملے میں ہلاک ایک دہشت گرد امجد آفریدی کی لاش لواحقین کے حوالے کی گئی ہے اور تحصیل باڑہ کے علاقے برقمبر خیل جانباز کلی میں سپرد خاک کیا گیا ۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق امجد آفریدی کی نعش بدھ کی رات گئے آرمی نے لواحقین کے حوالے کی گئی جبکہ دیگر چار دہشت گردوں کی لاشیں بھی شناخت کے بعد لواحقین کے حوالے کئے جانے کا امکان ہے ۔

تاحال امجد آفریدی کے بارے میں یہ معلومات سامنے نہیں لائی گئیں کہ وہ دہشت گرد کیسے بنا تاہم سیکورٹی ذرائع کا دعوی ہے کہ وہ پشاور میں کی جانے والی ہر واردات کے بعد بیرون ملک جاتا تھا ۔

اس سے قبل سیکورٹی فورسز نے اس آپریشن میں مارے گئے ایک دہشت گرد کو افغان شہری بتایا تھا ۔

سیکورٹی ذرائع کے مطابق حیات آباد آپریشن میں مارے جارے جانے والے افغان خود کش بمبار کی شناخت عمران مہمند کے نام سے ہوئی جس کی عمر اکیس سال اور افغان صوبے ننگرہار کا رہائشی ہے۔

سیکورٹی ذرائع کے دعوے کے مطابق خود کش بمبار تین روز قبل افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوا تھا جس کا پاسپورٹ سیکورٹی اداروں کی تحویل میں ہے۔

ادھر باردو سے اڑائے گئے گھر کے ملبے اور آس پاس سے مقامی بچوں کو موبائل فون ملے ہیں ۔ یہ فون بعد ازاں انسداد دہشت گردی محکمہ کے اہلکاروں کے حوالے کیے گئے ۔

اس سے قبل دعوی کیا گیا تھا کہ مکان سے تمام ثبوت حاصل کرنے کے بعد اسے گرایا گیا ۔

امجد آفریدی کے اہل خانہ سے ان کا مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے تاہم ان کی جانب سے تاحال جواب موصول نہیں ہوا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے