شہباز شریف کو نوٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور فواد حسن فواد کی ضمانت کے خلاف احتساب کے قومی ادارے نیب کی اپیلیں سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے فریقوں کو دو مئی کیلئے نوٹس جاری کیے ہیں ۔

نیب کے وکیل نعیم بخاری کے ابتدائی دلائل کے بعد جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ لاہورہائیکورٹ نے ضمانت کی درخواست سنتے ہوئے فیصلے میں شہبازشریف پرالزامات مسترد کرتے ہوئے قراردیا کہ تمام ٹھیکے میرٹ پردیے گئے ۔

بخاری نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے ضمانت سے متعلق طے کردہ اصولوں کے منافی ہے

جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے شہبازشریف اورفواد حسن فواد کی آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیس میں ضمانت منسوخی کے لیے نیب کی اپیلوں کی سماعت کی ۔

نیب وکیل نعیم بخاری کےعدالت میں پیش ہوئے اور دلائل دیتے ہوئے کہاکہ سوشل میڈیا پرغلط خبریں چلائی گئیں جس کے باعث پیش علاج کرانے جانے کے بجائے عدالت میں پیش ہو رہا ہوں ۔

جسٹس عظمت سعید نے دلائل دینے کی ہدایت کی تو نعیم بخاری نے کہا کہ لاہورہائیکورٹ نے ضمانت کی درخواست مںظورکی جو کہ سپریم کورٹ کے ضمانت سے متعلق طے کردہ اصولوں کے منافی ہے، مقدمے کے تمام میرٹ زیربحث آچکے ہیں ٹرائل میں کچھ بھی نہیں بچا ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے شہبازشریف پرالزامات سےمتعلق پوچھتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ نے ضمانت کیس میں الزامات مسترد کرتے ہوئے قراردیا کہ تمام ٹھیکے میرٹ پردیے گئے ۔

وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ شہبازشریف آشیانہ سکینڈل کے ماسٹرمائنڈ ہیں جنہوں نے کمپنی سربراہ کو گھر بلا کرہدایات دیں، شہبازشریف کے فیصلوں سے احد چیمہ کا ہاتھ مضبوط ہوا ۔

نیب کے وکیل نے فواد حسن فواد سے متعلق بتاتے ہوئے کہاکہ ملزم کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کا بھی کیس ہے جنہوں نے راولپنڈی میں عالی شان پلازہ تعمیرکیا، احد چیمہ جیل میں ہو تو شہبازشریف اور فواد حسن فواد باہرکیسے رہ سکتے۔؟

سپریم کورٹ نے نیب کی اپیلیں سماعت کیلئے منظورکرتے ہوئے شہبازشریف اورفواد حسن فواد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت دومئی تک ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے