قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے گویا اپنا دل چیر کر رکھ دیا ہے ۔ درد مند چیف جسٹس جب جج تھے تب بھی پاکستان کو سسلین مافیا کے چنگل سے نکالنے کی فکر میں رہتے تھے ۔ پاکستان میں کارخانے اور صنعتی زونز سی پیک کی تکمیل کے ساتھ ساتھ لگنا تھے عقل مند چینیوں نے پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری سے توانائی کا بحران ختم کر دیا تھا تاکہ جب وہ صنعتی زونز لگائیں انہیں توانائی کی قلت کا سامنا نہ ہو ، لیکن سی پیک سے پہلے بحریہ ٹاون پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالہ سے ایک ماڈل بن گیا تھا ۔بیرون ملک مقیم پاکستانی سالانہ ایک محتاط اندازے کے مطابق دس ارب ڈالر کے لگ بھگ سرمایہ کاری بحریہ ٹاون میں کرتے تھے اور پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا 70 فیصد کاروبار بحریہ ٹاون کا تھا سب اس میں پیسے کماتے تھے ۔سیاہ دھن کا بڑا حصہ سفید ہوتا تھا اور مارکیٹ میں اس کامیابی نے ڈی ایچ اے اور پی اے ایف کو بھی ہاوسنگ اسکیمین بنانے اور لانچ کرنے پر لگا دیا تھا ۔


بحریہ ٹاون نے ناجائز قبضے کئے اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچایا یہ انکشاف سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری پر اس وقت ہوا جب انکی ریٹائرمنٹ میں محض چند ماہ باقی تھے ۔حالیہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی اپنی ریٹائرمنٹ کے آخری مہینوں میں بحریہ ٹاون میں بدعنوانی کا خیال آگیا ۔


پاکستان میں سب مایا ہے ۔ ملک ریاض کے ساتھ سپریم کورٹ میں معاملہ طے پا گیا ہے لیکن رئیل اسٹیٹ بیمار ہے ۔ سپریم کورٹ میں معاملہ طے پانے کے باوجود ڈی ایچ اے ، ائر فورس، بحریہ سمیت تمام ہاوسنگ اسکیمیں سرمایہ کاروں کا انتظار کر رہی ہیں ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بحریہ میں سرمایہ کاری کا مزا چکھ لیا ہے ۔ اب یہاں کوئی نہیں آتا ۔ ایسی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کر گھر یاد آتا ہے ۔

درد مند چیف جسٹس نے کرپشن سے پاک پاکستان کیلئے خلوص اور قانونی نظائر کے مطابق بحریہ ٹاون کا معاملہ حل کیا تھا لیکن سرمایہ کار پھر بھی نہیں آرہے ۔ چیف جسٹس کو اگر معاشی حالات پر مایوسی ہے تو حب الوطنی کی دلیل ہے ۔اعلی عدلیہ کے ججوں سے زیادہ بہتر کون جانتا ہے کہ رئیل اسٹیٹ کا شعبہ معیشت کی بہتری میں کیا کردار ادا کرتا ہے ۔ یہ محض اتفاق ہے اب اس شعبہ میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ۔


2006 میں پاکستان سٹیل ملز فروخت ہو رہی تھی۔ ایک کنسورشیم کو قبولیت کا خط بھی جاری کر دیا گیا تھا ۔ ڈالر 60 روپیہ کا تھا سٹیل ملز کے نقد 50 کروڑ ڈالر مل رہے تھے ۔ نجکاری اور سرمایہ کاری کے عمل میں بے ”پناہ تجربے“ کے حامل چیف جسٹس افتخار چوہدری نے قومی خزانے پر ڈاکہ مارنے کی یہ کارروائی روک دی اور قبولیت کا خط منسوخ کر دیا ۔ آج پاکستان اسٹیل ملز نے 70 ارب نیشنل بینک کے دینے ہیں ۔50 ارب سوئی ناردرن کے ادا کرنے ہیں ۔دس ارب روپیہ کی ملازمین کی تنخواہیں واجب ہیں اور دو سو ارب روپیہ کے دیگر واجبات ہیں ۔

اسٹیل ملز 2016 سے بند ہے اور ملازمین کو تنخواہیں بھی نہیں مل رہیں ۔2013 میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے اس سفید ہاتھی سے جان چھڑانے کی آخری کوشش کی لیکن جن غیرملکی سرمایہ کاروں نے اسٹیل ملز خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی انہوں نے مشترکہ طور پر حکومت سے ریاستی ضمانت طلب کی کہ ڈیل ہونے کی صورت میں ڈیل مکمل ہو گی کوئی دوسرا ادارہ ڈیل منسوخ نہیں کرے گا ۔ نواز شریف یہ ضمانت دینے سے قاصر تھے ۔

پاکستان اسٹیل اگر 2006 میں فروخت ہو جاتی تو ہو جاتی اب چار سو ارب روپیہ کے واجبات ہیں اور تین سو ارب روپیہ میں جدید ٹیکنالوجی کی نئی اسٹیل ملز لگ جاتی ہے یعنی اب اسٹیل ملز پلے سے پیسے دیں پھر بھی فروخت نہیں ہو گی ۔ جس جج نے نجکاری کا عمل منسوخ کیا تھا اس نے عدالتی دستانے پہنے ہوئے تھے اس لئے اس کے ہاتھوں پر چار سو ارب روپیہ کا خون تلاش نہیں کیا جا سکتا ۔
پاکستان نے ریکو ڈیک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے دنیا بھر میں روڈ شو منعقد کئے ۔چلی اور کینڈا کی ایک کمپنی نے سرمایہ کاری پر آمادگی ظاہر کی ۔سونے اور تانبے کی مائینگ کے اس منصوبے میں صوبائی حکومت 25 فیصد کی حصہ دار تھی ۔ غیر ملکی کمپنی ٹھتیان TCC نے منصوبے پر پانچ ارب ڈالر خرچ کر دیے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ کے سونے اور تانبے کے ماہر جج پر انکشاف ہوا یہ قومی خزانے پر ڈاکہ ہے ۔ کسی نے معاہدے کے خلاف درخواست دی ۔ درخواست منظور ہوئی چند شنوائیاں ہوئیں اور معاہدہ منسوخ ہو گیا ۔ غیر ملکی کمپنی تلملاتی ہوئی عالمی ثالثی عدالت میں پہنچ گئی ۔عالمی ثالثی عدالت میں پاکستانی عدالتوں کے محب وطن کاکنی کے ماہر جج نہیں بیٹھتے بلکہ وہ اپنی معاونت کیلئے دنیا کے بہترین ماہرین کی مدد حاصل کرتے ہیں ۔

ثالثی عدالت نے 2013 سے 2016 تک معاملہ کی سماعت کی اور پاکستان پر سرمایہ کاری معاہدہ کی خلاف ورزی کا الزام درست قرار دے دیا ۔ پاکستان پر بھاری جرمانہ ہوا ۔

جس عدالت نے معاہدہ منسوخ کیا تھا اس کے ججوں نے حب الوطنی اور قانون کے دستانے پہنے ہوئے تھے ملکی معیشت کا خون ان کے ہاتھوں پر تلاش نہیں کیا جا سکتا اور کرے گا کون ؟


پاکستان توانائی کی طلب و رسد کے شدید عدم توازن کا شکار تھا ۔پاکستان کی درخواست پر ترکش کمپنی کارکے نے رینٹل پاور پلانٹ کے ذریعے بجلی کی فراہمی کا عمل شروع کیا اور تین جہازوں کے ذریعے بھاری سرمایہ کاری کر دی ۔ پاکستانی سپریم کورٹ کے اعلی ترین جج پر انکشاف ہوا قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے ۔ کارکے کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر دیا اور جہاز روک لئے گئے ۔کمپنی روٹی پیٹتی عالمی بینک کی ثالثی عدالت جا پہنچی ۔عالمی ثالثی عدالت نے کمپنی کا موقف درست قرار دے دیا اور پاکستان پر 70 کروڑ ڈالر جرمانہ عائد کر دیا ۔یہ پیسے پاکستان کو ادا کرنا ہیں جتنی دیر ہو گی سود پڑھتا جائے گا ۔ جس جج نے یہ معاہدہ منسوخ کیا تھا وہ بہت درد مند تھا اس کا دل ملکی معیشت کی حالت دیکھ کر روتا تھا ۔اب جس جج نے دردمندی کے دستانے پہن رکھے ہوں اس کے ہاتھوں پر بھلا ملکی معیشت کے خون کا کوئی داغ کیسے آ سکتا ہے ۔یہ معیشت کا قتل تھوڑی ہے یہ تو کرامات ہیں ۔

کسی شاعر نے اس لیے کہا تھا "تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو”۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے