ابھی تو صرف آٹھ ماہ ہوئے ہیں، عمران خان


پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کا مؤقف درست ہے مگر ان کا لہجہ ٹھیک نہیں ۔ ابھی ہماری حکومت کو صرف آٹھ ماہ ہوئے ہیں ۔ کیا اتنا بڑا جرم کیا ہے کہ حکومت ہٹا رہے ہیں؟ جو وزیرملک کیلیے فائدہ مند نہیں ہوگا اسے تبدیل کردوں گا۔

خیبر پختونخوا کے ضلع اورکزئی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 27 سال پہلے اس علاقے میں آیا تھا اور جب دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو سارے قبائلی علاقوں میں پھرا، میں نے بار بار کہا کہ امریکہ کے کہنے پر فوج کو قبائلی علاقےمیں نہ بھیجا جائے لیکن اس میں قصور فوج کا نہیں بلکہ اس حکمران کا ہے جس نے امریکہ کے کہنے پر فوج کو ان علاقوں میں بھیجا جب کہ کسی اور وزیراعظم کو قبائلی علاقے کی سمجھ نہیں جو مجھے ہے، مشرف کو قبائلی روایات اور تاریخ کا پتہ نہیں تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان قبائلیوں کی قربانیوں کو نہیں بھولے گا اور یہاں کے لوگوں کی پوری مدد کرے گا، ہم نے قبائلی علاقے کے لوگوں کو ترقی دینی ہے، جب جنگ ہوتی ہے تو بے قصورلوگ مارے جاتے ہیں، پختون تحفظ موومنٹ والے بات ٹھیک کرتے ہیں لیکن ان کا لہجہ ٹھیک نہیں، پی ٹی ایم پشتونوں کی تکلیف کی بات کرتی ہے، لوگوں کو واقعی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، یہی باتیں میں 15 سال سے کر رہا ہوں۔

عمران خان نے پشتون تحفظ موومنٹ کے بارے میں کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ صرف لوگوں کو ظلم کے خلاف بھڑکانا اور پھرکوئی حل پیش نہ کیا جائے، لوگوں کو اپنی فوج کے خلاف کرنے سے ملک کو اور قبائلی علاقوں کو کیا فائدہ ہوگا،  سوچنا چاہیے کہ آگے کیسے بڑھنا اور حالات بہتر کرنا ہے، حل یہ ہے کہ ظلم کا شکار لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اورکزئی بہت خوبصورت علاقہ ہے، ہم نے ملک میں سیاحوں کیلئے سہولتیں بڑھانی ہیں، ساراعلاقہ سرمایہ کاری کیلئے کھولیں گے، ہرخاندان کو ہیلتھ انشورنس کارڈ دے رہے ہیں، حکومت کے پاس پیسے ہوتے تو کمزور طبقوں کو اٹھاتے اور نوجوانوں کو نوکریاں دینا میری حکومت کا سب سے بڑاچیلینج ہے جب کہ مدرسے کے بچوں کی تعلیم کے لیے ہم پورا زور لگانے لگے ہیں، مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کو روزگاردیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہے سارے مل کر کہتے ہیں حکومت فیل ہو گئی، ابھی 8 مہینے ہوئے ہیں، کیا اتنا بڑا جرم کیا ہے کہ حکومت ہٹا رہے ہیں، جمہوریت نہیں چوری کا پیسہ خطرے میں آگیا ہے، ان کو ڈر ہے عمران خان 2 سال بھی رہے گا  تو یہ سب جیل میں ہوں گے کیوں کہ ہرروز ان کی کرپشن کی داستانیں آرہی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پچھلے 10 سال حکمرانی کی اور چوری کی اور ملک کو لوٹا، آج سے 10 سال پہلے ملک پر6 ہزار ارب روپے کا قرضہ تھا، 6 ہزار ارب سے ملک پرقرضہ 10 سال میں 30 ہزار ارب کر دیا گیا، 3 گھرانوں نے چوری کرنا شروع کی، صرف ایک دن سود کی مد میں 6 ارب سے زیادہ دیتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قرضے ملک پراس لیے چڑھے کیوں کہ مشرف نے نواز شریف اورآصف زرداری کو این آراو دیا، این آراوملنے کے بعد ان لوگوں کی آمدنی بڑھتی گئی اورملک پر قرضےچڑھتے گئے، لندن میں بیٹھا نوازشریف کا بیٹا کہتا ہے وہ پاکستانی نہیں اورجوابدہ نہیں، اب شہباز شریف اوراس کے بچوں کی کرپشن اورمنی لانڈرنگ سامنے آ گئی ہے۔

وزیراعظم نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ کا نام لے کر کہا کہ اپنی ٹیم پرنظر رکھنا ہمارا کام ہے، کسی بھی کھلاڑی نے کارکردگی نہیں دکھائی تو اسے تبدیل کردوں گا، میں نے اپنی ٹیم میں بھی بیٹنگ آرڈر تبدیل کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے