دہشت گرد ایران میں چھپتے ہیں، پاکستان

پاکستان نے اورماڑہ گوادر میں 14 افراد کی دہشت گردی میں ہلاکت کے واقعہ پر ایران سے احتجاج کیا ہے۔

پاکستان میں ایران کے سفارت خانے کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعہ میں ملوث افراد نے ایران میں پناہ لے رکھی ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے اس حوالے سے پریس کانفرنس میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے دورہ ایران سے قبل 20 کے قریب دہشت گردوں نے پاکستان کی سرزمین پر حملہ کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نیوی کے 10 پاک فضائیہ کے 3 اور کوسٹ گارڈ کا ایک ملازم شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم جاننا چاہتی ہے کہ یہ واقعہ کیوں ہوا۔

شاہ محمود نے کہا کہ ”سب جانتے ہیں کہ دہشت گردوں کا ایک اتحاد سامنے آچکا ہے۔بلوچ تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ ہم نے الزام تراشی کے لیے بھارت کی طرح جلد بازی نہیں کی۔“

انہوں نے کہا کہ ہم نے مصدقہ اطلاعات کا انتظار کیا۔ بلوچ گروہ کو ایران کی سرزمین سے مدد فراہم کی گی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کو قابل ایکشن شواہد اور ٹھکانوں کی اطلاعات فراہم کردیے گے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ایران ان تنظمیوں کے خلاف بھرپور کاروائی کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر ایسے موجود ہیں جو ایران اور پاکستان کے تعلقات کو خراب کرنا چاہتے ہیں، یہ اسپائلرز ہوتے ہیں جو حالات بہتر ہو رہے ہیں انہیں خراب کرنا چاہتے ہیں، ایسے عناصر ہر جگہ موجود ہوتے ہیں ۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ جب بھی پاکستان کے عہدیدران ایران جانے لگتے ہیں ایسے واقعات ہو جاتے ہیں, ایسا کیوں ہوتا ہے؟ جواب ایک ہی لائن میں دوں گا کہ جانم سمجھا کرو ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے