جسٹس قاضی فائز کے خلاف قرارداد

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں وکیلوں کو لائسنس جاری کرنے والے فورم بار کونسل نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف فیض آباد دھرنا کیس فیصلے پر قرارداد منظور کی ہے ۔

پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ”جسٹس قاضی فائز نے فروری میں دیے گئے فیصلے کے ذریعے قانون کے اصولوں کو مکمل طور پر مسخ کیا ہے۔“

بار کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین افتخار ابراہیم قریشی اور دیگر پانچ ارکان کے دستخطوں سے جاری کی گئی قرار داد میں مطالبہ گیا ہے کہ ”جسٹس قاضی فائز کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی شروع کی جائے۔“

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس فیصلے پر وفاق پاکستان نے نظرثانی درخواست دائر کر کے درست کام کیا ہے کیونکہ اس فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے بغیر کسی ثبوت اور حقائق جانچے پاکستان کی فوج کی تضحیک کی ہے۔

قرارداد کے مطابق فیصلے کے ذریعے جسٹس قاضی فائز نے ”خفیہ ایجنسیوں پر سنگین بہتان لگا کر ان کو سرکش قرار دینے کی کوشش کی ہے اور اس طرح را، انڈیا اور دشمن کے بیانیے کو مضبوط کیا ہے۔“

قراداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ”دشمن کے خلاف ملکی بقا کی مختلف محاذوں پر جنگ لڑنے والی پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے کام کو سراہنے کے بجائے جسٹس قاضی فائز نے بغیر کسی میرٹ کے تضحیک کی ہے۔“

پنجاب بار کونسل کی قرار داد میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے برطرف کیے گئے جج شوکت عزیز صدیقی کے ہٹانے کے سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کی حمایت کی گئی ہے ۔

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ کراچی بار ایسوسی ایشن نے اس کونسل کی رائے کے خلاف درخواست دائر کی ہے جس کی پنجاب کے وکیل حمایت نہیں کرتے بلکہ اس کو مسترد کرتے ہیں ۔

خیال رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیض آباد دھرنا کیس فیصلے کے خلاف آئی ایس آئی، تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور انٹیلی جنس بیورو سمیت سات فریقوں نے نظرثانی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے