دفاع پر 1700 ارب لگ جاتے ہیں، وزیراعظم

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ  سابق حکمرانوں نے لوٹ مار کی اور اب ان کو جیل جانے کا ڈر ہے اس لیے حزب اختلاف کو حکومت گرانے کی جلدی ہے ۔

اتوار کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ’نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم‘ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف پر تنقید کی ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ برے معاشی حالات کی وجہ ماضی کے حکمرانوں کی لوٹ مار ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ملک کے تینوں بڑے خاندانوں نے سارا پیسہ چوری کرکے ملک سے باہر بھیج دیا، اس طرح کونسا ملک چل سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں روز ان کے کرپشن کی نئی چیزیں مل رہی ہیں اس لیے یہ گھبرائے ہوئے ہیں ا ور ان کی کوشش ہے کہ جلدی سے عمران خان کی حکومت گرائیں کیونکہ ان سب نے جیل چلے جانا ہے۔’

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’ہم اپنی پانچ سالہ مدت پوری کریں گے اور دکھائیں گے کہ قرضے کم ہوئے یا بڑھ گئے۔‘

عمران خان نے کہا کہ ماضی میں حکمرانوں نے ملک کے ساتھ جو کیا وہ دشمن بھی نہ کریں۔ ’سنہ 2008 سے 2018 تک قرضے چھ ہزار ارب روپے سے 30 ہزار روب رپے تک پہنچا دیے گئے۔ ٹیکس کی مد میں ملک میں ساڑھے 4ہزار ارب روپے جمع ہوتے ہیں جن میں سے دو ہزار ارب روپے ان قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے باقی دو ہزار ارب روپے صوبے لے جاتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 1700 ارب روپے دفاع کی مد میں چلے جاتے ہیں۔ وفاقی حکومت کا خزانہ 700 ارب روپے کے خسارے سے شروع ہوتا ہے۔

عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کے بارےمیں کہا کہ  پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ عام آدمی کی ضرورت کے پیش نظر بنایا گیا ہے ۔ ’تنخواہ دار طبقے کی کرپشن کی بڑی وجہ  بھی یہ ہے کہ ان کی تنخواہوں سے گھر نہیں بن سکتے اس لیے ہم انہیں گھر بنا کر دے رہے ہیں۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ پچاس لاکھ گھر نہیں بن سکتے ۔ پانچ سال بعد ہوسکتا ہے کہ پچاس لاکھ گھروں سے بھی زیادہ بن جائیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ’ہم غریب اور کمزور طبقے کو اٹھائیں گے اور اسی اصول کی بنیاد پر ریاست مدینہ نے اپنے وقت کی عظیم طاقتوں کو گرایا۔‘

عمران خان نے کوئٹہ میں بم دھماکے متاثرین کے وفد دے ملاقات کی اور ہزارہ برادری کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے