اصغر خان کیس میں نئی رپورٹ، پرانا جواب

پاکستان کی سپریم کورٹ میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے اپنی تفتیشی رپورٹ جمع کراتے ہوئے ایک بار پھر کہا ہے کہ نوے کی دہائی میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی جانب سیاست دانوں میں رقم کی تقسیم کے شواہد دستیاب نہیں ہیں اس لیے معاملہ ٹرائل میں نہیں جا سکتا ۔

ایف آئی اے کے جواب کے مطابق تفتیش کے لیے سپریم کورٹ کے دو اپریل کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر مجیب الرحمان خان کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں ادارے کے تین ڈائریکٹرز مجاہد اکبر خان، سید فرید علی اور چاند اشرف کو شامل کیا گیا ۔

اس انکوائری کمیٹی نے صحافیوں حبیب اکرم اور مجیب الرحمان شامی کے انٹریو کیے جبکہ سکینڈل کے اہم کردار ملٹری انٹیلی جنس کے سابق بریگیڈئیر حامد سعید سے سوالات کیے ۔

ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق انکوائری کمیٹی نے معاملے کے ایک اور کردار یوسف میمن ایڈووکیٹ کا بھی انٹرویو کیا ۔

انکوائری کمیٹی نے سینئر صحافی عارف نظامی اور نسیم زہرہ سے بھی رابطہ کیا اور ان کو سمن بھیجے مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔

انکوائری کمیٹی نے چار بنکوں کے سربراہوں سے ان اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے بھی رابطہ کیا جن سے نوے کی دہائی میں سیاست دانوں کو رقم دی گئی تاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہوا جس کے بعد کمیٹی نے کراچی کا سفر کیا ۔

انکوائری کمیٹی نے کراچی میں بنکوں کے متعلقہ افسران سے ملاقات کی ۔ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق یونائیٹڈ بنک کے دونوں اکاؤنٹس کی تفصیلات نہ مل سکیں جبکہ مسلم کمرشل بنک نے ایک بنک اکاؤنٹ کے صرف کھولے جانے اور بند کیے جانے کی تاریخیں بتائیں ۔

ایم سی بی اور نیشنل بنک سے ایک ایک اکاؤنٹ کی تفصیلات حاصل کی گئی مگر ان میں کارآمد معلومات نہیں ہیں ۔ الائیڈ بنک نے جواب دیا کہ جس اکاؤنٹ کی تفصیلات مانگی جا رہی ہیں وہ 1996 سے قبل بند کیا جا چکا ہے ۔

ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس مقدمے کو ٹرائل کورٹ میں چلانے کے لیے کافی اور مطلوبہ شواہد موجود نہیں ہیں ۔

خیال رہے کہ گذشتہ سماعت پر پاکستان کی سپریم کورٹ نے نوے کی دہائی میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے افسران کی سیاست دانوں میں رقم تقسیم کرنے کے مشہور اصغر خان کیس فیصلے پر عمل درآمد کے مقدمے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے سے ضمنی رپورٹ طلب کی تھی ۔

عدالت نے کہا تھا کہ بینک اکاؤنٹس کون چلا رہا تھا اس کی نشاندہی کریں ۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ رپورٹ میں یہ بھی نشاندھی کریں کہ کون سا ریکارڈ موجود نہیں ۔

چار اپریل کو جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں مقدمے کی سماعت کرنے والے بنچ نے ہدایت کی تھی کہ ایف آئی اے پیسے لینے والوں سے متعلق شواہد یا شکوک سے آگاہ کرے اور رپورٹ میں بتایا جائے کہ جو ریکارڈ ملا نہیں وہ کس کے پاس ہونا چاہیے ۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ رقم لینے سے انکار کرنے والوں کا نام بھی رپورٹ میں شامل کیا جائے۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے جس راستے پر لے کر جانا چاہتی ہے اس راستے پر نہیں جائیں گے، ہم کیس بند کرنے نہیں جا رہے ۔

درخواست گزار اصغر خان کے ورثا کے وکیل سلمان راجا نے کہا تھا کہ کچھ لوگوں نے اپنے رول کو تسلیم کیا ہوا ہے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے ۔

جسٹس عظمت نے کہا کہ ہم مرحلہ وار اس کیس کو لے کر چلیں گے اور نظر رکھنی ہے جہاں پہنچنا ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے